عصمت دری، قتل و غارت گری، خون میں لتھڑی لاشیں، اپنے پیاروں کی میتوں کے لیے تڑپتے ماں باپ، بیٹی کے انصاف کے لیے در در کی دہائی دیتی ماں، اور آگ میں جھلس کر راکھ بن جانے والے معصوم نومولود… کیا یہ کسی فلم کی کہانی ہے؟ نہیں! یہ ہمارے معاشرے کا وہ بھیانک چہرہ ہے جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرمندہ ہو جائے۔
اور المیہ صرف یہ نہیں کہ درندگی ہو رہی ہے؛ المیہ یہ بھی ہے کہ ہر ہاتھ میں موبائل اور ہر چہرے کے سامنے مائیک ہے۔ بلکتے ہوئے ماں باپ سے بار بار وہی دلسوز سوال، زخمی دلوں کو کرید کرید کر دکھانا، آنسوؤں کو خبر اور درد کو ریٹنگ بنا دینا… خدارا! یہ صحافت نہیں کہ مظلوم کے زخموں کو بار بار چھیڑا جائے۔ یہ رویہ معاشرے میں حساسیت پیدا کرنے کے بجائے کہیں نہ کہیں مزید درندہ صفت ذہنوں کو جنم دے رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟
اگر پہلی درندگی پر ہی مجرم کو قانون کے مطابق ایسی عبرتناک اور فوری سزا ملتی کہ ہر مجرم کے دل میں قانون کا خوف بیٹھ جاتا، تو شاید آج اتنے گھر اجڑنے سے بچ جاتے۔ قانون کی بالادستی صرف کتابوں میں نہیں، میدانِ عمل میں نظر آنی چاہیے۔
میڈیا کے اداروں سے بھی اپیل ہے کہ متاثرین کے آنسوؤں کا تعاقب کرنے کے بجائے قانون بنانے اور نافذ کرنے والوں کا محاصرہ کریں۔ حکمرانوں، قانون سازوں اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگیں کہ مجرم کب کیفرِ کردار تک پہنچے گا؟ انصاف کب ملے گا؟ اور آئندہ کسی بیٹی، کسی ماں، کسی بچے اور کسی خاندان کو اس قیامت سے کیسے بچایا جائے گا؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہر غیور شہری ظلم کے خلاف آواز بنے۔ خاموشی اب جرم کو تقویت دے گی۔ ہمیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسا مضبوط نظامِ انصاف چاہیے جس میں مجرم کو یقین ہو کہ جرم کے بعد بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔
اب نہیں… بس!
آج اگر ہم نے اس ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو یاد رکھیں، یہ آگ صرف کسی ایک گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہے گی۔ ظلم کی آگ جب بھڑکتی ہے تو دروازے نہیں دیکھتی۔
آئیے، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں، قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائیں اور ایسا معاشرہ بنائیں جہاں کسی ماں کو اپنی بیٹی کے انصاف کے لیے چیخنا نہ پڑے، کسی باپ کو اپنے بچے کی لاش ڈھونڈنی نہ پڑے، اور کسی معصوم کو انسانوں کے ہاتھوں درندگی کا نشانہ نہ بننا پڑے۔
یہ وقت تماشائی بننے کا نہیں، انسان بننے کا ہے۔






