Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ڈیجیٹل تنہائی کا عذاب،تحریر:مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

سقراط نے کہا تھا کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے۔ وہ تنہا نہیں رہ سکتا۔ لیکن اگر آج کا سقراط زندہ ہوتا تو شاید وہ اپنی اس تعریف پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا۔ آج کا انسان بظاہر ہجوم میں گھرا ہوا ہے، اس کے پاس ہزاروں دوست اور لاکھوں فالورز موجود ہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے سب سے تنہا دور میں جی رہا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات کو سونے تک، ہماری زندگی کا ہر لمحہ اس چمکتی ہوئی اسکرین کا اسیر ہو چکا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ نے ہمیں دنیا بھر سے تو جوڑ دیا، لیکن ہمارے اپنے کمرے میں بیٹھے شخص سے ہمیں کوسوں دور کر دیا۔

ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا اس ڈیجیٹل انقلاب نے ہماری زندگیوں میں واقعی خوشیاں بھری ہیں؟ یا پھر ہمیں ایک ایسی بھیڑ چال کا حصہ بنا دیا ہے جہاں ہمارا ذہنی سکون، ہماری مسکراہٹ اور ہمارا چین کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے؟سوشل میڈیا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے خوشیوں کا ایک جھوٹا اور مصنوعی معیار قائم کر دیا ہے۔ یہاں ہر شخص اپنی زندگی کے صرف بہترین، چمکدار اور فلٹر شدہ لمحات شیئر کرتا ہے۔ اچھے کپڑے، مہنگے ہوٹلوں کا کھانا، برانڈڈ گاڑیاں اور قہقہے لگاتے چہرے۔ جب ایک عام نوجوان یا قاری اپنی عام سی، مشکلات سے بھری زندگی کا موازنہ دوسروں کی اس "مکمل" ڈیجیٹل زندگی سے کرتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسکرین پر دکھائی دینے والی ہر تصویر کے پیچھے ایک اداس حقیقت بھی ہو سکتی ہے۔ ہم دوسروں کے "پردے کے سامنے" کا موازنہ اپنے "پردے کے پیچھے" سے کر کے خود کو اذیت دیتے رہتے ہیں۔اس نقلی اور فرضی دنیا کی بے حسی اور نام نہاد مقبولیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ آج کل ایسے دلخراش اور لرزہ خیز واقعات کثرت سے سننے کو ملتے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر لاکھوں پیروکار رکھنے والے نامی گرامی لوگ اور مشہور شخصیات اپنے فلیٹس یا بند کمروں میں تنہا مر جاتے ہیں، اور کئی کئی دن تک ان کی لاشیں وہاں پڑی سڑتی گلتی رہتی ہیں لیکن کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ دنیا بھر میں ان کا ایک نام ہوتا ہے، اسکرین پر ان کی ایک جھلک کے لیے لاکھوں لوگ "پسند" کا بٹن دبانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں، لیکن اس ڈیجیٹل ہجوم کے پیچھے ان کی حقیقی زندگی اتنی سنسان ہوتی ہے کہ موت کے وقت ان کا ہاتھ تھامنے والا یا لاش کو سنبھالنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ یہ تضاد اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا کے یہ رشتے کتنے کھوکھلے، عارضی اور بے معنی ہیں۔بات صرف احساسِ کمتری تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اب ہماری خوشی اور غم کا معیار ہماری انگلیوں کے لمس اور چند "پسندیدگیوں" پر مشروط ہو چکا ہے۔ اگر کسی پوسٹ پر توقع کے مطابق پسندیدگیاں یا تبصرے نہ آئیں، تو انسان خود کو ناکام اور ناپسندیدہ سمجھنے لگتا ہے۔ یہ ذہنیت ہماری خودداری اور عزتِ نفس کو دوسروں کی تائید کا محتاج بنا رہی ہے۔ ہم دوسروں کو متاثر کرنے کے چکر میں اپنی اصلیت، اپنی سادگی اور اپنی پہچان کھوتے جا رہے ہیں۔رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر موجود "ڈیجیٹل ہراسگی" اور بے جا "تنقیدی حملے" پوری کر دیتے ہیں۔ کسی کی معمولی سی غلطی یا مختلف رائے پر لوگ اس طرح زہریلے تبصروں کی بوچھاڑ کرتے ہیں جیسے انہیں دوسروں کی تذلیل کا لائسنس مل گیا ہو۔ اس نقلی دنیا کی بے رحمی نے ہمارے معاشرے میں بے چینی، ذہنی دباؤ اور افسردگی کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ اب یہ ایک وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ہم ٹیکنالوجی کا استعمال ترک نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ اس کا منطقی حل ہے۔ لیکن ہمیں اپنی بقا کے لیے "ڈیجیٹل وقفہ" کی عادت ڈالنی ہوگی۔ ہمیں یہ اصول بنانا ہوگا کہ دن میں چند گھنٹے، خصوصاً کھانا کھاتے وقت اور سونے سے ایک گھنٹہ پہلے، ہم اس جادوئی ڈبے کو خود سے دور رکھیں گے۔ ہمیں اپنے حقیقی رشتوں، اپنے والدین، بہن بھائیوں اور مخلص دوستوں کو وقت دینا ہوگا جن کی محبت کسی پسندیدگی یا تبصرے کی محتاج نہیں ہوتی۔میرا پیغام صرف اتنا ہے کہ زندگی اسکرین کے اندر نہیں، اسکرین کے باہر بکھری پڑی ہے۔ اصل سکون دوسروں کی تائید حاصل کرنے کی اس لایعنی دوڑ میں نہیں، بلکہ اپنے "آج" میں خوش رہنے، قدرت کا قرب حاصل کرنے اور شکر گزاری میں ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ ڈیجیٹل تنہائی ہماری روح کو کھوکھلا کر دے، ہمیں بیدار ہونا ہوگا اور اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔