آج کے دور میں اقبال کا پیغام ،تحریر:فائزہ شہزاد
نقطہ نظر
شاعرِ مشرق علّامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگایا اور اُن میں ایک نئی عقابی رُوح پھونکی جِس کی وجہ سے وہ متحرک ہوئے اُن میں وہ جوش وہ جذبہ پیدا ہوا جِس نے ایک انقلاب برپا کیا اور مسلمان ایک جھنڈے تلے اکٹھے ہوئے اور آزاد سرزمین اُن کا مقدر بنی یعنی آزادی جیسی عظیم نعمت اُن کو ملی ـ
اقبال کا پیغام کسی مخصوص دور یا کسی مخصوص قوم قبیلے کے لئے نہیں تھا بلکہ اُن کا پیغام تمام اُمت مسلمہ کے لئے تھا ـ اقبال نے اُمت مسلمہ کی فلاح و بہبود اور عروج و زوال کو اور اپنی اُمید کو نوجوان نسل سے وابستہ کیا ہے ـ یہ نہیں کہ وہ ہمارے آباء واجداد ( بزرگوں ) کے وجود کو اہم نہیں سمجھتے بلکہ وہ اُن کے وجود کو ہمارے لئے رہنمائی کا ستارہ گردانتے ہیں کیونکہ انہوں نے عُمر بھر کی تلخیوں اور سنگینیوں سے بہت کچھ سیکھا ہوتا ہے جو ایک مثال ایک سبق کی طرح نسل در نسل منتقل ہوتا ہے ـ
اقبال کا مخاطب زیادہ تر نوجوان ہی ہیں اور وہ اُن کے سامنے ماضی کا شاندار زمانہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تُو نے
وہ کیا گردوں تھا تُو جس کا ہے اِک ٹوٹا ہُوا تارا
کیونکہ ہماری تاریخ ایک شاندار اور مثالی اسلاف کی روشن تاریخ ہے اور وہ چاہتے تھے کہ یہ تاریخ اسی طرح روشن رہے ـ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان مسلمان مغرب کی تقلید نہ کرےـ مغربی تہذیب میں صرف ظاہری چمک دمک تو نظر آتی ہے جبکہ وہ اندر سے سیاہ اور کھوکھلی ہےـ
اقبال کا پیغام اُس دور میں بھی اور آج کے موجودہ مادیت پرست دور کے لئے بھی ہےـ انہوں نے نوجوانوں کے لئے ہمیشہ " شاہین " کی علامت استعمال کی ہےـ وہ ہماری نسلوں کو شاہین بنانا چاہتے تھے بلکہ " ہیں " کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا کیونکہ اُن کے خیال میں شاہین ایسا پرندہ ہے جو انتہائی تیز رفتار ہےـ وہ ہمیشہ بلندیوں کی طرف پرواز کرتا ہے اور نیچے پستیوں کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتاـ وہ کبھی بھی کسی محل ، کسی درخت یا گھر پر اپنا ٹھکانہ نہیں بناتا بلکہ اُس کا ٹھکانہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہےـ اُس کی نِگاہ تیز ہے، وہ خوددار ہے، وہ کبھی مُردار کو منہ نہیں لگاتا ہمیشہ اپنا شکار خود کرتا ہے اور یہی تیز رفتاری ، تیز نگاہی ، خودداری ، خودی اور خوداعتمادی وہ نوجوانوں میں ہم سب میں ابھارنا چاہتے ہیں دیکھنا چاہتے ہیں ـ
عقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اِن کو اپنی منزل آسمانوں میں
مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے آج اقبال کے پیغام کو تو کیا اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات کو بالکل فراموش کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج پوری دُنیا میں مسلمان زوال پذیر ہیں ـ ہماری حالت زار پر غیر مسلم اقوام خنداں ہیں مگر ہمیں اپنی حالت پر رونا تو کیا ترس بھی نہیں آتاـ
ابھی بھی وقت ہے اور قدرت ہمیں سنبھلنے کا موقع دے رہی ہےـ ہمیں اپنی اسلامی اقدار کو اقبال کے پیغام کو سمجھنا ہو گا اُس پر عمل کرنا ہو گا ـ اپنی تن آسانی کو چھوڑ کر شاہین بننا ہوگاـ ہمیں اقبال کے اس پیغام پر عمل کر کے خود کو کامیاب کرنا ہےـ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر





