Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم نے بچوں کو کامیاب ہونا سکھایا، خوش رہنا نہیں،سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

ہم نے اپنے بچوں کو بچپن سے ایک ہی بات سکھائی کہ زندگی میں کامیاب ہونا ہے۔ اچھے نمبر لینے ہیں۔ اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے۔ اچھی نوکری حاصل کرنی ہے اور پھر اس سے بھی اچھی نوکری تلاش کرنی ہے۔ ہم نے ان کے ہاتھ میں کتابیں دیں تو ساتھ یہ بھی کہا کہ دیکھو تمہیں فلاں کے بیٹے سے آگے نکلنا ہے۔ ہم نے ان کے امتحان کے نتائج کا انتظار ایسے کیا جیسے ان نمبروں میں ان کا پورا مستقبل بند ہو۔ بچے نے اگر 90 فیصد نمبر لیے تو ہم نے پوچھا باقی دس فیصد کہاں گئے اور اگر 70 فیصد آئے تو اسے سمجھایا کہ محنت کرو ورنہ زندگی میں کچھ نہیں بن پاؤ گے۔ شاید ہم نے اسے بہت کچھ سکھایا مگر ایک چیز بھول گئے۔ ہم نے اسے خوش رہنا نہیں سکھایا۔


ہم نے کبھی اپنے بچے سے یہ نہیں پوچھا کہ تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو۔ ہم نے زیادہ تر یہ پوچھا کہ بڑے ہو کر کیا کمانا چاہتے ہو۔ ڈاکٹر بنو گے یا انجینئر؟ سرکاری افسر بنو گے یا کسی بڑی کمپنی میں جاؤ گے؟ بیرون ملک جاؤ گے یا اپنا کاروبار کرو گے؟ لیکن شاید ہی کبھی ہم نے اس کے ساتھ بیٹھ کر پوچھا کہ تمہیں کس کام میں دل لگتا ہے۔ کس کام کے بعد تمہیں سکون ملتا ہے۔ کون سی چیز تمہیں واقعی خوش کرتی ہے۔ ہم نے کامیابی کا ایک ایسا پیمانہ بنا دیا جس میں گھر بڑا ہونا چاہیے، گاڑی اچھی ہونی چاہیے، بینک بیلنس زیادہ ہونا چاہیے اور معاشرے میں نام ہونا چاہیے۔ اس پیمانے میں سکون کی کوئی جگہ نہیں تھی۔


بچپن میں بچہ گلی میں کھیلنا چاہتا تھا تو ہم نے کہا پڑھ لو۔ وہ تھک کر سو جانا چاہتا تھا تو ہم نے کہا کل ٹیسٹ ہے۔ وہ کسی فن میں دلچسپی لینا چاہتا تھا تو ہم نے کہا اس سے کیا بنے گا۔ وہ کبھی ناکام ہوا تو ہم نے اسے یہ سمجھانے کے بجائے کہ ناکامی زندگی کا حصہ ہے یہ بتایا کہ تم نے ہمیں مایوس کر دیا۔ یوں آہستہ آہستہ بچے نے یہ سیکھ لیا کہ اسے وہی کام کرنا ہے جس پر والدین خوش ہوں۔ پھر ایک دن وہ بڑا ہو گیا۔ اس کے پاس ڈگری بھی تھی۔ نوکری بھی تھی۔ شاید گاڑی بھی تھی۔ مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ خود خوش کس چیز سے ہوتا ہے۔


ہماری ایک عجیب خواہش ہے کہ ہمارا بچہ دوسروں سے آگے نکلے۔ ہم اسے پڑوسی کے بچے سے ملاتے ہیں۔ رشتہ داروں کے بچوں سے ملاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والے کامیاب لوگوں سے ملاتے ہیں۔ ہم اسے بتاتے ہیں کہ دیکھو فلاں کہاں پہنچ گیا اور تم ابھی یہاں کھڑے ہو۔ پھر یہی بچہ بڑا ہو کر ہر وقت اپنے آپ کو کسی اور سے موازنہ کرتا رہتا ہے۔ اسے اپنی کامیابی بھی کم لگتی ہے کیونکہ اس کی نظر ہمیشہ اگلے شخص پر ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے آج بہت سے لوگ اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے پاس وہ سب کچھ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے انہوں نے برسوں محنت کی مگر دل میں پھر بھی ایک خالی جگہ موجود ہے۔


ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خوش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو محنت نہ کروائی جائے یا اسے ناکامی سے بچا کر رکھا جائے۔ کامیابی ضروری ہے۔ تعلیم ضروری ہے۔ ایک اچھا مستقبل بھی ضروری ہے۔ مگر بچے کو یہ احساس دینا بھی ضروری ہے کہ اس کی قدر صرف اس کے نمبروں، نوکری، تنخواہ یا عہدے سے نہیں ہے۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ کبھی ناکام ہو جائے تو گھر واپس آ سکتا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی کا راستہ بدلنا چاہے تو اس کی بات سنی جائے گی۔ اگر وہ تھک جائے تو اسے کچھ دیر رکنے کی اجازت ہوگی۔


شاید ہمیں اپنے بچوں سے ایک سوال اور پوچھنا شروع کرنا چاہیے۔ تم زندگی میں کیا بننا چاہتے ہو کے ساتھ یہ بھی کہ تم زندگی میں کیسا رہنا چاہتے ہو؟ کیونکہ کامیاب انسان وہ نہیں جس کے پاس صرف بہت کچھ ہو۔ کامیاب انسان وہ بھی ہے جو رات کو اپنے بستر پر لیٹ کر اپنے دن سے مطمئن ہو سکے۔ جسے اپنے کام سے نفرت نہ ہو۔ جس کے پاس اپنے والدین کے لیے وقت ہو۔ دوستوں کے لیے وقت ہو۔ اپنے لیے کچھ وقت ہو اور سب سے بڑھ کر وہ اپنے ہی بنائے ہوئے معیار کے نیچے کچلا نہ جا رہا ہو۔


ہم نے ایک پوری نسل کو مستقبل کی تیاری میں لگا دیا اور اس کا حال کہیں پیچھے رہ گیا۔ ہم نے بچوں کو بتایا کہ ایک دن تم خوش ہو جاؤ گے جب اچھی نوکری ملے گی۔ پھر کہا جب تنخواہ بڑھے گی۔ پھر کہا جب اپنا گھر ہو گا۔ پھر کہا جب گاڑی ہو گی۔ پھر شاید ریٹائرمنٹ کے بعد سکون ملے گا۔ مگر زندگی کسی ایک دن کا نام نہیں۔ زندگی وہ تمام دن ہیں جو ہم اس ایک دن کے انتظار میں گزار دیتے ہیں۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیابی کی دوڑ میں آگے بڑھنا نہ سکھائیں بلکہ کبھی راستے کے کنارے بیٹھ کر سانس لینا بھی سکھائیں۔ کیونکہ آخر میں سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ ہمارا بچہ زندگی میں کتنا کامیاب ہوا۔ سوال یہ بھی ہوگا کہ جس زندگی کو جینے کے لیے ہم نے اسے تیار کیا تھا کیا وہ زندگی اسے واقعی جینی بھی آئی؟