Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،عائشہ گل

نقطہ نظر

انٹرویو: "بچپن سے قلم تک اور قلم سے نور تک"

ayeshagul

سوال 1: عائشہ گُل، اپنے بچپن اور تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب:میرا بچپن ایک عام گھرانے میں گزرا۔جہاں ہر روز محبت بھری شفقت نگاہوں میں گزرتا۔ کتابوں سے محبت بچپن سے تھی۔ میں نے دنیاوی تعلیم قریبی سکول سے حاصل کی اور پھر آگے قرآن کی تعلیم اور ادب کی طرف قدم بڑھایا۔


سوال 2: لکھنے کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟

جواب: یہ شوق بچپن سے تھا۔ جب دل پر کوئی بات اثر کرتی تو اسے لفظوں میں ڈھالنے کا دل کرتا۔سکول کی کاپی کہ پچھلے صفحات پر شاعری دیکھ کر لکھنا۔ پھر آہستہ آہستہ یہ شوق عبادت بن گیا۔


سوال 3: قرآن کی تعلیم اور ادب کو آپ نے کیسے جوڑا؟

جواب: جب میں نے قرآن پڑھنا اور سمجھنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ ہمارے پاس ایسا مواد کم ہے جو نوجوان نسل کو دین کے قریب لائے۔ بس وہیں سے فیصلہ کیا کہ قلم کو دین کی خدمت کے لیے استعمال کروں گی۔میرے اللہ نے مجھے اس کام کے لئے منتخب کیا شکر الحمد للہ۔



سوال 4: آپ کی پہلی تحریر کون سی تھی اور کیسا ردعمل ملا؟

جواب: پہلی تحریر ایک چھوٹی سی چار لائنوں کی تھی ۔ شروع میں ہی میری دوستوں کی جناب سے پزیرائی ملی جب نے پڑھا تو کہا "تمہارے لفظ دل کو لگتے ہیں"۔ بس وہی حوصلہ میری پہچان بن گیا۔


سوال 5: ایک معلمۂ قرآن ہونے کے ناطے آپ کا روزمرہ کا دن کیسا گزرتا ہے؟

جواب: گھر کے معمولات کے ساتھ، قرآن کی کلاس، بچیوں کو پڑھانا، ان کا ادب دیکھنا... یہی میری زندگی ہے۔ بچیوں کا قرآن سے جُڑنا میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔


سوال 6: آپ کے نزدیک ایک اچھے لکھاری کی کیا نشانیاں ہیں؟

جواب: اچھا لکھاری وہ ہے جس کی نیت صاف ہو۔ جو لفظوں سے زخم نہ دے بلکہ مرہم رکھے۔ جو قلم کو امانت سمجھ کر چلائے۔کیونکہ قلم سے جہاد کرنا ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔


سوال 7: موجودہ دور میں نوجوان نسل کو ادب سے دور ہوتے دیکھ کر کیا محسوس ہوتا ہے؟

جواب: دکھ ہوتا ہے۔ موبائل اور سوشل میڈیا نے کتاب کی جگہ لے لی ہے۔ لیکن میں پر امید ہوں کہ اگر ہم اچھا مواد دیں تو نوجوان ضرور پلٹیں گے۔قرآن پاک ہے اراشاد ہے: کہ مومن کو نصیحت کرو کیونکہ نصیحت اثر رکھتی ہے۔


سوال 8: آپ نے قرآن کی تعلیم کے دوران کن مشکلات کا سامنا کیا؟

جواب: آغاز میں تو پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا،شروع کے دو سپارے بس ایسے ہی یاد کر لئے۔لیکن ایک دن ایسا آیا کہ جب استاد محترم نے اصلاح فرمائی کہ پاکیزہ علم پاکیزہ دلوں پر اترتا ہے۔پھر اس دن سمجھ آئی کہ اصل میں سبق یاد کیوں نہیں ہوتا ہے،اللہ کے فضل سے سب سے پہلے دل۔کو صاف کرنے کی کوشش کی اور اللہ سے بہت دعا کی۔پھر اللہ کا شکر ہے منزل آسان ہوگئی،اور سبق سنانے کے بعد شاباش ملنا معمول بن گیا۔


سوال 9: آپ کو ناول "دلِ محجوب" لکھنے کا خیال کیسے آیا؟ اور اس کی کہانی کیا ہے؟ کیا آپ بتانا چاہیں گی؟

جواب: جی ضرور ، میں ایک طالبۂ قرآن ہوں۔ اپنی کلاس کا منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ باجی جان کا باادب آنا، بچیوں کا احترام سے سلام کرنا، اور پھر سر جھکا کر قرآن پڑھنا... وہ ماحول، وہ نور، وہ سکون میرے دل میں اتر گیا تھا۔

اسی سوچ سے "دلِ محجوب" نے جنم لیا۔

اس کہانی میں حقیقی محبت سے ابدی محبت تک کا سفر ہے۔

میرے قلم نے کوشش کی ہے کہ دکھایا جائے کہ ایک انسان دنیا میں رہتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق کیسے مضبوط رکھ سکتا ہے۔

کیونکہ اصل محبت تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہے، اور باقی سب فنا ہے،پھر یہی محبت انسان کی روح کو جِلا بخشتی ہے۔

یہ ناول پڑھ کر کوئی مسکرائے گا، کوئی روئے گا بھی... کیونکہ اس میں زندگی ہے، جذبات ہیں، اور دعائیں بھی ہیں۔

اور ہو سکتا ہے کسی کردار میں آپ کو اپنی ہی جھلک نظر آ جائے۔ میری دلی خواہش ہے کہ قارئین اسے ایک بار ضرور پڑھیں۔ شاید یہ چند صفحات کسی کے دل میں ہدایت کی روشنی جگا دیں۔اور میرے لئے آخرت کا ذخیرہ بن جائیں۔اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ میرے اس ناول کی پزیرآئی پر مجھے ادبی ادارے کی جانب سے گولڈ میڈل سے بھی نوازہ گیا۔جو میرے لئے بہت قابل قیمتی سرمایہ ہے۔الحمد للہ


سوال 10: عائشہ گُل، اس ادبی سفر میں آپ کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب: شروع سے لے کر آج تک مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ کوئی بھی کام آسان نہیں ہوتا ہر کام میں محنت درکار ہے۔مالی طور پر بہت نقصان اٹھایا۔ لیکن دل کے اندر خود کو بہت مضبوط پایا۔ اس سفر میں لوگوں کے اصل چہرے بھی سامنے آئے۔ سمجھ آیا کہ یہاں کوئی اپنا نہیں ہوتا۔ لوگ منہ پر "بہن" کہتے ہیں اور پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں۔ ادب بھی تو اسی دنیا کا حصہ ہے۔ جہاں اچھے لوگ ہیں وہاں برے لوگ بھی ہیں۔ کچھ لوگوں نے مجھے بار بار گرانے کی کوشش کی۔ لیکن میرے رب کا فضل تھا، نبی کریم ﷺ کی نظرِ عنایت تھی، اور سب سے بڑھ کر میری ماں کی دعائیں میرے ساتھ تھیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے گرنے نہیں دیا۔ گری ضرور، لیکن اٹھی اور پھر سے جدوجہد شروع کی۔ ( کیونکہ ہم نے خود کو گرا لیا ہے وہاں گرنے والے جہاں سنبھلتے ہیں۔)آج میں ان لوگوں کی بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے دھوکہ دیا۔ کیونکہ کچھ نقصان بھی انسان کی بھلائی کے لیے ہی ہوتے ہیں۔


سوال 11: کیا آپ کو اس رائٹنگ کی دنیا میں کوئی ارننگ ہوتی ہے؟

جواب: سچ کہوں تو ابھی تک نہیں۔

جس دن سے قلم اٹھایا ہے، آج تک ایک روپیہ بھی اس میدان سے نہیں ملا۔ جو کچھ بھی کیا، اپنی محنت، اپنی جیب اور اپنے زورِ بازو سے کیا۔ اور آغاز سفر میں گمان بھی نہیں تھا کہ ارنگ کا کوئی سلسلہ بنے گا۔بے لوث بغیر لالچ کے قلم چلایا ہے۔


ہر جگہ رجسٹریشن فیس، ہر مقابلے میں فیس... ایک وقت آیا کہ معاشی حالات نے کہا "بس اب نہیں"۔

کبھی سوچتی ہوں کہ ایک رائٹر کا مستقبل کیا ہے؟ وہ اپنے گھر کا چولہا کیسے جلائے؟ ہمارے ہاں افسوس کے ساتھ یہ نظام نہیں ہے۔ باہر ممالک میں ایک آرٹیکل پر ہی تین سے پانچ ہزار تک معاوضہ مل جاتا ہے۔ لیکن یہاں اکثر لوگ "رائٹرز" کے نام پر خود کماتے ہیں۔

آج تک میری کتابوں کے لیے کسی نے سپانسر نہیں کیا۔ جو بھی چھپا، سب اپنے بل بوتے پر کیا۔

پھر بھی شکوہ نہیں۔ کیونکہ یہ قلم اللہ کی رضا کے لیے اٹھایا ہے۔اور ہمیشہ اسباب بھی اللہ تعالی نے پیدا کئے۔ بس دل کی خواہش ہے کہ آنے والے وقت میں ہمارے ملک میں بھی لکھاریوں کے لیے عزت اور معاشی سہارا ہو۔تاکہ کوئی رائٹر بننے سے کترائے نہیں۔


سوال 12: آخر میں نئے قلم کاروں کے لیے کیا پیغام ہے؟

جواب: میرا پیغام نئے قلم کاروں کے نام یہ ہے:

قلم صرف سیاہی کا نام نہیں، یہ ایک امانت ہے۔ لکھاری وہ نہیں جو بس صفحے بھر دے، لکھاری وہ ہے جو ٹوٹے دلوں کو جوڑے، بھٹکی روحوں کو راستہ دکھائے، اور اندھیروں میں چراغ جلائے۔ یاد رکھیے! لفظ اگر دل سے نکلیں تو دلوں میں اتر جاتے ہیں۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اصل معنوں میں لکھاری کا حق ادا کرنے کی توفیق دے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اس جہاد میں ہمیشہ حق پر قائم رہنے اور ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین یا ربّ العالمین۔

( سپاس گزارعائشہ گُل)