Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فیلڈ مارشل اور عباس عراقچی میں ٹیلیفونک رابطہ


فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے۔


ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی پیشرفت پر بات کی,ہ ٹیلی فون پر دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، دونوں ملکوں کے باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات  چیت کی گئی۔


https://x.com/IrnaEnglish/status/2100452137595457567?s=20


ایرانی نیوز ایجنسی مہر نے بھی خبر دی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلفونک رابطہ ہوا ہے جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ چین کے دوران ہوا۔


ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے گزشتہ دنوں چین کا دورہ کیا، اس موقع پرچین نے امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا کہ وہ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور اس کے تحت طے پانے والے نکات کی بنیاد پر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کریں۔


برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات بیجنگ میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہی، چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ امریکا اور ایران کو عقلی رویہ اختیار کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور باہمی تشویش کے معاملات پر بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں۔


وانگ یی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا طول پکڑنا فریقین اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں، چین نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں، اب تک حاصل کیے گئے اتفاق رائے کی بنیاد پر مذاکراتی نظام کو دوبارہ فعال کریں اور اپنے اپنے تحفظات پر بامعنی مشاورت کریں۔


چینی وزیر خارجہ نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بھی مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کا احترام کیا جائے،وانگ یی نے تمام متعلقہ فریقوں سے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھو لنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور روانی برقرار رکھنا اور عالمی توانائی کی ترسیل و سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔


چین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی مزید پھیل کر یمن اور بحیرہ احمر تک نہ پہنچ جائے، بیجنگ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کیا جائے اور تنازعات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے چین ایران کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے گا چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ناتے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔