Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شوکت یوسفزئی نےلانگ مارچ ملتوی کرنے کیلئے پارٹی چیئرمین کو خط لکھ دیا


پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دے دیا-


پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کے لیے پارٹی قیادت کو خط لکھا شوکت یو سفزئی کی جانب سے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ملک کے وسیع ترمفاد میں لانگ مارچ فوری ملتوی کیا جائے، بیرونی خطرات اور دہشتگردی میں اضافے کے پیش نظر احتجاج ملتوی کیا جائے۔


انہوں نے لکھا کہ وفاقی حکومت کچھ ایشوز کو بنیاد بنا کر ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے، ریاست سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کی راہ ہموا ر کی جائے افغانستان سے ممکنہ حملہ ایمرجنسی کا جواز بن سکتا ہے، وفاقی حکومت کے پی حکومت پر تعاون نہ کرنے کا بیانیہ بنا رہی ہے، صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، دہشتگردی کو سپورٹ کرنے کا الزام لگا کر پارٹی پر پابندی لگ سکتی ہے، بانی چیئرمین عمران خان نے بھی ماضی میں ورکرز کی جانوں کے تحفظ کے لیے لانگ مارچ ختم کیا تھا، میری گزارشات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔


دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیرصدارت پی ٹی آئی کا غیر رسمی اجلاس ہوا،اجلاس میں بھی پارٹی رہنماؤں نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ اپیکس کمیٹی کااجلاس بلالیں وگرنہ ایمرجنسی لگ جائےگی-


پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی سربراہی میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں وزیراعلیٰ کے علاوہ خیبر پختونخوا کے پارٹی صدر جنید اکبر اور منتخب اراکین بھی شریک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض پارٹی رہنماؤں کی جانب سے ایک بار پھر 4 اکتوبر کے مارچ کی تاریخ پر نظرثانی کی تجویز سامنے آ رہی ہے، جس کے باعث قیادت تاریخ کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہے۔


پی ٹی آئی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اجلاس کا واحد ایجنڈا 4 اکتوبر کے مارچ کی تاریخ ہے۔ اجلاس میں مشاورت کی جا رہی ہے کہ مارچ کی تاریخ برقرار رکھی جائے یا اسے مزید موخر یا ملتوی کیا جائے, مارچ کی تاریخ کا اعلان سہیل آفریدی نے کیا تھا اور وہ مجموعی طور پر اس کی تیاریوں کی بھی نگرانی کر رہے ہیں ان کے مطابق سہیل آفریدی اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور پارٹی کے اندر سے بھی مارچ موخر یا ملتوی کرنے کے مشورے آ رہے ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے قریبی ساتھیوں اور پارٹی قیادت سے مشاورت کر رہے ہیں اور حتمی فیصلہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے مشاورت کے بعد ہی کریں گے۔


پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ جنید اکبر اور بعض دیگر رہنما مارچ کے حق میں ہیں، جبکہ مخالف گروپس سے تعلق رکھنے والے کچھ رہنما بھی مارچ کے انعقاد کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کا موقف ہے کہ مارچ نہ ہوا تو کارکنوں کے سامنے ان کا تاثر متاثر ہوگا اور وہ کارکنوں کے دباؤ میں ہیں۔


انہوں نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی نے گزشتہ روز بھی اپنے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی اور وہ مارچ کے انعقاد پر بضد ہیں، تاہم ان کے قریبی ساتھیوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ مارچ کی صورت میں حکومت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ان کی وزارتِ اعلیٰ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔


یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور جلسے میں 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا، جبکہ 27 ستمبر سے صرف 36 گھنٹے قبل انہوں نے خود مارچ کو 4 اکتوبر تک موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب 4 اکتوبر کو بھی مارچ موخر کرنے کے معاملے پر مشاورت کی جا رہی ہے۔



خیبرپختونخوا دہشت گردی، بدامنی، بے روزگاری اور ناقص حکمرانی کے مسائل سے دوچار ہے، جبکہ صوبہ تقریباً 2 ہزار ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام آباد کی جانب احتجاج کے بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دینا ضروری ہے