شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور فاطمہ افسردہ سی، بے حس و حرکت بیٹھی آسمان کے بدلتے رنگوں کو تک رہی تھی۔ وہ کن سوچوں کے گورکھ دھندے میں گم تھی، اسے خود بھی خبر نہ تھی۔ آس پاس کی رونق، لوگوں کی آوازیں اور دفتر کی چہل پہل جیسے اس کے لیے وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔ اس کی نظریں نیلی وسعتوں پر یوں جم چکی تھیں جیسے وہ وہاں کوئی گمشدہ خواب تلاش کر رہی ہو۔ نہ پلکیں جھپکتی تھیں، نہ لبوں پر کوئی جنبش تھی۔
احمد، جس کے ہاتھ میں بریانی کی گرم پلیٹ تھی، تیز قدموں سے فاطمہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وقاص نے دور سے اس کا یہ انداز دیکھا تو برداشت نہ کر سکا اور آگے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا۔
"بھائی! خیر تو ہے، کدھر کا ارادہ ہے؟" وقاص کے لہجے میں سردی تھی۔
احمد نے چہرے پر ایک مصنوعی مسکراہٹ سجائی اور لاپروائی سے بولا، "کچھ نہیں یار، ذرا فاطمہ کے پاس جا رہا ہوں۔"
احمد کا یہ بے تکلفانہ انداز اور فاطمہ کے قریب جانے کے بہانے ڈھونڈنا وقاص کے دل میں تیر کی طرح چبھا۔ اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
"فاطمہ! اس ویران آسمان میں ایسا کیا دیکھ رہی ہو؟ مجھے بھی تو بتاؤ!" احمد نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے خوشامدانہ لہجے میں کہا۔ مگر فاطمہ ایک صدمے کی کیفیت میں تھی، اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
"آؤ نا، مل کر بریانی کھاتے ہیں۔ تمہارا موڈ اچھا ہو جائے گا۔ اگر کچھ اور کھانے کا دل ہے تو حکم کرو، میں ابھی لے آتا ہوں،" احمد نے اصرار کیا۔ لیکن فاطمہ کی خاموشی دیوار کی طرح قائم رہی۔ اب احمد کو اپنی انا مجروح ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کا چہرہ غصے سے لال ہونے لگا۔
"تم ٹھیک تو ہو نا؟" احمد نے جھنجھلا کر فاطمہ کے کندھے کو ہلایا۔
اس اچانک لمس پر فاطمہ چونکی۔ اس نے چند بار پلکیں جھپکائیں، جیسے کسی دوسری دنیا سے لوٹ کر آئی ہو۔ "ہاں... ہاں میں ٹھیک ہوں۔ تم کب آئے؟ کیا ہوا؟" اس کی آواز میں ایک عجیب سا اکھڑ پن اور تھکن تھی۔
وقاص دور کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اور اندر ہی اندر بارود کی طرح سلگ رہا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ آگے بڑھ کر احمد کو پیچھے دھکیل دے۔ اس کے لیے یہ منظر کسی دہکتی ہوئی آگ پر ننگے پاؤں کھڑے ہونے جیسا تھا۔
"فاطمہ! میں تم سے اپنے دل کی ایک اہم بات کہنا چاہتا ہوں،" احمد نے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔
"ہاں بولو احمد، سن رہی ہوں،" فاطمہ نے بے دلی سے جواب دیا۔
احمد نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، "فاطمہ! تم مجھے بہت پسند ہو۔ میں تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟"
یہ سنتے ہی فاطمہ کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس کی آنکھوں میں غصے کی چمک ابھری۔ "احمد! یہ کس قسم کا بیہودہ مذاق ہے؟ میں تمہیں پہلے بھی کئی بار صاف لفظوں میں بتا چکی ہوں کہ میں شادی شدہ ہوں! تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم مجھ سے اس طرح کی گھٹیا بات کرو۔" وہ غصے سے کانپتی ہوئی اپنی سیٹ سے کھڑی ہو گئی اور وہاں سے جانے لگی۔
احمد کی مردانہ انا کو یہ انکار ہضم نہ ہوا۔ اس نے آگے بڑھ کر زبردستی فاطمہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "ایسے کیسے جا رہی ہو..."
ابھی اس کا جملہ پورا بھی نہ ہوا تھا کہ فضا میں ایک زور دار تھپڑ کی گونج ابھری۔ فاطمہ نے پورے غصے اور قوت سے احمد کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا تھا۔
پورے ہال میں سانپ سونگھ گیا۔ سب لوگ اپنی اپنی جگہ ساکن رہ گئے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہمیشہ خاموش رہنے والی، سب کی مدد کرنے والی یہ معصوم سی فاطمہ اس قدر جلاد بن سکتی ہے۔
وقاص کا خون ابلنے لگا۔ وہ آگ بگولہ ہو کر آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ مظہر نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی۔ وہ دونوں کے درمیان آیا اور دھیمی آواز میں بولا، "احمد، فاطمہ! بس کرو، لوگ دیکھ رہے ہیں۔ معاملے کو یہیں ختم کرو۔"
"پیچھے ہٹو تم!" احمد نے مظہر کو ایک زور دار دھکا دیا اور پاگلوں کی طرح چیخنے لگا، "لوگو! سنو، دیکھو اس عورت کو! یہ ہے ہماری معصوم فاطمہ! کہنے کو میری سب سے اچھی دوست بنتی ہے، لیکن سب سے جھوٹ بولتی ہے کہ یہ شادی شدہ ہے۔ یہ سب اس کا ڈھونگ ہے، ایک بہت بڑا ڈراما ہے!"
فاطمہ ساکت کھڑی تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن وہ بے بس تھی۔ اس کے پاس کوئی ایسا ثبوت، کوئی ایسی انگوٹھی یا نکاح نامہ نہیں تھا جو وہ اس وقت ان اچھلتی ہوئی زبانوں کے سامنے رکھ سکتی۔ احمد اس کی خاموشی کو اپنی جیت سمجھ کر اس کے کردار پر کیچڑ اچھالتا رہا۔
آفس کے دیگر ملازمین بھی اب کانا پھوسی کرنے لگے اور فاطمہ سے سوال کرنے لگے، "اگر شادی شدہ ہو تو تمہارا شوہر کہاں ہے؟ دکھاؤ ہمیں!"
ان زہریلے سوالوں کی تاب نہ لاتے ہوئے فاطمہ کا دم گھٹنے لگا اور وہ وہاں سے بھاگنے لگی۔ لیکن وقاص نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکا اور ڈھال بن کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
"رکو فاطمہ! بھاگنے کی ضرورت نہیں،" پھر اس نے سب کی طرف رخ کیا اور گرجدار آواز میں کہا، "فاطمہ جھوٹ نہیں بول رہی!"
سب نے وقاص کو حیرت سے دیکھا۔ احمد نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا، "سر! آپ تو بس اس سے ہمدردی جتا رہے ہیں۔ اس کا سچ ہم سب جانتے ہیں۔ لگتا ہے اگلا شکار ہماری کمپنی کا مالک ہی ہے!"
وقاص کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا، اس کی آنکھیں خونخوار ہو گئیں۔ اس نے اپنی خاموشی کا چلہ تار تار کرتے ہوئے سب کے سامنے وہ سچ اگل دیا جس نے پورے ہال میں زلزلہ لا دیا:
"زبان سنبھال کر بات کرو احمد! اس کا شوہر کوئی اور نہیں... میں ہوں!"
مزید پڑھیں



ضلع ٹانگ میں دو روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

