Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسکرین کی چمکتی دنیا بچوں کے بچپن پر خاموش حملہ،تحریر: دانش رحمان

danish rehmna

اسکرین کی چمکتی دنیا بچوں کے بچپن پر ایک خاموش حملہ ہے آج کے دور میں موبائل فون ٹیبلیٹ ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل مواد بچوں کی معصومیت اور قدرتی نشوونما کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے یہ دلکش دائرہ تعلیم تفریح اور رابطے کا وعدہ تو کرتا ہے مگر اس کی روشنی کے نیچے بچوں کے دماغی جسمانی جذباتی اور سماجی بڑھوتری پر گہرا اثر پڑ رہا ہے والدین کی مصروفیات اور سوشل میڈیا کی لت نے بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کر کے مصنوعی دائرے میں قید کر دیا ہے یہاں حرکت کی جگہ بے حرکتی اپنے تخیل کی جگہ تیار کردہ مواد اور حقیقی رشتوں کی جگہ مصنوعی رابطے غالب ہیں یہ محض عادت نہیں بلکہ بچوں کی صحت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ابتدائی سالوں میں بچوں کا دماغ قدرتی تجربات حقیقی کھیل اور آمنے سامنے کی بات چیت سے بہتر بڑھتا ہے مگر اسکرینوں کا زیادہ استعمال اس عمل کو روک رہا ہے اور دماغ میں نشے جیسی لت پیدا کر رہا ہے

یہ مسئلہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو ویڈیو کالز کے علاوہ اسکرین استعمال نہیں کرنا چاہیے دو سے پانچ سال کے بچوں کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے بڑے بچوں کے لیے تفریحی استعمال دو گھنٹوں تک محدود رکھیں مگر پاکستان میں شہروں اور دیہاتوں کے بچے اس حد سے کہیں زیادہ وقت اسکرینوں پر گزار رہے ہیں مطالعات بتاتے ہیں کہ سکول جانے والے بچے روزانہ چار سے سات گھنٹے یا اس سے زیادہ ڈیوائسز پر وقت صرف کرتے ہیں تعطیلات میں یہ تعداد اور بڑھ جاتی ہے کورونا وبا کے وقت آن لائن کلاسوں نے اس رجحان کو تیز کیا اب بہت سے گھروں میں اسکرین بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی بن چکی ہے اس وجہ سے بچے باہر کھیلنے دوڑنے اور حقیقی ماحول سے سیکھنے کے بجائے گھر کے اندر بیٹھے رہتے ہیں

جسمانی نقصان اس حملے کا سب سے واضح پہلو ہے انسانی جسم حرکت کے لیے بنایا گیا ہے مگر اسکرینوں کی وجہ سے بچے گھنٹوں ایک جگہ بیٹھے رہتے ہیں اس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے زیادہ بیٹھنے اور غیر ضروری کھانے سے وزن بڑھتا ہے دل کی بیماریوں کا امکان بڑھتا ہے اور جسم کمزور ہوتا ہے آنکھوں کی صحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے قریب کی نظر خشک آنکھیں اور آنکھوں کی تھکاوٹ عام ہو گئی ہے بڑے شہروں کے ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ شہری بچوں میں قریب کی نظر تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ قریبی فاصلے پر اسکرین دیکھتے رہتے ہیں اور کمرے میں روشنی مناسب نہیں ہوتی نیلی روشنی نیند کے ہارمون کو خراب کرتی ہے نتیجے میں بچے دیر سے سوتے ہیں نیند ٹوٹی پھوٹی رہتی ہے اور اگلے دن تھکاوٹ اور توجہ کی کمی ہوتی ہے ہاتھ پاؤں کی نشوونما جو دوڑنے چڑھنے اور حقیقی چیزوں سے کھیلنے سے ہوتی ہے اب کمزور پڑ رہی ہے بچوں کے ماہرین لکھائی میں مشکل توازن کی کمی اور ہم آہنگی کے مسائل والے بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ رہے ہیں

علمی اور تعلیمی اثرات بھی فکر انگیز ہیں اگرچہ کچھ مواد تعلیمی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر زیادہ تر مواد توجہ بکھیرتا ہے اور گہری سوچ کم کرتا ہے بچوں کی ایک کام پر دیر تک توجہ دینے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے پڑھنے کی برداشت گھٹ رہی ہے اور تخلیقی صلاحیتیں محدود ہوتی جا رہی ہیں انسانی بات چیت دماغی رابطے مضبوط کرتی ہے مگر اسکرینوں کا غیر فعال مواد زبان سیکھنے میں تاخیر پیدا کرتا ہے چھوٹے بچوں میں الفاظ سیکھنے اور بات کرنے میں سست روی دیکھی جا رہی ہے تعلیم کے میدان میں بھی اسکرینوں نے فرق پیدا کر دیا ہے اساتذہ کہتے ہیں کہ کلاس میں بچوں کی توجہ کم ہو گئی ہے روایتی تعلیم کے ساتھ اسکرینوں کا زیادہ انحصار بچوں کو حقیقی سوچنے اور مسائل حل کرنے کی مشق سے دور کر رہا ہے

سماجی اور جذباتی نقصان سب سے گہرا ہے بچپن سماجی مہارتیں ہمدردی اور جذبات کنٹرول کرنے کا زمانہ ہوتا ہے آزادانہ کھیل بچوں کو بات چیت جھگڑا حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ رہنے کی تربیت دیتا ہے مگر اسکرینوں نے ان مواقع کو کم کر دیا ہے سوشل میڈیا پر فلٹر والی تصاویر اور لائکس کی دوڑ بچوں میں موازنہ اور کم خود اعتمادی پیدا کر رہی ہے آن لائن دھمکیاں اور زہریلا مواد اضطراب اور اداسی بڑھا رہا ہے پاکستان میں ذہنی صحت کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں میں چڑچڑاپن الگ تھلگ رہنے اور جذباتی بے چینی بڑھا رہا ہے حقیقی دوستیاں کم ہو رہی ہیں جبکہ مجازی رابطوں نے ان کی جگہ لے لی ہے خاندانی وقت جیسے کھانے کی میز پر بات چیت بھی اسکرینوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے لڑکے گیمنگ کی طرف زیادہ جاتے ہیں یہ سب بچوں کی شخصیت کو کمزور بنا رہے ہیں اور انہیں زندگی کی حقیقی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کر رہے

ثقافتی نقصان بھی بہت بڑا ہے پاکستان کی روایتی ثقافت میں بچپن پتنگ اڑانے گلیوں میں کرکٹ کھیلنے کہانیاں سننے اور گھریلو کاموں سے بھرا ہوتا تھا یہ سرگرمیاں تفریح کے ساتھ ساتھ اچھی اقدار اور برادری کا احساس بھی سکھاتی تھیں مگر اسکرینوں نے ان روایات کو کمزور کر دیا ہے بچے عالمی تیار کردہ مواد میں کھو جاتے ہیں جس سے مقامی زبان روایات اور اقدار متاثر ہو رہی ہیں بزرگوں کا احترام اور خاندانی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں بچپن کی آزادانہ کھیلنے کی صلاحیت خطرے میں ہے اسکرینوں نے بچوں کو گھر کے اندر بند کر کے ان کی تخلیقی اور جسمانی طاقت محدود کر دی ہے

ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیاں نشے جیسے فیچرز استعمال کرتی ہیں جیسے لامتناہی سکرولنگ اور خود بخود چلنے والا مواد یہ بچوں کی خود کنٹرول کی صلاحیت کم کرتے ہیں پاکستان میں قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کمزور ہے آگاہی مہمات اور سخت قوانین کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو برے مواد سے بچایا جا سکے

اس مسئلے کا حل ممکن ہے اگر سب مل کر کوشش کریں والدین سب سے اہم ہیں گھر میں اسکرین سے پاک وقت اور جگہیں بنائیں جیسے کھانے کی میز سونے کا وقت اور صبح کے پہلے گھنٹے والدین خود نمونہ بنیں اور بچوں کے ساتھ پارک جانا کتابیں پڑھنا گھر میں کھیلنا اور باہر نکلنا شامل کریں سکولوں میں باہر کی تعلیم فنون لطیفہ کھیل اور تخلیقی کاموں کو بڑھاوا دیں اساتذہ کو اسکرین کے اثرات کی تربیت دیں حکومت عوامی آگاہی مہمات چلائے مضبوط قوانین بنائے اور کمیونٹی پارکس پر سرمایہ کاری کرے برادریوں مساجد اور محلے والوں کو اسکرین سے پاک پروگرام کہانیوں کے حلقے اور کھیلوں کی ٹیمیں بنانی چاہییں تاکہ بچے حقیقی ماحول میں واپس آ سکیں

بچپن ایک مختصر دور ہے یہ حیرت تجسس اور خالص خوشی کا زمانہ ہے ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا اسکرینوں کی چمک بچوں کو حقیقی دنیا سے دور کر رہی ہے جہاں وہ آزادانہ کھیل سکتے ہیں تجربات حاصل کر سکتے ہیں اور مضبوط بنیادوں پر بڑھ سکتے ہیں والدین معاشرہ اور حکومت کو مل کر اس خاموش حملے کا مقابلہ کرنا چاہیے ٹیکنالوجی کو صرف ایک محدود حیثیت دیں اور اسے بچوں کی زندگی کا حکمران نہ بننے دیں پاکستان کا مستقبل صحت مند ذمہ دار تخلیقی اور مضبوط نسل پر منحصر ہے جو حقیقی تجربات سے سیکھے یہ فیصلہ کا وقت ہے اگر آج سنجیدہ اقدامات کریں تو کل کا بچپن محفوظ رہے گا ورنہ آنے والی نسلیں اس خاموش چوری کا شکار رہیں گی آئیے سب مل کر حقیقی دنیا کی روشنی منتخب کریں جہاں بچے کھل کر جی سکیں اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ بنیں