خیبر پختونخوا حکومت میں شدید تشویش اور افراتفری کی کیفیت

خیبر پختونخوا میں اس وقت سہیل آفریدی کی حکومت میں تھر تھلی مچی ہوئی ہے ۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت میں شدید تشویش اور افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے کیونکہ سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کے تمام لوگوں کو سخت احکامات دیے ہیں کے وہ کل شام تک پچھلے ایک سال میں دیے گئے تمام ٹھیکوں، منصوبوں اور لین دین کی فائلیں سہیل آفریدی کو جمع کروا دیں تاکہ جانے کے بعد کسی بھی چیز کا ثبوت نا رہے-
سینئیر صحافی و تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ جب سے یہ پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں آئی ہے، انہوں نے گڈ گورننس اور عوام کے مسائل پر بہت کم توجہ دی ہے۔علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کا بظاہر مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے جبکہ صوبے کے معاملات سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پولیس اور سی ٹی ڈی (CTD) جیسے اہم اداروں پر بہت کم توجہ دی گئی ہے اور انہیں وسائل، گاڑیوں اور تربیت یافتہ عملے سے محروم رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردی میں بہت حدتک اضافہ ہوا ہےجب بھی پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں توصوبائی حکومت انہیں ڈس اون کرتی ہے اور جنازوں میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے کہتی ہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے شہریوں نے سیاسی احتجاج اور سڑکوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ صوبے کے عوام کو مشکلات کے بجائے امن اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کی ضرورت ہے۔ شہریوں نے موقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف ملک میں امن لانے کے بجائے صرف شر و فساد پھیلانے والی جماعت ہے جو ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگل رہی ہے، لہٰذا اس روش کو ترک کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے حالات کو بہتر بنایا جائے اور عوام کو مشکلات میں ڈالنے کے بجائے معمولاتِ زندگی کو بحال کیا جائے۔
مزید پڑھیں





