Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شوگر ڈیڈی،تحریر : محمد سبحان شوق

نقطہ نظر
subhann

ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں محبت کے معنی صرف بدل نہیں رہے بلکہ بعض اوقات ان کے ساتھ قیمت بھی جڑتی دکھائی دیتی ہے۔ موبائل فون کی ایک اسکرین پر بیٹھا ہوا شخص کسی اجنبی سے چند لمحوں میں رابطہ قائم کر سکتا ہے، اپنی زندگی کی خواہشات بیان کر سکتا ہے اور دوسری طرف موجود شخص اپنی دولت کے ذریعے اس کی بہت سی خواہشات پوری کرنے کی پیشکش کر سکتا ہے۔ اسی بدلتی ہوئی دنیا میں ایک اصطلاح گزشتہ برسوں میں خاصی نمایاں ہوئی ہے جسے ’’شوگر ڈیڈی‘‘ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر شوگر ڈیڈی سے مراد ایسا نسبتاً زیادہ عمر یا مالی طور پر مستحکم شخص ہوتا ہے جو کسی کم عمر شخص کو مالی مدد، تحائف، مہنگی تفریح، رہائش یا دوسری آسائشیں فراہم کرتا ہے اور اس کے بدلے میں رفاقت، توجہ یا قربت حاصل کرتا ہے۔ بعض تعلقات میں صرف ’’کمپینین شپ‘‘ یعنی رفاقت کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ بعض میں جذباتی یا جنسی قربت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ایک طرف ضرورت ہو اور دوسری طرف دولت تو دونوں انسان بظاہر رضامندی سے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں لیکن اس تعلق کے اندر طاقت ہمیشہ برابر نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر ڈیڈی کلچر کو صرف ایک جدید رومانوی رجحان سمجھنا شاید اس مسئلے کی پوری تصویر دیکھنے کے مترادف نہیں ہوگا۔


یہ تصور اچانک آج کی پیداوار نہیں ہے۔ دولت مند سرپرست اور کم معاشی حیثیت رکھنے والے افراد کے درمیان تعلقات انسانی تاریخ میں مختلف شکلوں میں ملتے رہے ہیں لیکن ’’شوگر ڈیڈی‘‘ ایک مخصوص جدید اصطلاح ہے جس کے ابتدائی مطبوعہ شواہد بیسویں صدی کے اوائل میں ملتے ہیں اور 1920 کی دہائی میں یہ لفظ امریکی معاشرتی زبان کا حصہ بننا شروع ہوا۔ بعد میں مقبول ثقافت نے اس تصور کو مزید شناخت دی اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نے اسے ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ پہلے کسی دولت مند شخص اور کم عمر ساتھی کے درمیان ایسا تعلق محدود سماجی حلقوں یا ذاتی رابطوں تک رہ سکتا تھا لیکن ڈیجیٹل دور نے اسے تلاش کرنے، رابطہ کرنے اور اپنی شرائط طے کرنے کے لیے باقاعدہ آن لائن پلیٹ فارم مہیا کر دیے۔ 2000 کی دہائی میں ایسے پلیٹ فارمز سامنے آئے جنہوں نے دولت مند افراد اور مالی معاونت کے خواہش مند افراد کو براہ راست ایک دوسرے سے ملانے کا کام شروع کیا۔ یوں ایک ایسا تعلق جو کبھی سماجی پردوں میں چھپا رہتا تھا اب موبائل ایپ، ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پروفائل کی شکل میں سامنے آ گیا۔


پاکستان میں اس رجحان کی بات کی جائے تو یہاں سب سے پہلے ایک حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہمارے پاس کوئی قابلِ اعتماد قومی سروے موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ پاکستان میں کتنے شوگر ڈیڈی یا شوگر بیبیز ہیں یا یہ رجحان کتنے فیصد بڑھ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر بے شمار دعوے، ویڈیوز اور ذاتی تجربات ضرور گردش کرتے رہتے ہیں لیکن ان سب کو قومی سطح کا مستند اعداد و شمار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں ایسا رجحان موجود نہیں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے حجم کو ناپنے کے لیے ہمارے پاس فی الحال قابلِ اعتماد قومی اعداد و شمار موجود نہیں۔ پاکستان میں اس موضوع کی حساسیت بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے کیونکہ تعلقات، جنسی رویوں، مالی معاملات اور خاندانی عزت سے متعلق گفتگو عموماً کھلے عام نہیں کی جاتی۔ بہت سے معاملات پردے کے پیچھے رہتے ہیں اور جو کچھ سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے وہ پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اس لیے اس مسئلے کو سنسنی خیز اعداد و شمار کے بجائے سماجی تبدیلی کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔


لیکن سوال یہ ہے کہ آخر پاکستانی معاشرہ اس تبدیلی کے لیے اتنا حساس کیوں ہو رہا ہے۔ اس کا جواب صرف ایک لفظ یعنی ’’بے حیائی‘‘ میں تلاش کرنا شاید آسان ضرور ہے لیکن مکمل نہیں۔ اس کے پیچھے معاشی دباؤ، طبقاتی فرق، سوشل میڈیا سے پیدا ہونے والی مصنوعی خواہشات، مہنگائی، نوجوانوں کی مالی مشکلات اور تیزی سے بدلتا ہوا طرزِ زندگی بھی موجود ہے۔ ایک نوجوان جب ہر روز اپنی موبائل اسکرین پر مہنگی گاڑیاں، برانڈڈ کپڑے، غیر ملکی سفر، مہنگے ہوٹل اور آسائشوں سے بھری زندگی دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں کامیابی کا ایک ایسا معیار بن سکتا ہے جو اس کی حقیقی معاشی زندگی سے بہت دور ہو۔ پھر جب وہ دیکھتا ہے کہ اس زندگی تک پہنچنے کے لیے تعلیم، ملازمت اور برسوں کی محنت درکار ہے لیکن کوئی دولت مند شخص چند ملاقاتوں، تحائف یا مالی مدد کے ذریعے اسے وہی آسائشیں فوری طور پر فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تو ایک خطرناک کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ یہاں سے سوال محبت کا کم اور ضرورت، خواہش اور قیمت کا زیادہ ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شوگر ڈیڈی کلچر صرف دو افراد کا نجی معاملہ نہیں رہتا بلکہ معاشرے کے معاشی اور اخلاقی ڈھانچے سے جڑ جاتا ہے۔


اس رجحان کا سب سے بڑا خطرہ شاید یہ نہیں کہ ایک دولت مند شخص کسی کم عمر شخص پر پیسہ خرچ کر رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ ایک دوسرے کو ضرورت کے پیمانے سے دیکھنے لگے۔ جب تحفہ کسی توقع کے ساتھ دیا جائے، جب مالی مدد کے ساتھ وقت، توجہ یا قربت لازم ہو جائے اور جب تعلق کی قدر اس بات سے طے ہونے لگے کہ اس میں کتنی آسائش مل رہی ہے تو محبت اور لین دین کے درمیان لکیر دھندلی ہونے لگتی ہے۔ ایک شخص کے پاس دولت ہے اور دوسرے کے پاس جوانی، وقت، توجہ یا رفاقت، پھر دونوں اپنی اپنی ضرورت لے کر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک باہمی رضامندی کا تعلق ہو سکتا ہے لیکن معاشرتی سطح پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر رضامندی طاقت کے برابر ہونے کی علامت بھی ہوتی ہے؟ اگر ایک شخص دوسرے کی معاشی مجبوری سے واقف ہو اور اسی مجبوری کے ذریعے تعلق کی شرائط طے کرے تو معاملہ محض رومانوی انتخاب نہیں رہتا بلکہ طاقت اور ضرورت کا سوال بھی بن جاتا ہے۔


پاکستان میں اس کلچر کا ایک خطرناک پہلو سوشل میڈیا کی وہ دنیا بھی ہے جہاں دولت کو صرف دولت نہیں بلکہ کامیابی، خوبصورتی، عزت اور خوشی کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں زندگی کا وہ حصہ دکھایا جاتا ہے جس میں مہنگی کافی ہے لیکن اس کافی کے پیچھے موجود تنہائی نظر نہیں آتی، گاڑی دکھائی دیتی ہے مگر اس کے مالک کی مشکلات نہیں، غیر ملکی سفر دکھائی دیتا ہے مگر اس کے پیچھے موجود قرض یا خاندانی حالات دکھائی نہیں دیتے۔ نوجوان نسل جب مسلسل اس مصنوعی آسائش کے سامنے رہتی ہے تو اس کے اندر فوری کامیابی کی خواہش پیدا ہونا بعید نہیں۔ شوگر ڈیڈی کلچر اسی خواہش کو ایک مخصوص راستہ فراہم کرتا ہے جہاں محنت سے حاصل ہونے والی آسائش کے بجائے کسی دوسرے کی دولت تک رسائی تعلق کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہاں مسئلہ صرف اخلاقی نہیں بلکہ نفسیاتی اور معاشی بھی ہے کیونکہ اگر کسی انسان کی خواہشات مستقل طور پر دوسروں کی مالی طاقت سے پوری ہونے لگیں تو خود مختاری، محنت اور اپنی معاشی شناخت کی اہمیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔


اس بحث میں عورت کو ہمیشہ مجرم اور مرد کو ہمیشہ خریدار سمجھ لینا بھی مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ ایسے تعلقات میں مختلف کردار اور مختلف محرکات ہو سکتے ہیں اور ہر معاملے کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ کوئی شخص مالی مدد کی وجہ سے تعلق میں آ سکتا ہے، کوئی تنہائی کی وجہ سے، کوئی آسائش کی خواہش سے اور کوئی محض رفاقت کے لیے۔ اسی طرح ہر عمر میں فرق رکھنے والا تعلق شوگر ڈیڈی تعلق نہیں ہوتا اور ہر مالی مدد کرنے والا شخص بھی شوگر ڈیڈی نہیں ہوتا۔ اصل سوال تعلق کی نوعیت، اس میں موجود توقعات اور مالی فائدے کے بدلے قربت کے معاملے کا ہے۔ ہمیں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یہی فرق برقرار رکھنا ہوگا ورنہ ہم تحقیق کے بجائے صرف الزام تراشی کریں گے اور مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اسے مزید زیرِ زمین دھکیل دیں گے۔


پھر اس کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی جڑا ہوا ہے اور وہ ہے دھوکا اور استحصال۔ آن لائن دنیا میں ہر پروفائل حقیقت نہیں ہوتی اور ہر دولت مند نظر آنے والا شخص حقیقت میں دولت مند نہیں ہوتا۔ ایسے تعلقات کی آڑ میں فراڈ، بلیک میلنگ، جعلی شناخت اور مالی استحصال کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک شخص پہلے اعتماد حاصل کرتا ہے، پھر مالی ضرورت یا جذباتی کمزوری کو سمجھتا ہے اور بعد میں اسی معلومات کو دباؤ کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں سماجی بدنامی کا خوف بہت زیادہ ہے، بلیک میلنگ کا خطرہ مزید سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ متاثرہ شخص بعض اوقات مدد لینے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دے سکتا ہے۔ اس لیے شوگر ڈیڈی کلچر پر گفتگو صرف اخلاقی بحث نہیں ہونی چاہیے بلکہ ڈیجیٹل تحفظ، رضامندی، معاشی خود مختاری اور آن لائن فراڈ کے پہلو بھی اس بحث کا حصہ ہونے چاہییں۔


اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے شوگر ڈیڈی موجود ہیں کیونکہ اس کا مستند جواب ہمارے پاس نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ کس سمت تبدیل ہو رہا ہے۔ اگر نوجوانوں کی خواہشات اور ان کی معاشی استطاعت کے درمیان فاصلہ بڑھتا رہے، اگر سوشل میڈیا آسائش کو کامیابی کا واحد چہرہ بنا دے، اگر تنہائی بڑھتی رہے اور اگر دولت انسانی تعلقات میں غیر معمولی طاقت حاصل کرتی جائے تو تعلقات کی نوعیت بھی بدل سکتی ہے۔ شوگر ڈیڈی کلچر اسی بڑی تبدیلی کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک مرد اور ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ اس معاشرے کی کہانی بھی ہے جہاں ضرورت، خواہش، دولت، تنہائی اور محبت ایک ہی میز پر بیٹھنے لگے ہیں۔


ہمیں شاید اس موضوع پر شور مچانے سے زیادہ آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی نوجوان اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی دولت مند شخص کی طرف دیکھتا ہے تو ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ اس نوجوان کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اتنا مشکل کیوں ہے۔ اگر کوئی شخص دولت کے ذریعے رفاقت خریدنا چاہتا ہے تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں تنہائی کیوں بڑھ رہی ہے۔ اگر سوشل میڈیا نوجوانوں کو ایسی زندگی دکھا رہا ہے جو ان کی حقیقی زندگی سے بہت دور ہے تو ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خواہش اور حقیقت کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ انسان کو کن راستوں پر لے جا سکتا ہے۔ معاشرے صرف قوانین سے نہیں بچتے بلکہ تعلیم، معاشی مواقع، خاندانی تربیت اور صحت مند سماجی تعلقات سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ ورنہ آج شوگر ڈیڈی ایک اصطلاح ہے، کل شاید یہ ہمارے معاشرتی رویوں کی ایک عام حقیقت بن جائے اور ہمیں اس وقت احساس ہو کہ ہم نے تعلقات کی قیمت تو مقرر کر دی مگر ان تعلقات کی قدر کرنا بھول گئے۔