Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

الفاظ کے کھلاڑی ،تحریر: کلثوم افتخار

نقطہ نظر

ویسے تو یہ دور قحط الرجال کا چل رہا ہے جس میں نایاب لوگ نایاب ترا ور کمیاب تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بڑا اہم مسئلہ بھی درپیش ہو رہا ہے اور وہ ہے کہ ہر ایک کو بولنے کا بہت شوق ہے ہر ایک کو دوسروں کو نصیحت کرنے کا بہت شوق ہے ہر ایک کو اصلاحی مقرر بننے کا بہت شوق ہے ہر ایک کو اصلاحی کاموں کے متعلق بڑھ چڑھ کر بیانات جاری کرنے کا بہت شوق ہے اب تنقید کرنا تو بہت اسان ہے لیکن تنقید برائے اصلاح اور اصلاح بھی وہ جو دوسروں کی کم اور اپنی ذات کی زیادہ ہو یعنی خود شناسی کا عمل بڑے ہی عظیم لوگ ہیں وہ جو جب جب دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں یا کوئی رہنمائی دیتے ہیں تو ان کی بات دل میں گھر کر جاتی ہے اور لوگ ان کی بات کو غور سے سنتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی تعداد اج اٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے ۔بدقسمتی سے ہم سب لفظوں کے کھلاڑی تو بن گئے ہیں لیکن عمل کے حاجی نہیں بن سکے ہم الفاظ سے کھیلنا شروع ہو گئے ہیں بلکہ اج کل تو لفظوں کی دوڑ میں ہم اتنے اگے نکل چکے ہیں کہ اخلاقی اقدار تہذیب و تمدن کلچر احترام عزت جیسے الفاظ ہماری لغت سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ اج ہم بڑا رونا روتے ہیں کہ نئی نسل اور پرانی نسل میں بڑے اختلافات ہیں یا اج کی نسلیں نو بات سیدھی سیدھی اور منہ پر کہہ دیتی ہے لیکن اس سب کے پیچھے دراصل یہ الفاظ کے کھلاڑی ہی کار فرما ہیں اج کا بچہ صرف نصیحت نہیں سننا چاہتا وہ اپ کے عمل کو غور سے دیکھتا ہے جائزہ لیتا ہے سوچتا ہے سمجھتا ہے پرکھتا ہے اور پھر اس کے بعد فیصلہ لیتا ہے اگر تو ہمارے کہنے اور عمل کرنے کے معاملات میں فرق ہو تو پھر ہماری اہمیت اس کی نظر میں صرف لفظوں کا کھلاڑی بن کے رہ جاتی ہے لیکن اگر ہم تھوڑے سے باعمل ہو کر اس سے بات کریں مسئلہ سمجھائیں اس کے مسئلے کو سمجھیں تو معاشرتی بگاڑ کافی کم ہو جاتا ہے اب یہ الفاظ کے حاجی اپ کو جا بجا ملتے ہیں کبھی دکانوں کے تھڑوں پر کبھی محلے کی چوپال میں کبھی نائی کی دکان پر کبھی سبزی والے کے ٹھیلے پر کبھی بس کنڈکٹر کے ساتھ الجھتے ہوئے کبھی کسی بس سٹاپ پر کبھی راہ چلتے جا بجا اپ کو نصیحت کرتے نظر ائیں گے کبھی حکومت کی پالیسیوں پاک کا رونا روتے ہوئے کبھی مہنگائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کبھی پیٹرول کی قیمتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کبھی الجھتے ہوئے لڑتے جھگڑتے ہوئے اپنی اواز کو دوسروں کی اواز سے بلند کرتے ہوئے اپ کا ہمارا سب کا امنا سامنا ایسے لفظوں کے فنکاروں اور مقرروں سے ہوتا رہتا ہے کبھی کسی کی بہو بیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کبھی کسی کے گھر میں مہمانوں کی بے تحاشہ امد پر تبصرہ کرتے ہوئے کبھی کسی کی نئی گاڑی کو دیکھ کر ان کے رزق حلال پر شک کرتے ہوئے کبھی کسی کی اولاد کی کامیابی دیکھ کر ان پر رشوت اور سفارش کا الزام لگاتے ہوئے کبھی کسی کے بیٹے کو سگریٹ پیتے ہوئے دیکھ کر اس پر تنقید کرتے اور لوگوں میں ان کے خلاف باتیں پھیلاتے ہوئے کبھی کسی کی بیٹی کے رات ملازمت سے دیر سے گھر انے پر کبھی کسی کے ہاتھ میں مہنگا موبائل فون دیکھ کر کبھی کسی کی بچی کے پردے پر اور کبھی کسی کی بچی کی بے پردگی پر یہ الفاظ کے پجاری اپ کو جا بجا تبصرہ کرتے تنقید کرتے بے پر کی اڑاتے لوگوں کی عزت اور پگڑیوں کو اچھالتے صبح سے لے کر رات گئے تک ایک ہی کام کرتے ایک ایسے بھنور میں داخل ہو جاتے ہیں کہ اکثر ان کے نفسیاتی مریض ہونے کا خدشہ ہونے لگتا ہے اور اگر اپ کبھی ان سے پہلو تہی کر کے گزر بھی جائیں تو وہ اپ کی ذات کو بھی نشانہ بناتے ہوئے نہیں چومتے یہ وہ الفاظ کے حاجی ہیں جو عمل کے غازی تو نہ بن سکے اور نہ ہی بننا چاہتے ہیں لیکن معاشرے میں تعفن گھٹن ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی وجہ اور معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں یہ خوبصورتی کے دشمن ہوتے ہیں اور خوب سیرتی کے بھی انتہا کے دشمن خوب سیرتی کو یہ میٹھی چھری دوغلا پن اور منافقت کا نام دیتے ہیں اور خوبصورتی ان کو نظر نہیں اتی کیونکہ یہ اندر سے ذہنی طور پر سوچ کے اعتبار سے اتنے بدصورت ہو چکے ہوتے ہیں کہ انہیں کوے کے کالے رنگ اور کبوتر کے سفید رنگ میں کوئی فرق نظر نہیں اتا۔ ہاں یہ مذہبی اقدار کا بھی خیال کرتے ہیں اور سماجی روایات کا بھی خیال کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے ہوئے نظر اتے ہیں لیکن یہ بھی ظاہری اور باطنی طور پر دو مختلف شخصیات کے مالک بن جاتے ہیں ان پر ترس اتا ہے کہ نہ جانے کس مشکل کا شکار ہے نہ جانے کس المیہ سے دو چار ہیں جو یہ بیچارے کہہ بھی نہیں سکتے اور کسی کی سن بھی نہیں سکتے یہ الفاظ کے غازی ہیں اعمال کے نہیں اور یہ بات تو طے ہے کہ اعمال نے ہی ہمارے ساتھ جانا ہے

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL