Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہمیں دوسری بار یتیم کرنے والی بہن،تحریر:شمسہ رانی

نقطہ نظر
shamsa rani

بچپن بھی عجیب موسم ہوتا ہے ۔کھیلنے کودتے،ہنستے مسکراتے ،نہ جانے کب زندگی اپنے قدموں کے نشان چھوڑتی ہوئی جوانی کی دہلیز تک پہنچ جاتی ہے۔ ہمیں بھی کہاں معلوم تھا کہ ہنسی کے معنی ایک دن اچانک ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے ۔زندگی ہمیں ایسے سبق پڑھائے گی ۔جن کے لیے کوئی کتاب تیار نہیں کرتی۔

ہم چار بہن بھائی تھے ۔ہمارے گھر میں محبت بھی تھی، شرارتیں بھی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کا احساس بھی ، میری بڑی بہن عطیہ ہم سب کے لیے صرف ایک بہن نہ تھی۔ وہ ہمارے گھر کی مضبوط دیوار تھی۔ مگر اس وقت ہمیں اندازہ کہاں تھا کہ ایک دن یہی دیوار ہمارے پورے وجود کا سہارا بن جائے گی۔

میں ساتویں جماعت میں تھی۔ اور عطیہ تقریبا فرسٹ ایئر میں تھی۔ ابھی ہماری انکھوں میں خواب تھے ۔ابھی مستقبل کے راستے واضح نہیں ہوئے تھے کہ اچانک ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے تو گھر کی چھت وہی رہتی ہے مگر اس کے نیچے رہنے والوں کو اسماں بدلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

والد کے جانے کے بعد زندگی نے ہمیں مشکلات کے ایسے راستے پر لا کھڑ ا کیا۔ جہاں ہر قدم ہر ایک نیا امتحان تھا ۔ایسے وقت میں عطیہ نے ہمارے سروں پر باپ کی طرح ہاتھ رکھا اور کہا کچھ بھی ہو جائے میں اپنے بہن بھائیوں کی ذمہ داری اٹھاؤں گی۔

یہ محض ایک جملہ نہیں تھا ،یہ اس کی زندگی کا عہد تھا۔

اس نے ایک نجی سکول میں ملازمت شروع کر دی۔ سکول سے واپس اتی تو گھر کے کام اور ہماری ضرورتوں کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی، پھر شام کو اکیڈمی میں بڑھانے چلی جاتی۔ وہ دن بھر دوسروں کے بچوں کا مستقبل سنوارتی اور رات کو اپنے بہن بھائیوں کے خوابوں کی فکر میں جاگتی رہتی۔

ہمیں کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ خود کتنی تھک چکی ہے۔

اس کا بلڈ پریشر اکثر بہت زیادہ رہتا تھا۔ مگر ہم شاید اس بیماری کی گہرائی سے واقف نہیں تھے۔ ایک روز اس کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو اسے ہسپتال لے گئے ۔وہاں معلوم ہو گیا اس کے دل میں رکاوٹ ہے اور اپریشن ضروری ہے۔ ڈاکٹر نے اسے ارام اور علاج کا مشورہ دیا۔ مگر عطیہ نے جیسے اپنی ذات کو ایک طرف رکھ دیا۔

اس نے کہا:

؛ابھی میرے بہن بھائیوں کو میری ضرورت ہے میں ان چکروں میں نہیں پڑ سکتی:

وہ اپنی تکلیف کو خاموشی سے نگل گئی اور ہماری تعلیم کو اپنی صحت پر ترجیح دیتی رہی۔

یوں وقت گزرتا رہا ۔میں نے ماسٹر ز مکمل کیا اور مجھے ملازمت مل گئی۔ میرے چھوٹے بھائی نے بھی ملازمت شروع کر دی ۔جبکہ سب سے چھوٹا بھائی بی کام کی ڈگری مکمل کر کے اپنے مستقبل کی طرف بڑھنے لگا ۔ہمیں محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید اب عطیہ کی ذمہ داری کچھ کم ہو جائیں گی شاید تب وہ اپنے لیے بھی جی سکے گی۔

مگر شاید اسے اپنی ذات سے زیادہ ہماری فکر تھی۔

ایک دن وہ سکول سے واپس ائی تو اچانک کمرے میں گر پڑی۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی ۔اس کے ہاتھ پاؤں مڑ گئے تھے ۔اور حالت انتہائی خراب تھی ۔ہم اسے فوراً ایمرجنسی میں لے گئے ۔ڈاکٹرز نے بتایا کہ اسے برین ہیمرج ہوا ہے ۔

وہ وقت ہماری زندگی کا ایک ایسا باب تھا۔ جسے یاد کرتے ہوئے اج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔

کچھ عرصہ بیماری اور علاج کے بعد اللہ نے اسے صحت عطا کی ۔ وہ دوبارہ سنبھل گئی ۔ہمیں لگا شاید زندگی نے اسے ایک اور موقع دے دیا ہے ۔ڈاکٹروں نے ارام کا مشورہ دیا۔ مگر عطیہ پھر اپنی ملازمت پر واپس چلی گئی ۔ اسے سرکاری ملازمت مل چکی تھی۔ اور اس نے اسے بھی جاری رکھا ۔

ہم نے اسے سمجھایا ارام کا کہا ،مگر اس کا جواب وہی تھا:

؛ ابھی میرے بہن بھائیوں کو میری ضرورت ہے:

یہ جملہ شاید اس کی زندگی کا اخری جملہ بننے جا رہا تھا ۔مگر ہمیں اس وقت اس کی خبر نہ تھی۔

وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریوں میں مصروف ہوگی۔ سکول، گھر، بہن، بھائی، ہماری ضروریات اور اپنے خوابوں سے زیادہ ہماری زندگی ۔وہ اپنی صحت کے ساتھ مسلسل سمجھوتا کرتی رہی، جیسے اسے اپنی زندگی سے زیادہ ہماری زندگی عزیز ہو۔

پھر ایک دن اچانک وہ دوبارہ برین ہیمرج کا شکار ہو گئی ۔

اس بار حالات بہت سنگین تھے ۔ہسپتال، دعائیں ،بے چینی ،امیدا ورخوف سب کچھ ایک ساتھ ہماری زندگی میں اتر ایا ۔وہ کئی دن وینٹیلیٹر پر رہی ۔ہم ہر لمحہ اللہ سے اس کی زندگی مانگتے رہے۔مگر شاید رب نے اس فرشتہ صفت بہن کے لیے کوئی اور مقام لکھ رکھا تھا۔

اور پھر وہ چلی گئی۔

بس یوں ،جیسے گھر کا چراغ اچانک بجھ جائے۔

اس کا جانا ہمارے لیے صرف ایک بہن کا بچھڑنا نہیں تھا۔یہ وہ صدمہ تھا جس نے ہمیں دوسری بار یتیم کر دیا ۔پہلی بار ہمارے سر سے باپ کا سایہ اٹھا تھا۔ دوسری بار عطیہ کی صورت میں ہمیں وہ سایہ بھی چھوڑ گیا۔ جو برسوں ہمارے لیے باب بن کر کھڑا رہا۔

اج جب میں پیچھے مڑ کر اپنی زندگی کو دیکھتی ہوں۔ تو مجھے اپنی ہر کامیابی کے پیچھے عطیہ کا چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ میری تعلیم، میری ملازمت، میرے خواب، سب میں کہیں نہ کہیں اس کی محنت شامل ہے۔ وہ اپنی زندگی کے قیمتی سال ہمارے مستقبل کے نام کر گئی ۔

میں شمسہ ہوں، مگر میری زندگی کی کہانی میں ایک نام ہمیشہ روشن رہے گا ۔وہ ہےعطیہ ۔

وہ بہن جس نے اپنے حصے کی خوشیاں ہمیں دے دیں، اپنی صحت ہمارے خوابوں پر قربان کر دی اور جاتے جاتے ہمیں یہ سکھا گئی کہ محبت صرف لفظ نہیں ہوتی، محبت کبھی کبھی پوری زندگی بن کر کسی کے ساتھ کھڑی رہتی ہے ۔

عطیہ میری پیاری بہن اج ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی اواز اج بھی دل کے کسی کونے سے سنائی دیتی ہے: :ابھی میرے بہن بھائیوں کو میری ضرورت ہے :

اور شاید یہی اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت تعارف بھی ہے اور میری زندگی کا سب سے بڑا قرض بھی۔