جین زی ہم سے ناراض کیوں ہیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
ہمارے گھروں کے دالانوں، چائے کے کھوکھوں اور دفاتر کے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں ایک سوال بڑی شدت اور حیرت کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے کہ آخر یہ نئی پود، یہ جین زی ہم سے اتنی ناراض کیوں ہے۔ پچھلی نسلیں ان کے تیکھے تیوروں، کاٹ دار لہجے اور بے باک رویے پر انگشت بدنداں ہیں اور روایتی شکوہ زبانوں پر ہے کہ اس نسل میں نہ مروت بچی ہے، نہ بڑوں کا ادب اور نہ ہی خاموشی سے بات مان لینے کا سلیقہ۔ مگر ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے گریبان میں جھانک کر یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ جس نسل کو ہم بے ادب اور باغی قرار دے رہے ہیں، اس کی ناراضی کی جڑیں دراصل اس ملبے تلے دبی ہیں جو پچھلی نسلوں نے اپنے فیصلوں اور کوتاہیوں کے نتیجے میں ان کے سروں پر گرا دیا ہے۔ یہ محض ایک خاندانی یا سماجی اختلاف نہیں بلکہ دو ادوار اور دو مختلف جہانوں کا وہ ٹکراؤ ہے جس میں نئی نسل خود کو دھوکے اور ناانصافی کا شکار محسوس کرتی ہے۔
یہ نسل جب دنیا میں آنکھیں کھول رہی تھی تو انہوں نے کھلونوں اور پرسکون لوریوں کے بجائے سنہ 2008 کے بھیانک عالمی معاشی بحران کی بازگشت سنی۔ وہ معصوم آنکھیں تھیں جنہوں نے اپنے باپ کی پیشانی پر نوکری چھن جانے کے بعد نمودار ہونے والی شکنیں دیکھیں، سفید پوشی کے بھرم ٹوٹتے دیکھے اور گھریلو معیشت کو لمحوں میں بکھرتے پایا۔ ہم نے انہیں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہوئے یہی سبق رٹایا تھا کہ اچھے گریڈز لاؤ، ایک معتبر ڈگری تھامو اور تمہارا مستقبل محفوظ ہو جائے گا۔ لیکن جب یہ بچے ڈگریاں لے کر عملی میدان میں نکلے تو معلوم ہوا کہ یہ نسخہ تو عشروں پہلے ایکسپائر ہو چکا تھا۔ آج افراطِ زر، کمر توڑ مہنگائی اور چھت کی خریداری کو خواب بنانے والے رئیل اسٹیٹ کے نظام نے ان سے بنیادی زندگی جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ہفتے کے ساٹھ گھنٹے محنت کے بعد بھی وہ ایک خوددارانہ چھت یا باعزت گاڑی کے مالک نہیں بن سکتے۔ وہ ہم سے اس لیے ناراض ہیں کہ ہم نے انہیں محنت کا ایک ایسا روایتی خواب بیچا جس کی مارکیٹ میں اب کوئی قیمت ہی نہیں بچی تھی۔
اس پر ستم یہ ہوا کہ ہم نے ان کے کچے ہاتھوں میں کھلونا سمجھ کر اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے الگورتھم تھما دیے۔ یہ انسانی تاریخ کی وہ پہلی نسل بنی جس کا بچپن اور لڑکپن اینالاگ دنیا کے قدرتی لمس سے کٹ کر ایک بے رحم ڈیجیٹل اسکرین کی قید میں گزرا۔ چوبیس گھنٹے دوسروں کی پرفیکٹ زندگیوں، جھوٹی خوبصورتی اور دکھاوے کی چمک دمک کے مسلسل موازنے نے ان کے اندر احساسِ کمتری اور تنہائی کا زہر گھول دیا۔ کھیل کے میدانوں کی مٹی ان سے روٹھ گئی اور دوستوں کے آمنے سامنے کے سچے ٹھٹھے اسکرین کے ایموجیز میں سمٹ گئے۔ ابھی یہ نوجوان ڈیجیٹل بندھنوں اور تنہائی کے اس زہریلے سمندر میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے کہ کووڈ کی وبا نے ان کی جوانی کے اہم ترین سالوں پر تالے چڑھا دیے۔ کالج اور یونیورسٹیاں بند ہوئیں، دوستیاں بچھڑیں اور انسان سے انسان کا میل جول ایک خطرہ بن گیا۔ زندگی کا سب سے فعال اور متحرک دور ایک بند کمرے میں لیپ ٹاپ کے سامنے قید ہو کر رہ گیا۔ ان کے اندر کا کرب اس وقت غصہ بن جاتا ہے جب بڑے ان کی اس شدید تنہائی، اینزائٹی اور ذہنی دباؤ کو ناز نخرے یا ناشکری کا نام دے کر مذاق اڑاتے ہیں۔
کارپوریٹ دنیا اور دفتری نظام میں جب یہ داخل ہوئے تو انہوں نے پچھلی نسلوں کے بنائے ہوئے مصلحت پسند اور استحصالی کلچر کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ پرانی نسلیں باس کی ڈانٹ، بارہ گھنٹے کی بے مقصد مشقت اور غیر منصفانہ رویوں کو خاموشی سے پی جاتی تھیں اور اسے نوکری کا لازمی حصہ سمجھتی تھیں۔ لیکن جین زی نے سوال اٹھا دیا کہ جو ادارہ ہمیں صرف ایک ملازم یا ہندسہ سمجھتا ہے، ہم اس کے لیے اپنے خون اور ذہنی سکون کی قربانی کیوں دیں؟ وہ اپنے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان واضح لکیر کھینچتے ہیں۔ جب وہ چھٹی کے بعد دفتری فون اٹھانے سے انکار کرتے ہیں یا کسی غیر منصفانہ حکم پر دو ٹوک "نہ" کہہ دیتے ہیں، تو بڑے اسے تکبر اور انا کا نام دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مغرور نہیں بلکہ سچے ہیں۔ وہ اس منافقت کے پردے کو چاک کرنا چاہتے ہیں جس نے نسل در نسل انسانوں کو مشینوں کی طرح نچوڑا ہے۔
سیاسی میدان میں ان کی ناراضی ایک کھلی بغاوت بن چکی ہے، خاص طور پر ہمارے ملکی منظر نامے میں جہاں روایتی موروثیت اور فرسودہ بیانیوں کا راج رہا ہے۔ پچھلی نسلیں خاندان، برادری، ذات پات یا کسی لیڈر کے ایک اشارے پر زندگی بھر اندھی وفاداری نبھاتی رہیں، لیکن جین زی نے اس غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے۔ انہوں نے اپنے بڑوں سے سوال کیا کہ جن چہروں کو تم چالیس سال سے پوج رہے ہو، انہوں نے ہمیں دیا کیا ہے؟ نہ معیاری تعلیم، نہ باعزت روزگار، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی صاف ہوا دی گئی۔ انہوں نے دیکھا کہ ریاست ان کے بنیادی ذرائع معاش پر وار کرتے ہوئے انٹرنیٹ کو سست کرتی ہے، ڈیجیٹل فائر والز لگاتی ہے اور ان کی آواز کو بندوق یا سنسرشپ کے زور پر دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ جو نسل دنیا بھر سے ایک کلک پر جڑی ہو اور جس کا چولہا آئی ٹی اور فری لانسنگ سے جلتا ہو، وہ اپنے روزگار اور اظہار پر یہ بے رحمانہ شب خون کیسے برداشت کر سکتی ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں جب اس نسل نے اپنے حق اور ووٹ کے لیے غیر معمولی بیداری دکھائی، تو ان کے اس پرامن جمہوری فیصلے پر بھی شب خون مارا گیا۔ ووٹ کے تقدس کی پامالی اور فارم 47 کے تماشوں نے اس نسل کے اندر ریاستی و سیاسی ڈھانچوں کے خلاف بے اعتباری کی ایک مستقل خلیج پیدا کر دی ہے۔ وہ خوف کی اس دیوار کو میمز، ڈیجیٹل مہمات اور طنز کے ذریعے گرا چکے ہیں جس نے دہائیوں سے عوام کو جکڑ رکھا تھا۔ ریاستی پروپیگنڈا اب ان کے اسمارٹ فونز پر سیکنڈوں میں بے نقاب ہو جاتا ہے، اس لیے پرانے حربے اب ان پر کارگر ثابت نہیں ہو رہے۔ وہ ہم سے اس لیے بھی ناراض ہیں کہ ہم نے انہیں ایک ایسا سیاسی ماحول دیا جہاں سچ بولنا جرم اور جھوٹ بولنا حکمت بن چکا ہے۔ یو ٹرن حکمت عملی کا دوسرا نام، حق کے حصول کے لیے بدزبانی نے لے لیا ہے۔
ان کا یہ غصہ، بدتمیزی نہیں بلکہ ان کا آخری دفاعی ہتھیار ہے۔ انہوں نے ہمیں اندر ہی اندر گھٹتے، جھوٹی اناؤں کی خاطر بیماریاں پالتے اور خاموشی سے ظلم سہتے دیکھا تھا، اور انہوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ اس جعلی مروت کی قربان گاہ پر اپنی بقا اور ذہنی سکون کو ذبح نہیں کریں گے۔ یہ بپھری ہوئی نسل دراصل ہمارے معاشرتی ضمیر کے سامنے ایک کھلا آئینہ ہے جو ہمیں ہماری دہائیوں کی نااہلی، منافقت اور مصلحت پسندی دکھا رہا ہے۔ ہم اگر اب بھی ان کی اس ناراضی کو ڈنڈے، پابندیوں اور اخلاقی فتووں سے دبانے کی کوشش کریں گے، تو نتیجہ یا تو خوفناک تصادم کی شکل میں نکلے گا یا پھر یہ بچے اپنا بستر بوریا گول کر کے اس دیس کو اشرافیہ کے لیے ویران چھوڑ جائیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ان کے گستاخانہ سوالات پر تلملانے کے بجائے ان سے معافی مانگی جائے، ان کی آزاد سوچ کا احترام کیا جائے اور انہیں اس ٹوٹے پھوٹے نظام کی مرمت کرنے کی بااختیار آزادی دی جائے، ورنہ تاریخ کا یہ غصہ کسی کو سنبھلنے کی مہلت نہیں دے گا۔





