Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دھوپ کا کفن ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

جون کی چٹختی دوپہر تھی اور آسمان سے آگ برس رہی تھی۔ شہر کی چوڑی سڑکیں لو کے تپتے تھپیڑوں کی وجہ سے کسی جلتے ہوئے تندور کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ایسے ہوش رُبا موسم میں بھی زندگی کا پہیہ تھما نہیں تھا اور دنیا اپنی دھن میں مگن تھی۔ بڑی بڑی چمکتی ہوئی ائیرکنڈیشنڈ گاڑیاں شیشے چڑھائے سائیں سائیں کرتی گزر رہی تھیں، جن کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں کو باہر کی اس جہنم نما گرمی کا شاید احساس تک نہ تھا۔ اسی سڑک کے کنارے، پختہ فٹ پاتھ پر ایک بوڑھا آدمی اکیلا بیٹھا تھا۔ اس کا نام مراد تھا، لیکن اس نام کی کوئی مراد کبھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ اس کے سر کے بال تپتی دھوپ کی سفیدی سے بھی زیادہ سفید ہو چکے تھے اور چہرے کی گہری جھریاں اس کی تلخ زندگی کا پورا پتہ دیتی تھیں۔ مراد کے پاس اس دنیا میں نہ کوئی اپنا تھا اور نہ ہی سر چھپانے کو کوئی چھت میسر تھی۔ یہ فٹ پاتھ ہی اس کا بستر تھا اور نیلا آسمان اس کی واحد چھت۔


مراد کے پاس اپنے تن کو ڈھانپنے کے لیے صرف ایک پرانی، جسی ہوئی میلی چادر تھی جو جگہ جگہ سے تار تار ہو چکی تھی۔ سردیوں میں تو یہ چادر اس کے لیے غنیمت ہوتی تھی، لیکن اس چلچلاتی دھوپ میں یہ اس کے نحیف جسم پر ایک بوجھ بن چکی تھی۔ وہ بار بار اپنی چادر کو درست کرتا اور سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتا۔ اسی فٹ پاتھ کے بالکل پیچھے چائے کا ایک چھوٹا سا کھوکھا تھا، جہاں سلیم نامی ایک نوجوان لڑکا کام کرتا تھا۔ سلیم روزانہ دوپہر کو اس بوڑھے کی بے بسی دیکھتا تو اس کا دل پگھل جاتا تھا۔ وہ اپنی جیب سے یا ہوٹل کے مالک سے چھپا کر مراد کے لیے چائے کا ایک گرم کپ اور تندوری روٹی کا ایک ٹکڑا لے آتا تھا۔


آج بھی سلیم چائے اور روٹی لے کر مراد کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا کہ بوڑھے کی پیشانی سے پسینے کی بڑی بڑی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ سلیم نے چائے کا کپ آگے بڑھاتے ہوئے ہمدردی سے کہا، "بابا جی! اٹھیں، کچھ کھا لیں۔ لیکن مجھے ایک بات بتائیں، آپ اس تپتی ہوئی دھوپ میں یہاں کیوں بیٹھے رہتے ہیں؟ سامنے اس بڑی دکان کا کتنا بڑا سایہ دار شیڈ ہے، آپ وہاں کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہاں کچھ تو ٹھنڈک ہوگی اور آپ کو آرام ملے گا۔"


مراد نے اپنی سوجھی ہوئی اور تھکی ہوئی آنکھیں اٹھائیں، سلیم کو دیکھا اور ایک سرد آہ بھر کر بولا، "سلیم بیٹا! وہ دکان دار غریبوں کو اپنے سایہ دار شیڈ کے نیچے کھڑا بھی نہیں ہونے دیتا، بیٹھنا تو دور کی بات ہے۔ یہ سایہ تو ان خوش نصیب لوگوں کا حق ہے جن کے پاس دنیا کی دولت ہے۔ ہمارے جیسے بے سہاروں کے لیے تو یہ دھوپ ہی سب کچھ ہے۔"


سلیم نے حیرت سے پوچھا، "مگر بابا، یہ دھوپ تو انسان کو جھلسا دیتی ہے، اس میں بھلا کیا اچھائی ہے؟ آپ اس کی تعریف کیوں کر رہے ہیں؟"


مراد کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری اور وہ بولا، "بیٹا، یہ دھوپ بہت سچی ہے۔ یہ کسی انسان میں فرق نہیں کرتی۔ یہ امیر کے محل پر بھی اتنی ہی شدت سے چمکتی ہے جتنی اس غریب کے فٹ پاتھ پر۔ انسان تو غریب کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتے ہیں، اپنا سایہ چھپا لیتے ہیں، مگر یہ دھوپ کسی سے منہ نہیں موڑتی۔ یہ سب پر برابر برستی ہے۔"


سلیم خاموشی سے بوڑھے کی باتیں سنتا رہا۔ وہ ایک عام سا لڑکا تھا، اس فلسفے کو پوری طرح سمجھ تو نہ سکا، مگر مراد کے لہجے کے درد نے اس کے دل کو اداس کر دیا۔ مراد کا ایک اصول تھا کہ وہ کبھی کسی کے آگے بھیک کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاتا تھا۔ وہ دن بھر لکڑیاں چنتا یا کوڑا اٹھا کر اپنے دو وقت کی روٹی کا انتظام خود کرتا تھا۔


شام ڈھلی تو گرم ہوا کے تھپیڑے کچھ کم ہوئے، لیکن مراد کی طبیعت آج کچھ ناساز لگ رہی تھی۔ اس نے رات کو سلیم کی دی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہ کھایا۔ رات کا گہرا اندھیرا ہر طرف پھیل گیا اور شہر کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ مراد نے اپنی وہی پھٹی ہوئی میلی چادر سر تک اوڑھ لی اور فٹ پاتھ کے سخت پتھروں پر لیٹ گیا۔ رات بھر وہ بھوک اور تیز بخار کی شدت سے تڑپتا رہا، مگر اندھیری رات میں اس کی سسکیاں سننے والا کوئی نہیں تھا۔


اگلی صبح جب سورج نے مشرق سے سر نکالا تو اس کی پہلی کرن اسی فٹ پاتھ پر پڑی۔ سلیم صبح سویرے دکان کھولنے پہنچا۔ اس نے روز کی طرح مراد کی طرف دیکھا، لیکن آج مراد اپنی جگہ پر بالکل ساکت تھا۔ اس کی چادر اسی طرح اس کے منہ پر سجی ہوئی تھی۔ سلیم نے پاس جا کر آواز دی، "بابا جی! اٹھیں، صبح ہو گئی ہے، میں چائے لاؤں؟"


مگر وہاں سے کوئی جواب نہ آیا۔ سلیم کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے مراد کے چہرے سے چادر ہٹائی۔ مراد کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھیں اور اس کا جسم بالکل ٹھنڈا اور سخت ہو چکا تھا۔ وہ اس بے حس دنیا کو چھوڑ کر جا چکا تھا۔ سلیم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہاں چند راہگیر جمع ہو گئے، مگر کوئی بھی اس غریب کی لاش کو ہاتھ لگانے یا اس کے کفن دفن کا خرچ اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سب تماشائی بنے کھڑے تھے۔


اسی دوران دوپہر ہو گئی اور سورج عین سر پر آ گیا۔ تپتی ہوئی کائنات نے اپنی پوری حرارت مراد کے بے جان جسم پر ڈال دی۔ سورج کی تیز، چمکدار اور سنہری شعاعوں نے مراد کے پورے وجود کو اس طرح ڈھانپ لیا جیسے کسی نے اس پر سونے کا ملمع چڑھا دیا ہو۔ سلیم نے روتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے مراد کے کہے ہوئے آخری الفاظ یاد آ گئے کہ "یہ دھوپ امیر غریب میں فرق نہیں کرتی"۔ دنیا والوں نے تو اس غریب کو دو گز سفید کپڑے کا کفن بھی نہ دیا، مگر قدرت نے آسمان سے اپنی سنہری دھوپ اتار کر اس کے بے جان جسم کو "دھوپ کا کفن" عطا کر دیا تھا، جو اب چمک رہا تھا۔