بچوں میں غذائی اور نشوونما کے مسائل،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
آج کل تقریباً ہر گھر کا سب سے بڑا مسئلہ کھانے کی میز پر ہونے والی وہ تکرار ہے جس میں ایک طرف پریشان ماں باپ ہوتے ہیں اور دوسری طرف کھانا نہ کھانے والے ضدی بچے۔ وقت پر کھانا نہ کھانا، گھر کی دال روٹی سے منہ موڑنا اور اس کے بدلے چپس، پاپڑ، ٹافیاں، ڈبے کے شربت اور حد سے زیادہ پیکٹ والا دودھ پینا اب صرف لاڈ پیار نہیں رہا بلکہ ایک مستقل بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ والدین کی عام شکایت ہوتی ہے کہ بچے کو بھوک نہیں لگتی، رنگ زرد پڑ گیا ہے، کمزوری سے ہڈیاں نظر آنے لگی ہیں اور وزن نہیں بڑھ رہا۔ لیکن اس بات پر کم ہی دھیان دیا جاتا ہے کہ اس بھوک کے مرنے میں خود ہمارے گھر کے غیر منظم معمولات اور آسانی پسندی کا کتنا بڑا عمل دخل ہے۔ جب تک اس مسئلے کی اصل وجہ کو نہ سمجھا جائے اور روزمرہ کی عادات درست کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی علاج کی مدد نہ لی جائے، تب تک یہ پریشانی ختم نہیں ہو سکتی۔
بچوں کی اس بدپرہیزی کی سب سے بڑی وجہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کی عادت ہے۔ دن بھر اگر بچہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد چپس، ٹافی یا بسکٹ کھاتا رہے گا تو اس کے پیٹ کو خالی ہونے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ جب پیٹ خالی نہیں ہوگا تو دماغ کو بھوک کا احساس کیسے ہوگا، جس سے سادہ اور روایتی کھانے کا دل چاہے۔ اس عادت کو بدلنے کے لیے سب سے پہلا اور ضروری قدم یہ ہے کہ کھانے کے اوقات کی سختی سے پابندی کی جائے۔ دن میں تین وقت باقاعدہ کھانا یعنی صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا دیا جائے، اور ان کھانوں کے درمیان صرف دو بار ہلکی پھلکی غذا دی جائے۔ کھانوں کے درمیانی ڈھائی سے تین گھنٹوں میں بچے کو کوئی بھی بھاری چیز، میٹھا شربت یا دودھ بالکل نہ دیا جائے تاکہ کھانے کے وقت اسے سچی بھوک لگی ہو۔
دوسری بڑی خرابی حد سے زیادہ دودھ پلانا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچہ اگر روٹی نہیں کھا رہا تو دودھ کی بوتل پی لے گا تو اس کی خوراک پوری ہو جائے گی، حالانکہ یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ دو سال سے بڑے بچے کے لیے چوبیس گھنٹوں میں دو چھوٹے کپ دودھ کافی ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ دودھ بچے کے معدے کو بلاوجہ بھرے رکھتا ہے اور جسم میں فولاد یعنی آئرن جذب نہیں ہونے دیتا، جس سے خون کی کمی یعنی اینیمیا ہو جاتا ہے، اور خون کی کمی سے بچے کی بھوک بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے دودھ کو روٹی کا نعم البدل بنانے کے بجائے شام کے وقت بغیر اضافی چینی کے دیں اور کھاتے وقت یا رات کو سوتے ہوئے بوتل پلانے کی عادت کو آہستہ آہستہ ختم کریں۔
بازاری غیر معیاری خوراک یعنی جنک فوڈ چھڑوانے کے لیے صرف ڈانٹنے ڈپٹنے سے بات نہیں بنتی بلکہ گھر کے ماحول کو بدلنا پڑتا ہے۔ اگر الماریوں اور فریج میں چپس اور کولڈ ڈرنکس موجود رہیں گی تو بچے کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ گھر میں ان چیزوں کا لانا بند کیا جائے اور بچے کو گھر کے بنے ہوئے مزیدار اور صحت بخش متبادل دیے جائیں۔ تلی ہوئی چپس کے بجائے دیسی گھی اور ہلکے نمک میں بھنے ہوئے مکھانے، بھنے ہوئے چنے یا گھر میں ہلکے زیتون کے تیل میں پکے آلو کے قتلے دیے جائیں جو ہڈیوں کو طاقت اور نشاستہ فراہم کرتے ہیں۔ ٹافیوں اور چاکلیٹ کے بدلے نرم کھجوریں، بادام، اخروٹ اور کشمش سامنے رکھی جائیں۔ ڈبے کے مصنوعی جوسز کے بجائے تازہ پھلوں کا شیک یا ستو اور گڑ کا شربت دیا جائے۔ کھانے کے دوران ٹی وی، موبائل اور ٹیبلٹ بند رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ اسکرین پر نظریں جمائے رکھنے سے بچہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کتنا اور کیا کھا رہا ہے اور اس کا ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ کھلی فضا میں کم از کم ایک گھنٹہ کھیل کود اور رات کو جلدی سلانے سے جسم کی خوراک جلانے کی رفتار تیز ہوتی ہے اور خود بخود بھوک لگتی ہے۔
جب یہ تمام عادات سنبھل جائیں تو اندرونی نظامِ ہاضمہ کو فعال کرنے اور غذا کو جسم کا حصہ بنانے کے لیے ہومیو پیتھک طریقہ علاج انتہائی محفوظ اور مستقل نتائج دیتا ہے۔ ہومیو پیتھی کا اصول یہ ہے کہ یہ بچے کی پوری کیفیت، مزاج اور بیماری کی علامات دیکھ کر کام کرتی ہے۔ وہ بچے جو بہت زیادہ چڑچڑے، ضدی اور غصیلے ہو جائیں، جن کا پیٹ تلی ہوئی اور میٹھی چیزیں کھا کر خراب رہتا ہو اور وہ گھر کا کھانا دیکھ کر متلی محسوس کریں، ان کے لیے نکس وامیکا بہترین دوا ہے۔ اس کے برعکس وہ بچے جو جسمانی طور پر دبلے پتلے اور کمزور ہوں لیکن نمکین چیزوں کے شوقین ہوں اور کھانا کھاتے ہی پیٹ میں گیس یا اینٹھن ہو، ان میں نیٹرم میور پیاس اور غذا کے توازن کو بحال کرتی ہے۔
جن بچوں کا پیٹ پھولا رہے، سر پر پسینہ زیادہ آئے اور وہ مٹی، چاک یا کچے چاول کھانے کی ضد کریں، ان کے لیے کلکیریا کارب اور کلکیریا فاس ہڈیوں کی مضبوطی اور دودھ کو ہضم کرنے کی صلاحیت لوٹانے میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں۔ اگر بچہ دو لقمے کھاتے ہی کہہ دے کہ پیٹ بھر گیا ہے اور پیٹ میں ہوا بھر جائے، تو یہ جگر اور آنتوں کی سستی ہوتی ہے جس کے لیے لائیکوپوڈیم جگر کے افعال کو ٹھیک کر کے کھل کر بھوک جگاتی ہے۔ پیٹ کے کیڑوں یعنی پیراسائٹس کی وجہ سے بھوک مٹ جانا، رات کو نیند میں دانت پیسنا، ناک رگڑنا اور چہرے پر سفید دھبے بننا عام مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے سینا اور ٹیومریم آنتوں کے کیڑوں کو صاف کر کے بچے کی صحت بحال کرتی ہیں۔ کمزور، سوکھے ہوئے اور خون کی کمی کے شکار بچوں کو دوبارہ توانا بنانے کے لیے الفالفا اور ایوینا سیٹائیوا کا استعمال بھوک اور وزن دونوں میں قدرتی اضافہ کرتا ہے۔
دوا اور درست معمولات زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہومیو پیتھک ادویات جسم کے سوئے ہوئے نظام کو بیدار کرتی ہیں مگر اس نظام کو توانائی والدین کے صبر اور کھانے پینے کے اچھے معمولات سے ہی ملتی ہے۔ جب دسترخوان پر محبت اور نظم و ضبط ہوگا اور بازاری چیزوں کی روک تھام ہوگی تو بچوں کی صحت اور نشوونما کے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیں





