Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچے چڑچڑے اور ضدی کیوں ہوتے ہیں؟تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

بچوں میں ضد، ہٹ دھرمی، بے جا چیخ و پکار اور چڑچڑاہٹ کا پیدا ہونا کسی بھی گھرانے کے لیے ایک کٹھن آزمائش بن جاتا ہے۔ اکثر والدین اس صورتحال کو محض بچے کی شرارت یا فطری خرابی سمجھ کر وقتی ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ یا پھر لاچاری میں اس کے آگے ہتھیار ڈالنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں، حالانکہ نفسیاتی اور طبی اعتبار سے یہ کیفیت دراصل کسی گہرے مسئلے یا ابلاغ کی رکاوٹ کا کھلا اظہار ہوتی ہے۔ بچہ پیدائشی طور پر ضدی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ماحول، جسمانی ضروریات، والدین کا ردعمل اور اس کے اپنے احساسات کے اظہار کی راہیں مل کر اس کے رویے کو تشکیل دیتی ہیں۔ اگر ہم اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنا چاہیں تو ہمیں وجوہات، گھریلو فضا، والدین کے طرزِ عمل اور پھر اس کے مستقل تدارک کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

چھوٹے بچوں میں ضد اور غصے کے دوروں کی سب سے پہلی اور بنیادی وجہ زبان اور الفاظ کی محدودیت ہے۔ ابتدائی برسوں میں بچے کے اندر احساسات، خواہشات اور تجسس کا ایک سیلاب امڈ رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے پاس اپنے جذبات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کی صلاحیت ناقص ہوتی ہے۔ جب بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ جو کہنا یا مانگنا چاہ رہا ہے وہ سامنے والے تک نہیں پہنچ پا رہا، تو اس کے اندر ایک شدید قسم کی مایوسی جنم لیتی ہے جو آنسوؤں، چیخنے اور زمین پر لوٹنے کی شکل میں باہر نکلتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی محرکات بھی بچے کے مزاج کو برہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نیند کی کمی، تھکن، بروقت کھانا نہ ملنا یا جسم میں پانی اور غذائیت کی کمی بچے کے نازک اعصابی نظام پر بوجھ بن جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ معمولی سی بات پر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے۔ دانت نکلنے کا درد، پیٹ کی خرابی یا کوئی ہلکا اندرونی بخار بھی چڑچڑاہٹ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ جدید دور کا ایک اور سب سے بڑا ناسور موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی کا بے تحاشا استعمال ہے، جس کے تیز رفتار رنگ اور آوازیں بچے کے کچے ذہن کو ضرورت سے زیادہ متحرک کر کے اس کے اندر بے چینی اور عدم برداشت کو جنم دیتی ہیں، اور جیسے ہی اسکرین بند کی جاتی ہے تو وہ شدید جارحیت اور غصے کا اظہار کرتا ہے۔

اس تمام عمل میں والدین کا رویہ اور گھریلو فضا سب سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ بچہ کسی اصول یا نصیحت سے زیادہ اپنے اردگرد کے عملی ماحول سے سیکھتا ہے۔ جن گھروں میں روزمرہ کے معمولات میں چیخ و پکار، تلخ کلامی اور بے صبری عام ہو، وہاں بچے کا مزاج بھی خودبخود تندخو اور ضدی بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ والدین کا غیر مستقل رویہ بچے کی ضد کو ایک ہتھیار بنا دیتا ہے۔ جب ایک بچہ کسی چیز کے نہ ملنے پر روتا ہے اور ابتدا میں والدین سختی سے منع کرتے ہیں، لیکن بچے کی مسلسل چیخ و پکار یا عوامی شرمندگی سے بچنے کے لیے آخر کار اس کی بات مان لیتے ہیں، تو بچے کا دماغ فوراً یہ سبق محفوظ کر لیتا ہے کہ رونا اور ہٹ دھرمی دکھانا اپنی بات منوانے کا سب سے کارگر طریقہ ہے۔ اسی طرح اگر والدین میں سے ایک سختی کرے اور دوسرا فورا نرمی دکھاتے ہوئے بچے کی ناجائز بات کی حمایت کر دے، تو اس تضاد سے بچہ اصولوں کو توڑنے کا ماہر بن جاتا ہے۔ دوسری جانب ہر وقت کا ٹوکنا، بے جا پابندیاں لگانا اور بچے کی چھوٹی موٹی خود مختاری کو کچل دینا بھی بچے میں ضد کی آگ بھڑکاتا ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کا لوہا منوانے کے لیے مزاحمت کا راستہ چن لیتا ہے۔

اس رویے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ایک متوازن، پرسکون اور مستقل مزاج حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ جب بچہ غصے یا ضد کے دورے میں مبتلا ہو، تو والدین کو چٹان کی طرح پرسکون رہنا ہوگا۔ آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جا سکتا، اس لیے بچے کے چیخنے پر خود چیخنا یا ہاتھ اٹھانا بچے کے اندر صرف خوف یا بغاوت پیدا کرتا ہے، اصلاح نہیں۔ اس نازک گھڑی میں خاموش موجودگی اختیار کی جائے اور بچے کی بنیادی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ خود کو یا کسی سامان کو نقصان نہ پہنچا سکے، مگر اس کے مطالبات کے سامنے ہرگز سر نہ جھکایا جائے۔ بچے کو یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ اس کا رونا دھونا یا ضد کرنا مطلوبہ چیز کے حصول کا ذریعہ کبھی نہیں بن سکتا۔ جب بچہ رو دھو کر خود ٹھنڈا ہو جائے، تب اسے محبت سے گلے لگایا جائے اور دھیمی آواز میں سمجھایا جائے کہ غصہ آنا فطری بات ہے مگر چیخنا، چیزیں پٹخنا یا بدتمیزی کرنا کسی صورت قابلِ قبول رویہ نہیں ہے۔

بچے کو ضد سے نکالنے کا مستقل حل یہ ہے کہ اسے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے متبادل راستے اور درست الفاظ سکھائے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کے احساسات کا نام لینا سکھائیں تاکہ وہ یہ کہہ سکے کہ وہ تھک چکا ہے، اداس ہے یا کسی بات سے ناراض ہے۔ اس کے علاوہ گھر کے اندر ایک منظم اور متوازن معمولاتِ زندگی قائم کرنا بے حد ضروری ہے جس میں سونے، جاگنے، کھانے، کھیل کود اور پڑھائی کے اوقات مقرر ہوں۔ جب زندگی میں غیر یقینی صورتحال کم ہوتی ہے تو بچے کے اعصاب پرسکون رہتے ہیں۔ اسی طرح بچے کے ساتھ طاقت کی جنگ لڑنے کے بجائے اسے محدود دائرے میں انتخاب کا حق دیا جائے، مثلاً اگر اسے دودھ پلانا ہے تو یہ پوچھنے کے بجائے کہ دودھ پیو گے یا نہیں، یہ پوچھا جائے کہ دودھ نیلے کپ میں پیو گے یا لال گلاس میں۔ اس چھوٹی سی خود مختاری سے بچے کی انا کی تسکین ہوتی ہے اور وہ ضد کی طرف نہیں جاتا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ توجہ کا توازن درست کیا جائے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب بچہ پرسکون ہو کر کھیل رہا ہو یا اچھا رویہ دکھا رہا ہو تو والدین اپنے کاموں میں مگن رہتے ہیں، مگر جونہی وہ شرارت یا ضد کرتا ہے، پورا گھر اس پر متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس انداز کو بدلنا ہوگا۔ جب بچہ کوئی اچھی بات مانے، صبر دکھائے یا اپنے کھلونے سمیٹے تو دل کھول کر اس کی تعریف کی جائے اور اسے پیار دیا جائے تاکہ اسے احساس ہو کہ والدین کی توجہ اور محبت اچھے رویے سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ ہٹ دھرمی سے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزانہ کم از کم پندرہ سے بیس منٹ کا ایسا مخصوص وقت مقرر کیا جائے جس میں والدین تمام دنیاوی مصروفیات اور موبائل کو ایک طرف رکھ کر صرف بچے کے ساتھ کھیلیں اور اس کے دل کی باتیں سنیں۔ جب بچے کو محبت، تحفظ اور غیر مشروط توجہ کا احساس ملتا ہے، اور اس کے ساتھ واضح اور اٹل حدود قائم کی جاتی ہیں، تو اس کی اندرونی بے چینی خودبخود ختم ہو جاتی ہے، اور ضد و غصے کی جگہ ایک سلجھا ہوا اور خوشگوار مزاج جنم لیتا ہے۔