ڈاکٹر شاہد کی کتاب 'الفاظ و افکار',تبصرہ نگار: ظفر اقبال ظفر
نقطہ نظر
ڈاکٹر شاہد ایم شاہد کی تصنیف 'الفاظ و افکار' کا مقصد قارئین کی فکری اور ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اس مجموعے میں مختلف موضوعات، ادبی آراء اور گہرے معانی پر مشتمل تحریریں اور نظمیں شامل ہیں۔ مصنف نے معاشرتی اصلاح، انسانی جذبات اور اخلاقی اقدار کو خوبصورت انداز میں اجاگر کیا ہے۔ یہ تخلیقی کاوش قارئین کو زندگی کے فلسفے اور مثبت سوچ سے روشناس کرواتی ہے۔کتاب،الفاظ و افکار،میں فکری ارتقاء اور الفاظ کے اثرات کے حوالے سے اہم اور بنیادی نکات بیان کیے گئے ہیں۔
الفاظ انسان کے داخلی تجربات، جذبات، ادراک اور شعور کو مجسم کر کے دوسروں تک پہنچانے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ان میں انسانوں کو متحرک کرنے، قائل کرنے اور انقلابات کی چنگاری سلگانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ الفاظ کی صورت اختیار کرنے والے افکار کے ذریعے ہی انسانی زندگی کے ارتقاء کا قافلہ آگے بڑھتا ہے اور نسلِ انسانی کی تہذیب و تمدن میں نکھار آتا ہے۔ تعمیری اور مثبت سوچ کا ابلاغ انسان کے ارتقائے ذات و حیات کے لیے ضروری ہے۔الفاظ ہمارے خیالات کی ترتیب و تزئین کرتے ہیں اور دوسری طرف انسان کا علمی طریقہ، فکر اور تجربات الفاظ کے چناؤ اور اظہارِ بیان کو شکل دیتے ہیں۔ اس باہمی تعامل کو سمجھنے سے ابلاغی مہارتیں اور ہمدردی کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔انسان کی فکری و ذہنی ساخت کی درست خطوط پر تعمیر و ترتیب انسان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لاتی ہے۔ کتاب میں پیش کردہ افکار قارئین کے لیے فکر و عمل کی دعوت فراہم کرتے ہیں اور انسانی رویوں کو متحرک کرتے ہیں۔قلم سوچ کو محفوظ بنانے کا بہترین ذریعہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے وراثتی امانت بنتا ہے، جبکہ کتاب انسانی افکار و نظریات کی پرورش اور تشخص کو اجاگر کرتی ہے۔کتاب کے ابتدائی صفحات اور پیش لفظ میں مصنف نے مختلف فکری، ادبی اور معاون شخصیات کا ذکر کیا ہے۔
مصنف نے اپنے فکری سفر اور ذہنی و ادبی تربیت کے حوالے سے درج ذیل مشاہیر کا ذکر کیا ہے۔ پیش لفظ کے آغاز میں علامہ اقبال کے شعر (جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود) کا حوالہ دیا گیا ہے۔تاریخِ ادب اور حکمت کے باب میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمت کا ذکر کیا گیا ہے۔اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے معاشرتی تجربات کا حوالہ دیا گیا ہے۔واصف علی واصف کی ادبی تحاریر اور اشعار کا ذکر کیا گیا ہے۔شیخ سعدی ؒ کی حکمت بھری کہاوتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف نے اپنی اس تخلیقی کاوش کا انتساب اپنے فرزند یشوع شاہدکے نام کیا ہے۔کتاب،الفاظ و افکار،میں پیش کی گئی سنہری باتوں (اقوالِ زریں) کا بنیادی مقصد انسانی ذات، اخلاق اور معاشرتی زندگی کی اصلاح و رہنمائی ہے جس کا بنیادی مقصد انسانی ذہن اور کردار کی درست خطوط پر تعمیر سازی کرنا ہے تاکہ قارئین میں تعمیری اور مثبت سوچ بیدار ہو سکے۔ان اقوال کا مقصد انسان کے دل و ذہن کو زرخیز بنانا، قارئین کی عادات و کردار میں مثبت تبدیلی لانا، معاشرے میں محبت و ہمدردی کی فضا قائم کرنا اور منفی خیالات کا خاتمہ کرنا ہے۔یہ سنہری باتیں اخلاق، رشتوں، نیت، صبر، اور روحانیت جیسے گوناگوں موضوعات پر حکمت پر مبنی رہنمائی فراہم کرتی ہیں جو عملی زندگی میں چراغِ راہ کا کام دیتی ہیں۔ جدید دور کی مصروفیت اور وقت کی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے طویل مضامین کے بجائے اختصار کے ساتھ ایک سے دو جملوں کے جامع اقوال کے ذریعے اہم فکری نکات کو قارئین کے دل و دماغ تک پہنچانا ہے۔معاشرے میں خیر و روشنی کو عام کرنا، انسانی ادراک و شعور میں وسعت لانا اور ذات و حیات کے فکری ارتقاء کو آگے بڑھانا ان اقوال کا اہم مقصد ہے۔کتاب کا عنوان،الفاظ و افکار،انتہائی پر مغز، منطقی اور با معنیٰ رکھا گیا ہے، جس کے پیچھے درج ذیل فکری اور ابلاغی وجوہات شامل ہیں۔الفاظ اور افکار کا باہمی تعلق:الفاظ ہی وہ بنیادی وسیلہ ہیں جن کے ذریعے انسانی افکار و خیالات تحریر یا نطق (گفتگو) کی صورت میں مجسم ہو کر دوسروں تک پہنچتے ہیں۔ایک طرف الفاظ ہمارے خیالات کو ترتیب و تزئین فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف انسان کے تجربات اور فکری زاویے اس کے الفاظ کے چناؤ اور اظہارِ بیان کو شکل دیتے ہیں۔الفاظ کے ذریعے تشکیل پانے والے مثبت اور تعمیری افکار ہی انسانی زندگی اور تہذیب و تمدن کے ارتقائی سفر کو آگے بڑھاتے ہیں۔ مصنف کے پاس اپنے خوبصورت، اصلاحی اور حکمت بھرے افکار کو مؤثر اور مختصر الفاظ کے سانچے (پیکر) میں سمو کر دوسروں تک منتقل کرنے کا بہترین وصف موجود ہے۔الفاظ اور افکار کا یہ باہمی تعامل کائنات اور زندگی کے بارے میں ہمارے ادراک کو وسعت دیتا ہے اور باہمی تعلقات میں ابلاغی مہارتوں و ہمدردی کو فروغ دیتا ہے۔
مصنف (ڈاکٹر شاہد ایم شاہد) کے نزدیک زندگی کا اصل مقصدمحض دن گزارنا نہیں، بلکہ واضح مقصد کا تعین کر کے اسے اعلیٰ اور آفاقی قدروں سے جوڑنا ہے۔ اس حوالے سے کتاب میں درج ذیل اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔انسان اس وقت تک بے منزل رہتا ہے جب تک وہ اپنے مقاصد کا تعیّن نہیں کر لیتا۔ مصنف کے نزدیک وہ شخص ادھورے دنوں کی پیدائش ہے جو بے مقصد زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائے۔مقصد چاہے جسمانی ہو یا روحانی، جب اس میں پختگی اور اعلیٰ قدریں شامل ہوتی ہیں تو وہ لاثانی اور لافانی بن جاتا ہے۔ عالمگیر اور آفاقی مقاصد نسلوں اور قوموں کی کایا پلٹ دیتے ہیں۔جو انسان زندگی کے نشیب و فراز، سختیوں اور آزمائشوں سے نہیں گزرتا، وہ زندگی کی اصل معنویت اور مقصدیت سے محروم رہ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو خدا کی تابع فرمانی ہے، کیونکہ اسی اصول کو اپنانے سے انسان کو سرفرازی اور حقیقی کامیابی کا سفر نصیب ہوتا ہے۔
انسان کی زندگی کا مقصد یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ نیکی کا ایسا درخت لگائے جس کا سایہ اور ثمر معاشرے کے دیگر تمام لوگوں کو نصیب ہو سکے۔
کتاب،الفاظ و افکار،میں مصنف ڈاکٹر شاہد ایم شاہدکا فنی اسلوبِ تحریر بے حد منفرد، مؤثر اور جدید ابلاغی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔مصنف نے طویل مقالات اور طویل نثر نگاری کے بجائے اپنے مرکزی خیال کو اختصار کے ساتھ ایک یا دو جامع جملوں (اقوالِ زریں) میں بیان کرنے کا اسلوب اپنایا ہے۔ یہ اندازِ تحریر جدید دور کے ابلاغی رجحانات اور قارئین کی طبع کے عین مطابق ہے۔ان کا اسلوب بظاہر سادہ اور عام فہم محسوس ہے، لیکن ان سادگی بھرے جملوں میں گہری معنویت اور بصیرت چھپی ہوئی ہے۔ الفاظ کا ادیبانہ، شستہ اور رفتہ استعمال بات کو قاری کے دل میں اتار دیتا ہے۔مصنف کے طبیب اور معالج ہونے کا اثر ان کے قلم پر بھی نظر آتا ہے۔ وہ انسان کے اندرونی، اخلاقی اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کا نفسیاتی و اخلاقی حل بھی تجویز کرتے ہیں۔مصنف کو اپنے خوبصورت اور تعمیری افکار کو ''الفاظ کے پیکر'' اور موتیوں کی مالا میں پرونے پر کامل قدرت حاصل ہے۔ وہ مختلف قدرتی و انسانی تمثیلوں اور استعاروں کے ذریعے گہرے مفاہیم کو دلنشین بناتے ہیں۔کتاب میں افکار کی تدوین اور ترتیب بڑی چابکدستی، منصوبہ بندی اور متوازن طبع سے کی گئی ہے۔ ہر قول کے پیچھے زندگی کی حقیقتوں کا ایک منطقی اور فلسفیانہ زاویہ موجود ہے۔
مزید پڑھیں





