Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بے غرض احساس ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

نقطہ نظر
danial hassan

انسان نے ازل سے ابد تک جن چند بنیادی حقیقتوں کو سمجھنے اور بوجھنے کی کوشش کی ہے، ان میں محبت سب سے نمایاں اور پراسرار ہے۔ یہ ایسا جذباتی و روحانی تجربہ ہے جس نے فلسفیوں، شاعروں، دانشمندوں اور عام انسانوں کو یکساں طور پر اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ دنیا میں زندگی کی خوبصورتی اور اس کا مقصد اس بات میں نہیں کہ انسان سانس لے رہا ہے یا اپنی مادی ضروریات پوری کر رہا ہے، بلکہ زندگی کا مادہ اس احساس سے پھوٹتا ہے جسے ہم محبت کہتے ہیں۔ محبت کے بغیر زندگی بالکل ایسے ہی ہے جیسے بغیر روح کے قالب، بغیر پھول کے خارزار یا بغیر روشنی کے تاریک غار ہوتا ہے۔ اگر کائنات کی اس بھیڑ میں محبت کا عنصر منہا کر دیا جائے تو زندگی اک اکتا دینے والی، بے روح اور بے معنی سرگرمی بن کر رہ جاتی ہے۔

انسان کی قدیم اور تراشیدہ عادت یہ رہی ہے کہ وہ ہر جذباتی و سائنسی حقیقت کو خانوں میں بانٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم نے محبت جیسے وسیع، عالمگیر اور لامحدود احساس کو بھی مختلف سرحدوں، زمروں اور عنوانات میں تقسیم کر دیا ہے۔ کوئی اسے روحانی محبت کا نام دیتا ہے جو عام طور پر اعلیٰ درجے کے جذباتی و وجدانی تعلق سے تعبیر کی جاتی ہے تو کوئی اسے جسمانی محبت کہہ کر مادی کشش تک محدود کر دیتا ہے۔ کہیں اسے ملکوتی یعنی فرشتہ صفت اور پاکیزہ جذبہ کہا جاتا ہے تو کہیں ناسوتی یعنی مادی اور دنیوی تعلق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ ہم نے محبت کو جغرافیائی اور تہذیبی حد بندیوں میں قید کرتے ہوئے مشرقی اور مغربی محبت کے خانوں میں بھی بانٹ دیا ہے۔

تہذیبی یا مفاہمی نقطہ نظر سے یہ تقسیم کتنی ہی دلفریب کیوں نہ لگے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبت کی یہ نام نہاد تقسیم انسانی ذہن کو جوڑنے کے بجائے مزید الجھاؤ اور تفریق پیدا کرتی ہے۔ جب ہم کسی جذبے پر عنوان چپکا دیتے ہیں تو ہم اس کی وسعت کو محدود کر دیتے ہیں۔ ہم اس کے گرد ایسی شرط عائد کر دیتے ہیں جو اس کی ذاتی آزادی کو ختم کر دیتی ہے۔ محبت تو تمام سرحدوں، پابندیوں اور تعریفوں سے آزاد اڑان کا نام ہے۔ اس کا کوئی ایک عنوان نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے الفاظ کی چند محتاط تعریفوں میں قید کیا جا سکتا ہے۔ محبت کی روح اس کے غیر مشروط، سادہ، خالص اور بے غرض ہونے میں مضمر ہے۔

جب محبت خالص ہوتی ہے تو اس میں کوئی سودے بازی نہیں ہوتی، شرائط نہیں ہوتیں اور نہ ہی کسی بدلے کی توقع ہوتی ہے۔ یہ ایسا خودرو جذبہ ہے جو بغیر کسی خاص وجہ کے انسانی دل کی بنجر زمین میں پھوٹ پڑتا ہے۔ یہ ایسا شفاف چشمہ ہے جو بغیر کسی لالچ یا غرور کے بہتا رہتا ہے۔ محبت تو احساس کا نام ہے، ایسا احساس جو دوسرے کی موجودگی کو سراہتا ہے، جو بغیر کسی غرض کے دوسرے کی خوشی اور بقا کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس میں میں اور تو کی تمیز مٹ جاتی ہے اور لامتناہی جوڑ اور ہم آہنگی باقی رہ جاتی ہے۔

محبت کی فطرت اتنی ہمہ جہت اور طاقتور ہے کہ اسے ایک ہی وقت میں دو بالکل متضاد عناصر سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہ آبِ حیات۔بھی ہے اور آتش کی روح بھیںئٹ۔

ایک طرف، محبت آبِ حیات یعنی زندگی بخشنے والا پانی ہے۔ جس طرح بنجر زمین پر بارش کا قطرہ زندگی کی نئی کونپلیں جلا دیتا ہے، بالکل اسی طرح محبت مرجھائے ہوئے، مایوس اور ٹوٹے ہوئے انسان کے اندر جینے کی نئی رمق پیدا کر دیتی ہے۔ یہ دل کی پیاس بجھاتی ہے، روح کو سیراب کرتی ہے، انسان کو اندرونی سکون اور شادابی عطا کرتی ہے۔ محبت انسان کو برداشت، نرمی، شفقت اور ہمدردی کا درس دیتی ہے۔ یہ وہ مرہم ہے جو زندگی کے بڑے سے بڑے زخم کو بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن دوسری طرف، محبت آتش کی روح بھی ہے۔ اس کے اندر شوخ، بے باک اور گرم تر حرارت موجود ہوتی ہے۔ آتش کی طرح محبت پرانی فرسودہ روایات، انا، خودغرضی اور ذاتی غرور کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ یہ انسان کے اندر ایسا جنون اور جذبہ پیدا کرتی ہے جو اسے کسی بھی دشوار گزار راستے پر چلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ محبت انسان کو آرام طلبی سے نکال کر اعلیٰ مقصد کی خاطر خود کو قربان کر دینے کا جذبہ دیتی ہے۔ یہی وہ آگ ہے جو انسان کو اس کے محدود وجود سے باہر نکال کر کائنات کے عظیم تر سچائیوں سے روشناس کراتی ہے۔

کائنات کی خوبصورتی اور اس کا ارتقاء دراصل متضاد عناصر کے ملن میں پنہاں ہے۔ جب ان دو بظاہر متضاد قوتوں آتش اور آب کا ملن ہوتا ہے تو سحر انگیز معجزہ جنم لیتا ہے۔ بظاہر پانی اور آگ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور آگ پانی کو بھاپ بنا کر اڑا دیتی ہے۔ لیکن جب محبت ان دونوں متضاد طاقتوں کو یکجا کرتی ہےنتو تباہی کے بجائے تخلیقی طاقت جنم لیتی ہے۔

آتش اور آب کا یہ ملن اس بات کی علامت ہے کہ محبت دنیا کے شدید ترین تضادات کو مٹانے اور انہیں نئی شکل دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ یہ مادی اور روحانی، عقل اور جنون اور مشرق و مغرب جیسے تمام بظاہر متضاد عناصر کو ملا کر نیا وجود تخلیق کرتی ہے۔ جب آتشِ محبت آبِ شفقت سے ملتی ہے تو کائنات مختلف روپ دھار لیتی ہے۔ دنیا کو دیکھنے کا زاویہ یکسر بدل جاتا ہے۔ ہر شے میں نیا انداز اور نغمہ نظر آنے لگتا ہے۔

کائنات کا یہ نیا ظہور انسانی شعور کی بیداری ہے۔ جب انسان محبت کو تمام مصنوعی حدود اور تعریفوں سے آزاد کر کے اس کے خالص ترین روپ میں قبول کر لیتا ہے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ محبت کسی ایک فرد، رشتے یا مخصوص نظریے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری کائنات کی بنیادی تخلیقی توانائی ہے۔

محبت کو خانوں میں بانٹنا اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ ایسا نور ہے جو ہر مظہر میں یکساں چمکتا ہے۔ یہ کسی خاص عنوان کی محتاج نہیں، نہ ہی اسے فرسودہ فلسفوں اور تعریفوں میں جکڑا جا سکتا ہے۔ محبت تو سادہ، بے ساختہ اور خالص احساس ہے جو انسان کو اس کے حقیقی وجود سے جوڑتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں سے محبت کی ان تمام فرسودہ تقسیموں کو ختم کر دیں اور اسے اس کے آبِ حیات اور آتشیں روپ کے ساتھ تسلیم کر لیں تو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی نئے روپ اور حسین انداز میں ظہور پذیر ہو سکتی ہے، جہاں نہ کوئی تفریق باقی رہے گی اور نہ ہی کوئی بے معنی قید کا عنصر ریے گا۔