ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کا رویہ قابل قبول نہیں،رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کی حکمت عملی قبول نہیں کی جا سکتی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی پر سیاسی عدم استحکام، عدم برداشت اور گالم گلوچ کا کلچر پروان چڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2014 کے بعد سیاسی اختلاف کے بجائے ایک دوسرے کو گالم گلوچ اور توہین آمیز انداز میں مخاطب کرنے کا ر جحان بڑھا 2024 کے بعد اب 2026 میں بھی پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف چڑھائی اور حملے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے لیے ان کے بقول خیبر پختونخوا حکومت کے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو سیاسی عدم استحکام کی پالیسی ترک کرنے، ذاتی سیاسی ایجنڈے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینے اور مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کی حکمت عملی قبول نہیں کی جا سکتی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایک طرف خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والے پولیس، کسٹمز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج اور عام شہریوں کی لاشیں پڑی ہیں جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت ڈھول بجاتی، نعرے لگاتی اور لوگوں کو اکٹھا ہونے کی ترغیب دیتی رہی کہ پہلے یہاں سے وہاں اور پھر اسلام آباد کی طرف جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہدا میں بڑی تعداد خیبر پختونخوا کے رہنے والوں کی ہے اور ان کے یتیم بچوں اور خاندانوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے ان کے بقول ایک طرف شہدا کے لاشے پڑے ہوں اور دوسری طرف اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاری کی جائے تو یہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
رہنما مسلم لیگ ن نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے اس طرز عمل کو بری طرح مسترد کیا ہے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے ریاستی امور کو مفلوج کرنے اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا رویہ قابل قبول نہیں۔
مزید پڑھیں





