Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حقیقی شعور اور نوجوان نسل: ادب، سوال اور اخلاقیات،تحریر: عائشہ گل

نقطہ نظر
ayeshagul

​شعور کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ شعور کسے کہتے ہیں؟ شعور کا مطلب ہوتا ہے، "ہوش یا فہم"۔ یہ ایک فرد کی وہ صلاحیت ہے جس سے وہ اپنے ارد گرد کی دنیا کو سمجھتا ہے، اپنے خیالات اور جذبات کو پہچانتا ہے، اور فیصلے کرتا ہے۔ زندگی میں شعور کی اہمیت اس ستون کی مانند ہے جس پر گھر کی عمارت تعمیر کی جاتی ہے؛ جس طرح مضبوط ستون کے بغیر گھر کی چھت بنانا ناممکن ہے، اسی طرح شعور کے بغیر زندگی نامکمل ہوتی ہے۔

​اور اگر بات کی جائے نوجوان نسل کے شعور کی، تو یہ معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ اس کے بغیر انسان معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں ناکام رہتا ہے، لیکن اس شعور کے معاملات بہت پیچیدہ ہیں اور اس کی ہر پرت پر ایک گہرا راز پوشیدہ ہے۔ بظاہر چھوٹا نظر آنے والا یہ لفظ اپنے اندر کئی معانی رکھتا ہے، تو آئیے اس کی پہلی پرت کو کھول کر دیکھتے ہیں: کیا نوجوان نسل کا شعور معنی رکھتا ہے؟

​بالکل! نوجوان نسل کا شعور سوال اٹھاتا ہے اور جواب مانگتا ہے۔ یہ ایک بہت خوبصورت بات ہے کہ نوجوان نسل پرسش کرتی ہے اور جواب تلاش کرتی ہے۔ یہی سوال اٹھانے کی صلاحیت نوجوان کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ شعور ایک ایسی بلندی ہے جس کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی انسان باوقار اور کامیابیوں سے ہمکنار ہو جاتا ہے، لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ دورِ حاضر میں نوجوان نسل کی بے باکی، زبان درازی، بڑوں کی نافرمانی اور تلخ لہجے کیا واقعی شعور ہیں؟

​ہمارا معاشرہ اکثر اس رویے کو شعور کا نام دے دیتا ہے۔ والدین ہوں یا گھر کا کوئی عزیز، بچے کی بدتمیزی کو چھپانے کے لیے کہتے ہیں: "ہاں بھئی! سب ان کو ہی پتہ ہے، ہم کو تو کچھ معلوم نہیں، یہ زیادہ پڑھے لکھے ہیں، آج کل کا زمانہ بڑا جدید ہے۔" معذرت کے ساتھ جناب! یہ شعور کی کون سی صنف ہے جو خود کو بلند اور بڑوں کو نیچا دکھائے؟ جبکہ شعور تو بڑوں کا ادب سکھاتا ہے، تہذیب اور ملنساری سکھاتا ہے۔ یہ ادب کے دائرے میں رہ کر اپنی رائے پیش کرنا اور اختلاف ہونے کے باوجود ادب کا دامن نہ چھوڑنا سکھاتا ہے، کیونکہ اختلافِ رائے اور بدتمیزی دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔

​اب اس کی اگلی پرت کو دیکھتے ہیں: نوجوان نسل کا شعور سوال اٹھاتا اور جواب مانگتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے کہ "سوال آدھا علم ہوتا ہے"، لیکن پھر یہی سوال بنی اسرائیل کے لیے ہلاکت کا سبب کیوں بنے؟ انہیں سخت عذاب کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ اس لیے کہ بنی اسرائیل کی قوم نے وہ سوال حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توقیر کے لیے نہیں بلکہ ہٹ دھرمی کے لیے کیے تھے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل کا سوال اٹھانا اور جواب مانگنا جہاں 30 فیصد درست ہے، وہیں 70 فیصد خرابی کی جڑ بن جاتا ہے۔

​سوال اٹھانا اور جواب مانگنا برا نہیں، لیکن اگر اس کے پیچھے کسی کی تذلیل کا مقصد ہو تو وہ باعثِ ہلاکت بن جاتا ہے۔ آج کل کبھی استاد کی توقیر کو مجروح کرنے کے لیے اور کبھی والدین کی تضحیک کے لیے، نوجوان فخر سے گوگل سے سرچ کر کے پرچہ سامنے لے آتے ہیں کہ "دیکھیں تو سہی ہمارے استاد کو کتنا معلوم ہے!" وہ گوگل کو استاد مان لیتے ہیں مگر سامنے بیٹھے استاد کی عزت کو پامال کرتے ہیں، اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ استاد یا والدین کو ہر چیز کا علم ہونا ضروری نہیں۔ اگر انہیں کسی بات کا معلوم نہیں، تو اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ شعور کا لبادہ اوڑھ کر انہیں احترام سے آگاہ کریں یا پھر اپنی علمی قابلیت جھاڑ کر انہیں حقارت کی نظر سے دیکھیں۔ یہ سوچنا کہ "میرے استاد کو تو کچھ نہیں آتا تو وہ مجھے کیا پڑھائے گا"، سراسر نادانی ہے۔ علم کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، انسان جتنا مرضی سیکھ لے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے مکمل علم حاصل کر لیا ہے۔ زندگی کی آخری سانس تک انسان سیکھتا رہتا ہے، لہٰذا استاد یا والدین کی تضحیک کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔

​نوجوان نسل سے مخلصانہ گزارش ہے کہ شعور کا اصل لبادہ پہنیں جس سے معاشرے میں بہتری آئے۔ آپ ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، خدارا اپنے آپ کو اس طرح ضائع مت کیجیے۔ سوشل میڈیا کے اس پرفتن دور میں اپنی ذات کو ان فتنوں کے حوالے مت کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے، اور یہی وہ وصف ہے جو ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتا ہے اور اشرف المخلوقات کا لقب دلاتا ہے۔

​خدارا! خود کو سنواریں اور اس ملک کو ایک باشعور نوجوان نسل سے ہمکنار کیجیے۔ آپ کے زیرِ سایہ ہی ہم اپنے وطن کو بلندیوں پر دیکھتے ہیں۔ یاد رکھیے، اگر آپ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو بلند آواز نہیں، بلکہ بلند شعور اپنانا ہوگا۔

​قابلِ غور نکتہ!

نوجوان نسل کو باشعور بنانے میں جہاں بہت سے ادارے کام کرتے ہیں، وہیں سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے۔ سب سے پہلے ماں کی تربیت کام آئے گی؛ اگر ایک ماں اپنے بچے کو تہذیب سکھائے گی تبھی ادارے کامیاب ہوں گے۔ ادارے میں بھیج کر ماں اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتی۔ معاشرے کے لیے ایک بہترین انسان کی تربیت کے لیے سب سے پہلے ماں کو خود ایک مضبوط کردار اور بلند شعور اپنانا ہوگا۔

​آئیے! آج یہ عہد کریں کہ ہم سوال ضرور اٹھائیں گے، لیکن ادب کے دائرے میں رہ کر۔ ہم جواب ضرور مانگیں گے، لیکن تذلیل کے لیے نہیں بلکہ اصلاح کے لیے، کیونکہ باشعور نوجوان ہی قوم کا روشن مستقبل ہیں۔

​اللہ پاک ہماری نوجوان نسل کو حقیقی شعورِ بلندی عطا فرمائے اور ہمارے ملک کو آپ کے بلند کردار سے نوازے، آمین!

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL