آرگینک اور اِن آرگینک ادب، چند سوالات،تحریر : اظہر سجاد
نقطہ نظر
گزشہ دِنوں عصرِ حاضر کے معتبر شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ماجد شاہ صاحب کا ایک مکالمہ " آرگینک (Organic) اور ان آرگینک (In Organic)ادب۔۔۔چند سوالات" سوشل میڈیا کے ایک معقر ادبی پلیٹ فارم پر پیش کیا گیا۔ اِس مکالمے میں بہت اہم سوالات اُٹھائے گئے۔ اُس مکالمے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور لوگوں، خصوصاً تخلیق کار وں میں پائی جانے والی بے چینی کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہ مکالمہ اس وقت پیش کیا گیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے متعلق عجیب و غریب افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔
ماجد شاہ صاحب نے اپنے مضمون میں چند اہم سوالات اُُٹھائے ہیں۔ اِن سوالات کے ساتھ اُنھوں نے ایک نوٹ میں یہ وضاحت بھی کی کہ؛ ہم صرف ان ادبی تحریروں کی بات کر رہے ہیں جنہیں پرامپٹ (Prompt)کی مشاقی سے تیار کیا گیا ہو، اے آئی کے پیش کردہ تخلیقی مواد کی چھان پھٹک اور نوک پلک خود مصنف نے درست کی ہو تاکہ کارکردگی بہتر ہو سکے یا سہولت سے استفادہ کیا جائے۔ اُنھوں نے مزید وضاحت کی کہ اس میں ہرگز وہ تحریریں شامل نہیں ہیں جن میں کوئی موضوع دے کر بغیر نظر ثانی کے کوئی تحریر اے آئی سے لکھوا لی گئی ہو۔
سب سے پہلا سوال تھا کہ" کیا اے آئی سے خوفزدہ ہونا نیوفوبیا (Neo Phobia)ہے؟" ماجد شاہ نے اِس سوال کی بنیادی وجہ اُس افراتفری کو قرار دیا ہے جو ہمیں سوشل میڈیا پر تواتر کے ساتھ نظر آ رہی ہےاور اب یہ مطالبہ ہر ادبی پلیٹ فارم پہ دہرایا جاتا ہے کہ "آپ کی تخلیق مصنوعی ذہانت کی بجائے آپ کی اپنی ہونی چاہے۔" شاید کچھ لوگ مصنوعی ذہانت کو نیو فوبیا (Neo Phobia) تسلیم کرنے سے ہچکچائیں ، مگر میرا خیال ہے کہ نیو فوبیا یقیناً ہے۔ یہ وہ خوف ہےجس کا سامنا ہم اور ہمارے آبا و اجداد؛ کاغذ، سِکوں ، لاوڈسپیکر ز ، تصویروں ، ریڈیو، ٹیلی وژن اور کیبل کے سلسلے میں کر چُکے ہیں۔ آج صورتِ حال ہمارے خدشات سے بالکل مختلف ہے ک، کیوں کہ اِن ساری قباحتوں کے خلاف دیے گےا فتاویٰ کا انبار اب کہیں گُم ہو کر رہ گیا ہے اوراب یہ سب کچھ ہماری زندگی کا جزوِ لاینفک ہے۔نئی ٹیکنالوجی یا نامعلوم تبدیلی کو قبول نہ کرنے کی ہماری عمومی ذہنیت سے پیدا ہونے والے ازلی خوف کی وجہ سے اب بھی ہم مصنوعی ذہانت کے کردار کو قبول کرنے سے کترا رہے ہیں۔
دوسرا سوال ادب میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال،تخلیق اور تخلیق کار کے حوالے سے تھا؛ کہ " اگر داخلی انفراد کی بدولت آرٹیفیشل اِنٹیلی جنس سے تخلیق لکھوائی جائے تو اُسے کس بنیاد پر تخلیقی بحران کہا جا سکتا ہے؟" ماجد شاہ صاحب نے یہ بھی سراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ" پرامپٹ کوئی سادہ حکم نہیں ہے بلکہ وہ بنیاد ہے جسے تخلیق کار اپنے تخیل میں تعمیر کے مکمل خاکے کے ساتھ پیش کرتا ہے۔" اِس بارے میں عمومی نقطہِ نظریہ ہو سکتا ہے کہ تخیل کی بنیاد پر پرامٹ دینا کافی نہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر تخلیق کار اپنی داخلی انفرادیت، فکر، تجربے اور تخلیقی شعور کو استعمال کر کے اے آئی سے کچھ تخلیق کرواتا بھی ہے تو اسے تخلیقی بحران نہیں کہا جا سکتا۔ بحران تو تب کہا جا سکتا ہے جب انسان پور ی کی پوری تخلیقی ذمہ داری اے آئی کے حوالے کر دے۔
ماجد شاہ صاحب کا تیسرا سوال پرامپٹ اور تخلیق کار کے تخیل میں تعمیر شدہ ایک مکمل خاکہ پیش کر کے فائنل ڈرافٹ کی نوک پلک خود درست کرنے کے بارے میں ہے ۔ سوال یہ اُٹھایا گیا کہ "کیا اس کے باوجود بھی اسلوب بے روح اور مشینی ہی رہے گا، کیسے؟" یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا شاید ذرا مشکل اور پیچیدہ لگے۔ پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر تخلیق کار کا تخیل برقرار رہے تو یقیناً تخلیق میں انسانی احساسات اور جذبات نمایاں رہیں گے، جو کہ اے آئی کے پاس نہیں اور وہ اسلوب نہ بےروح ہو گا اور نہ ہی مشینی رہے گا۔
چوتھے اور آخری سوال میں ماجد شاہ صاحب نے اپنے مکالمے کا نچوڑ پیش کیا ہے۔ یہ سوال مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے جنم لینے والی بے یقینی کے دور میں، جسے ماجد شاہ صاحب نے ہائبرڈ نظام کہا ہے، تخلیقات پر سوال اُٹھا کر ایک واضح مؤقف اپنانے کی بات کی ہے کہ؛ " کیا اِس ہائبرڈ نظام میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ 'جس کا پرامپٹ اس کی تخلیق؟ '" یہی وہ حتمی نتیجہ ہے جس کی شاید ماجد شاہ وضاحت چاہتے ہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے جیسے ہم تبدیلی کو قبول نہ کرنے کی فطرت پر قائم رہتے ہوئے اِسے آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ اِس کی کچھ وجوہ بھی ہو سکتی ہیں ، جیسے یہ کہ ہم ابھی تک مصنوعی ذہانت کے استعمال، وسعت اور میکینزم کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں اور اِس بارے میں کچھ لوگوں، اداروں اور ممالک کی جانب سے پھیلائے جانے والے خوفناک انکشافات کو بنا سوچے سمجھے رد یا قبول کر لیتے ہیں۔ اِنھی خدشات کی وجہ سے پُرانی جنریش اُلجھن کا شکا ر نظر آتی ہے۔ تاہم میں ذاتی طور پر اس بات کا حامی ہوں کہ یہ تبدیلی ناگزیر ہے۔ اِس سے پہلے کہ یہ ہم پر مسلط ہو اور ہم پہلے کی طرح ایک روشن حقیقت کو جھٹلائیں ، اُس کے خلاف محاذ کھڑا کریں ، اِسے بخوشی قبول کر لینا چاہیے ۔ادب کے حوالے سے بھی اِ س بات کو قبول کر لینا چاہیے کہ'جس کا پرامپٹ اس کی تخلیق'۔ کیوں کہ اے آئی پر چیک پہلے ہی لگ چکا ہے، کچھ ممالک میں اسے کنٹرول کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور نئی نسل بھی مصنوعی اور حقیقی تخلیق میں امتیاز کرنے لگی ہے۔ یہ بھی امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی اے آئی کی تخلیقات خود بخود فلٹر ہونے لگیں گی۔ آخر یہ انسان کی تخلیق ہے اور انسان نے ہی اسے چلانا ہے بالکل اُسی طرح جس طرح پہلے بہت سی مشینیں چلا رہا ہے۔ یہ بات بھی سب کو مدِ نظر رکھنے چاہیے کہ یہ تخلیق کار کے لیے ایک چیلنج ہے جو یقیناً ادب اور ادیب کو نئی دنیاؤں سے روشناس کروانے کا باعث بنے گا۔ بلا شبہ ماجد شاہ صاحب کو مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اُنھوں نے بروقت ایک اہم موضوع پہ قلم اُٹھایا بل کہ اُس پر جاندار مباحثے کا آغاز بھی کیا۔





