Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، عوام پر نیا بوجھ،تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

نقطہ نظر

کہتے ہیں صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، مگر ہمارے ہاں اس نعمت کی قدر کا اندازہ شاید اس وقت ہوتا ہے جب ڈاکٹر نسخہ لکھ کر مریض کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ مریض دوا لینے میڈیکل اسٹور پہنچتا ہے تو اسے پہلی نظر میں دوا کی قیمت نظر آتی ہے، دوسری نظر میں اپنا خالی بٹوا اور تیسری نظر میں وہ ڈاکٹر یاد آتا ہے جس نے کہا تھا: ’’یہ دوا باقاعدگی سے استعمال کرنی ہے۔‘‘اب مریض سوچتا ہے کہ دوا باقاعدگی سے استعمال کرے یا بٹوے کو باقاعدگی سے زندہ رکھنے کی کوشش کرے خبر ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہیپاٹائٹس کے علاج میں استعمال ہونے والے ایک سیرپ کی قیمت 390 روپے سے بڑھ کر 560 روپے تک پہنچ گئی۔ کیلشیم کی دس گولیوں کی قیمت 300 سے بڑھ کر 596 روپے ہوگئی، جبکہ وٹامن اے کے کیپسول کا ڈبہ 1534 روپے سے بڑھ کر 2245 روپے تک جا پہنچا۔ پیناڈول جیسی عام دوا کی دس گولیوں کی قیمت بھی 25 روپے سے بڑھ کر 40 روپے ہوگئی یہ قیمتیں سن کر صحت مند آدمی بھی کچھ دیر کے لیے بیمار ہونے کا سوچ سکتا ہے۔

حکومتیں عموماً عوام کو تسلی دیتی ہیں کہ مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے۔ شاید ادویات کی قیمتیں بھی اسی ’’قابو‘‘ کی زد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قابو اتنا مضبوط ہے کہ قیمت نیچے آنے کے بجائے اوپر ہی اوپر جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مہنگائی کو کسی نے سیڑھی دے دی ہو اور وہ ہر ماہ ایک نئی منزل پر پہنچ رہی ہو ایک زمانہ تھا جب گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو اہل خانہ پریشان ہوتے تھے کہ بیماری کیا ہے۔ اب پریشانی کی فہرست کچھ طویل ہوگئی ہے: بیماری کیا ہے؟ دوا کون سی ہے؟ قیمت کتنی ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ پوری دوا خریدیں یا آدھی

شوگر، بلڈ پریشر، دل، گردے، ہیپاٹائٹس، کینسر اور دیگر دائمی امراض کے مریضوں کے لیے دوا کوئی عیاشی نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایسے مریض ایک دو دن دوا چھوڑ کر یہ تجربہ نہیں کرسکتے کہ ’’دیکھتے ہیں قیمت کم ہوتی ہے یا بیماری۔‘‘ بیماری تو اپنی جگہ موجود رہتی ہے، البتہ دوا کی قیمت ضرور نئی شکل اختیار کر لیتی ہے

سب سے زیادہ قابلِ افسوس صورت حال ان خاندانوں کی ہے جہاں بچے ہیموفیلیا یا تھیلیسیمیا جیسے امراض کا شکار ہیں۔ ایسے والدین کے لیے دوا کا مطلب محض ایک گولی، شربت یا انجیکشن نہیں، بلکہ اپنے بچے کی زندگی سے جڑی ایک امید ہے۔ جب اس امید کی قیمت بھی مسلسل بڑھنے لگے تو غریب والدین کے لیے حالات کسی امتحان سے کم نہیں رہتے حاملہ خواتین کے لیے استعمال ہونے والے آئرن، وٹامن بی، وٹامن سی اور کیلشیم جیسے سپلیمنٹس کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بھی معمولی نہیں۔ ایک طرف ماں اور بچے کی صحت کا سوال ہے اور دوسری طرف گھر کا بجٹ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مہنگائی نے گھر کے بجٹ سے باقاعدہ دشمنی پال رکھی ہے؛ جو چیز سامنے آتی ہے، اس کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔

حکومت سے ایک معصوم سا سوال ہے: آخر عام آدمی بیماری کے ساتھ مقابلہ کرے یا قیمت کے ساتھ اگر دوا مہنگی ہے تو مریض کیا کرے؟ ڈاکٹر نے اگر کہا کہ روزانہ دوا لینی ہے تو کیا مریض روزانہ اپنی جیب کا بھی بلڈ پریشر چیک کرے؟ اگر دل کی دوا مہنگی ہوگئی تو غریب آدمی پہلے دل سنبھالے یا جیب ہم جانتے ہیں کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین میں خام مال، درآمدی لاگت، کرنسی کی قدر، پیداواری اخراجات اور دیگر عوامل شامل ہوتے ہیں، لیکن ریاست کی ذمہ داری بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ صحت عامہ ایسا شعبہ نہیں جسے مکمل طور پر مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ قیمتوں میں اضافے کا بوجھ سب سے زیادہ ان لوگوں پر تو نہیں پڑ رہا جو پہلے ہی بیماری اور کم آمدن کے دوہرے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں حکومت اگر عوام کو صحت مند دیکھنا چاہتی ہے تو صرف صحت کے بارے میں تقریریں کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ ادویات کی قیمتوں کے نظام میں شفافیت ہو، قیمتوں کے جائزے کا مؤثر طریقہ کار ہو، ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی کی جائے

کیونکہ غریب آدمی کے لیے دوا کی قیمت صرف ایک عدد نہیں ہوتی۔ یہ اس کے گھر کے راشن، بچوں کی فیس، بجلی کے بل اور کرائے میں سے کٹنے والی رقم ہوتی ہے اور اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو ایک دن شاید ڈاکٹر نسخے کے آخر میں یہ بھی لکھنے پر مجبور ہوجائے:’’دوا دن میں دو مرتبہ کھائیں، اور قیمت سننے سے پہلے گہری سانس لیں۔‘‘عوام کو وعدوں سے زیادہ سستی اور دستیاب دوا چاہیے۔ انہیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں بیماری انسان کا امتحان لے، قیمتیں نہیں حکومت سے واضح مطالبہ

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ادویات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لے، قیمتوں میں اضافے کی وجوہات اور قانونی جواز عوام کے سامنے لائے، جان بچانے والی اور روزمرہ استعمال کی ضروری ادویات کی قیمتوں پر مؤثر نظرِ ثانی کرے، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرے اور کم آمدن والے افراد، پنشنرز اور دائمی امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے ادویات کی فراہمی کو قابلِ برداشت بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات کرے یہ صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں، زندگی اور علاج کے حق کا مسئلہ ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ بیمار شہری کے ہاتھ میں نسخہ رہے گا یا قیمتوں کی فہرست دیکھ کر وہ علاج ہی سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوگا عوام کا مطالبہ سادہ ہے: ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے، ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کو قابو میں لایا جائے اور مریض کو بیماری کے ساتھ ساتھ مہنگائی سے لڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔