ہماری زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی قدر ہمیں اکثر اس وقت سمجھ آتی ہے جب وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہتے۔ والدین، دادا دادی اور نانا نانی صرف ہمارے خاندان کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ ہماری تاریخ، ہماری تربیت اور ہماری یادوں کا وہ خزانہ ہوتے ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ مگر افسوس کہ تیز رفتار زندگی، مصروفیات اور بدلتے معاشرتی رویوں نے ہمیں اپنے بزرگوں سے دور کر دیا ہے۔
ہر سال یکم اکتوبر کو عالمی یومِ بزرگاں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کو یہ احساس دلانا ہے کہ عمر رسیدہ افراد معاشرے کے لیے بوجھ نہیں بلکہ تجربے، علم، برداشت اور زندگی کی بصیرت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف ایک دن بزرگوں کے نام کر کے اپنی ذمہ داری پوری کر سکتے ہیں؟
ہمارے معاشرے میں ایک وقت تھا جب گھر کے اہم فیصلوں میں بزرگوں کی رائے کو خاص اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ شام کے وقت خاندان کے افراد بزرگوں کے گرد بیٹھتے، ان کے تجربات سنتے اور ان سے زندگی کے معاملات میں رہنمائی لیتے تھے۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ موبائل فون کی اسکرین نے بہت سے گھروں میں وہ جگہ لے لی ہے جہاں کبھی بزرگوں کے ساتھ گفتگو ہوا کرتی تھی۔
بعض گھروں میں بزرگ مالی طور پر محتاج ہو جائیں تو ان کی اہمیت بھی کم ہونے لگتی ہے۔ جب تک وہ کمانے والے ہوں، ان کی بات سنی جاتی ہے، لیکن ریٹائرمنٹ یا بڑھاپے کے بعد بعض اوقات انہیں غیر ضروری سمجھا جانے لگتا ہے۔ یہ رویہ صرف ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اقدار کے زوال کی علامت ہے۔
بزرگوں کو سب سے زیادہ ضرورت عزت، توجہ اور اپنائیت کی ہوتی ہے۔ ہر مسئلے کا حل پیسہ نہیں ہوتا۔ کبھی چند منٹ کی گفتگو، خیریت دریافت کرنا، ان کے پاس بیٹھنا یا ان کی پرانی باتیں سن لینا بھی ان کے لیے بہت بڑی خوشی بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بڑھاپا زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس سے تقریباً ہر انسان کو گزرنا ہے۔ آج جو نوجوان اپنے والدین یا بزرگوں کے ساتھ رویہ اختیار کرتا ہے، کل وہ خود بھی اسی عمر کو پہنچے گا۔ اس لیے بزرگوں کا احترام دراصل اپنے مستقبل کا احترام ہے۔
ریاست اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ عمر رسیدہ افراد کے لیے صحت، پنشن، سماجی تحفظ اور باعزت زندگی کے مواقع بہتر بنائے جائیں۔ ایسے مراکز اور پروگرام ہونے چاہئیں جہاں بزرگ تنہائی سے بچ سکیں، اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکیں اور معاشرے سے جڑے رہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ تعلیم دینی ہوگی کہ بزرگ پرانے زمانے کی نشانی نہیں بلکہ تجربے کی کتاب ہیں۔ ان کے بالوں کی سفیدی میں کئی دہائیوں کی محنت، مشکلات، کامیابیاں اور قربانیاں چھپی ہوتی ہیں۔
آج عالمی یومِ بزرگاں کے موقع پر ہمیں صرف سوشل میڈیا پر ایک خوبصورت تصویر یا پیغام شیئر کرنے کے بجائے اپنے گھر کے کسی بزرگ کے پاس بیٹھ کر ان کا ہاتھ تھامنا چاہیے۔ ان سے پوچھنا چاہیے کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں، ان کی بات سننی چاہیے اور انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ آج بھی ہمارے لیے اہم ہیں۔
بزرگوں کی عزت کسی ایک دن کا تقاضا نہیں، یہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بزرگوں کو تنہائی نہیں، محبت دینی ہوگی؛ بوجھ نہیں، عزت دینی ہوگی؛ خاموشی نہیں، گفتگو دینی ہوگی۔
کیونکہ جن ہاتھوں نے ہمیں چلنا سکھایا تھا، آج شاید انہیں صرف ہمارا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔






