Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اپنے اساتذہ کے نام چند یادیں ،تحریر:تابندہ طارق عکس

نقطہ نظر
tabinda tariq

یوم اساتذہ کے موقع پر آج وہ سارے دن یاد آ رہے جو اسکول اور کالج میں اساتذہ کے ساتھ گزارے تھے۔ایک شاگرد اپنے تمام اساتذہ کو یاد کرتا رہتا ہے لیکن ان سب سے بڑا ایک بڑا اعزاز یہ ہوتا ہے جب کوئی استاد اپنے شاگرد کو بالکل ایسے یاد رکھتا ہے جیسے اس کی اپنی اولاد ہو۔استاد اور شاگرد کا رشتہ جہاں عزت و احترام کا ہوتا ہے وہی استاد کا مقام والدین کے جتنا معتبر بھی ہوتا ہے۔جس طرح والدین کے لیے ان کی سب اولادوں میں سے ایک اولاد تھوڑی زیادہ پیاری ہوتی ہے ویسے ہی ایک شاگرد بھی ایسا ہوتا ہے جو اپنے خلوص اور محبت سے اپنے اساتذہ کے دل میں ایک خاص گوشہ بنالیتا ہے۔ہماری اسکول لائف میں ہماری پسندیدہ ٹیچر مس سیدہ نرجس تھیں بل کہ یہ کہنا درست ہوگا آج بھی جب بھی بات ہوتی ہے ہمیں وہی کلاس اور ان کے پڑھانے کا انداز یہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے ابھرنے لگتا ہے۔وہ ہمیں عربی پڑھایا کرتی تھیں اور ان کے پڑھانے کے انداز سے ہی ہمارے اندر بھی عربی فاضل کورس کا شوق پیدا ہوا تھا لیکن ہر شوق پورا ہو ایسا بھی ممکن نہیں۔اسکول لائف کے بعد دوبارہ پھر کبھی ان سے بات ہوگی ملاقات ہوگی یہ ایک خواب ہی لگتا تھا۔لیکن جس سے خلوص دل سے یاد کیا جائے وہ نہ ملے ایسا بھی نہیں ہے۔ان سے دوبارہ ملنا حسین اتفاق تھا ان کا ہمیں پہچان لینا ہمارے لیے اعزاز تھا۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا اسکول لائف سے کالج لائف تک اور کالج لائف سے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ تک اپنی پسندیدہ ٹیچر کے ساتھ تعلق ایسا رہا مانو دیکھنے والوں کو یہ مبالغہ ہوتا کہ جیسے یا تو ہم بہت اچھے دوست ہیں یا پھر ہمارا کوئی خونی رشتہ ہے۔کلاس کی ہر لڑکی جب یہ سوال کرتی تھی وہ ٹیچر اس لیے تمہاری پسندیدہ ہیں نا کیوں کہ وہ تمہاری رشتہ دار ہیں یہ الفاظ کسی اعزاز سے کم نہیں لگتے تھے ہنسی بھی آتی اور خوشی کا ایک اپنا ہی لیول ہوتا تھا۔نفی میں سر ہلا کر انکار کرتی تو وہی کلاس فیلوز اس ٹیچر کے پاس پہنچ جاتیں اور ان سے یہی سوال پوچھتی تھیں اور ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ کبھی وہ ہمیں اپنی چھوٹی بہن کہہ دیتی اور کبھی بیٹی اور ہمیں مشکوک قرار دے دیا جاتا۔آج بھی ہمارے ٹیچرز ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں مس ارم سے ایک دو بار نمبر کھو گیا تو انھوں نے فیس پر ہمیں تلاش کر لیا اور پھر ان کا کنفرمیشن کرنا۔

"میں فوجی فاؤنڈیشن انسٹیٹیوٹ والی ارم ہوں تم میری والی تابندہ ہو نا۔"

کچھ جملے صرف جملے نہیں ہوتے ہماری زندگی کا کل اثاثہ ہوتے ہیں ماضی میں گزارے ہوئے بہترین وقت کی کل کمائی ہوتی ہے جو بہت بیش قیمتی ہوتی ہے اور ہمیں بھی ہماری زندگی کی یہی کل کمائی محسوس ہوتی ہے۔اسکول،کالج،انسٹیٹیوٹ سے کچھ آگے بڑھے تو ادب کی دنیا میں قدم رکھا یہاں بھی سیکھنے سکھانے والے بہت ملے کچھ نے سکھایا یہاں سب گورکھ دھندا ہے۔ادب میں بھی ملاوٹی لوگ موجود ہیں بہت سے اداروں کے ساتھ کام کیا اور آج بھی جاری ہے لیکن اگر ایک بہترین استاد،بہترین رہنما،اصول پسند اور سب سے بڑھ کر جس کو بہن کہا اسے بہن صرف سمجھا نہیں بل کہ مانا بھی جس کو بیٹی کہا صرف بیٹی کہا نہیں مانا بھی ایسی ہی شخصیت طالب نظر کے سرپرست سر شہزاد خان صاحب ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے بہت کچھ نیا سیکھا ہر بار ایک نئی چیز سکھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں بالکل اپنے بچوں کی طرح روز نامہ طالب نظر میں کام کرنے والوں کو جتنی عزت دی جاتی ہے شاید ہی کسی اور ادارے نے کبھی دی ہو۔سر شہزاد خان صاحب ایک بہترین استاد کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ہم شکر گزار ہیں ان تمام اساتذہ اکرام کے جن کی بدولت جن کی دعاؤں اور محبت سے آج ہمیں چند لوگ جانتے ہیں آج ہم جو بھی ہیں ان سب کی حوصلہ افزائی کی بدولت ہیں ہمارا وجود ہماری پہچان ہمارے ان سارے اساتذہ کے نام اللّٰہ پاک سے دعا ہے ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہے یہ ہمیشہ یوں ہی ہمارے اصلاح کرتے رہیں یہی ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔