Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دفاعِ حرمین شریفین ہماری پہلی ذمہ داری ،تحریر: جان ایم رمضان

نقطہ نظر
jaanm ramzann

حرمین شریفین کا نام آتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، آنکھیں عقیدت سے نم ہو جاتی ہیں اور زبان بے اختیار درود و سلام سے تر ہو جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ صرف زمین کے دو مقدس خطے نہیں، یہ مسلمانوں کے ایمان کی دھڑکن، روحانی زندگی کا مرکز اور محبتِ رسول ﷺ کا عظیم حوالہ ہیں۔


دنیا کے کسی بھی کونے میں آباد مسلمان کا دل اگر کسی ایک مقام کی طرف بے اختیار کھنچتا ہے تو وہ خانہ کعبہ ہے، اور اگر کسی شہر کی گلیوں کی خاک کو آنکھوں سے لگانے کی آرزو دل میں بسی رہتی ہے تو وہ مدینہ منورہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حرمین شریفین کا امن و تحفظ ہر مسلمان کے لیے ایک انتہائی حساس اور مقدس معاملہ ہے۔


حرمین کی حفاظت، دراصل ہمارے ایمان کی حرمت کی حفاظت ہے۔


پاکستانی قوم کے دلوں میں سعودی عرب اور بالخصوص حرمین شریفین کے لیے جو محبت موجود ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ہماری ماؤں کی دعاؤں سے لے کر ہمارے بزرگوں کی آنکھوں کی نمی تک، مکہ اور مدینہ کی محبت ہر پاکستانی کے دل میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔ لاکھوں پاکستانی ہر سال حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور جب وہ پہلی مرتبہ خانہ کعبہ پر نظر ڈالتے ہیں تو آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آتا ہے۔


یہ صرف عقیدت نہیں، یہ ایک ایسا رشتہ ہے جسے فاصلے کمزور نہیں کر سکتے۔


اسی لیے اگر کبھی حرمین شریفین کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہو تو پوری امتِ مسلمہ کے دل بے چین ہو جاتے ہیں۔ مقدس مقامات کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی، تخریب کاری یا جنگی کارروائی سے محفوظ رکھنا ایک بنیادی دینی، اخلاقی اور انسانی ضرورت ہے۔


پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھی اسی گہری وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ، دفاعی اور سفارتی تعاون موجود ہے۔ پاکستان نے مختلف مواقع پر سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی شعبوں میں تعاون کیا ہے۔ یہ تعلق محض حکومتوں کا تعلق نہیں بلکہ دونوں اقوام کے درمیان محبت اور اعتماد کا رشتہ بھی ہے۔


پاکستانی قوم کے لیے حرمین شریفین کی سلامتی کسی ایک حکومت یا ادارے کا موضوع نہیں؛ یہ دل کا معاملہ ہے۔


لیکن اس جذبے کے ساتھ عقل، تدبر اور ریاستی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ آج کا دور جدید جنگی ٹیکنالوجی، ڈرونز، میزائلوں، سائبر حملوں اور دہشت گردی جیسے پیچیدہ خطرات کا دور ہے۔ ایسے حالات میں مقدس مقامات کا دفاع صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ جدید دفاعی صلاحیت، مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط سکیورٹی، سفارتی حکمتِ عملی اور برادر ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔


ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ حرمین شریفین کسی سیاسی تنازعے یا طاقت کی کشمکش کا میدان نہیں بننے چاہییں۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مقدس مقامات کے امن، تقدس اور احترام کو ہر قسم کے اختلاف سے بالاتر رکھیں۔


آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مقدس مقامات کے تحفظ پر متحد ہو۔ مسلم ممالک کو سکیورٹی، سفارت کاری، انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ کیونکہ دشمن اگر مقدس مقامات کے امن کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے تو اس کے مقابلے میں جذبات کے ساتھ حکمت اور اتحاد بھی درکار ہے۔


پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے۔ ہماری مسلح افواج نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پاکستانی عوام اپنی فوج کو ملک کی حفاظت کی علامت سمجھتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون بھی ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ ایسے معاملات میں پاکستان کے فیصلے قومی مفاد، آئینی تقاضوں، باہمی معاہدوں اور ریاستی پالیسی کے مطابق کیے جاتے ہیں۔


مگر ایک بات واضح کہہ دینا فرض سمجھتا ہوں ،حرمین شریفین کی حرمت پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ الحمدللہ


یہ وہ مقامات ہیں جہاں انسان اپنی دنیاوی شناختیں بھول کر صرف اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے۔ وہاں بادشاہ اور فقیر ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وہاں رنگ، نسل، زبان اور قومیت کی دیواریں مٹ جاتی ہیں۔ وہاں دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے مسلمان ایک ہی رب کے حضور ایک ہی سمت رخ کیے کھڑے ہوتے ہیں۔


اسی لیے حرمین شریفین کا امن دراصل پوری امت کے اتحاد کی علامت ہے۔مکہ الحمدللہ امن کا مرکز ھے دلوں کا سکون ھے ، مدینہ میرا عشق ھے عشقِ رسول ﷺ ھے عشق محمدﷺ کی شمعیں ہمیشہ روشن رہیں گی۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حرمین شریفین کی حفاظت خود فرمائیں جیسے ابابیلوں سے ہاتھی والوں کو رسوا کیا، اے اللہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو ہر قسم کے فتنے، فساد، دہشت گردی اور شر سے محفوظ فرما، سعودی عرب کو امن و استحکام عطا کر اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور باہمی محبت نصیب فرما۔ آمین ،اور جب کبھی تاریخ ہم سے یہ سوال کرے کہ حرمین شریفین کے امن کے بارے میں تمہارا موقف کیا تھا، تو ہمارا جواب واضح ہونا چاہیے،ہم نے حرمین کی حرمت کو دل میں رکھا، ان کے امن کو اپنی دعا بنایا، اور ان کے تحفظ کے لیے ذمہ دارانہ کردار کو اپنی قومی اور ملی ذمہ داری سمجھا۔کیونکہ ہمارے لیے حرمین شریفین محض دو مقدس مقامات نہیں۔یہ ہمارے ایمان کی پہچان ہیں، ہماری عقیدت کا مرکز ہیں اور ہمارے دلوں کی سب سے مقدس منزل ہیں۔حرمین شریفین ہمارے ایمان کی پہچان ہیں یہی ہر مسلمان کے دل کی صدا ہے۔ہم عوام اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور افواج پاکستان دفاع حرمین شریفین کی پاسدار ھے