حیا کہاں گئی؟،تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظر
حیا اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک ہے۔ یہ صرف لباس یا ظاہری وضع قطع کا نام نہیں بلکہ انسان کے دل، نگاہ، زبان، کردار اور رویّے کی پاکیزگی کا نام ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں حیا کو ایمان، تقویٰ اور پاکیزہ کردار کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو دیکھ کر یہ سوال شدت سے ذہن میں ابھرتا ہے: حیا کہاں گئی؟
قرآنِ کریم انسان کو سب سے پہلے اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔" (النور: 30) اس کے فوراً بعد مومن عورتوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کا حکم دیا گیا۔ (النور: 31) اس سے واضح ہوتا ہے کہ حیا کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں، بلکہ مرد بھی اس کے برابر مخاطب ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں بے حیائی کا ایک بڑا ذریعہ نگاہوں کی بے احتیاطی ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ہماری انگلیوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسا مواد جو کبھی گھروں میں دیکھنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا، آج چند لمحوں میں ہماری اسکرین پر موجود ہوتا ہے۔ ہم نہ صرف اسے دیکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات دوسروں تک پہنچانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ "انسان کے کان، آنکھ اور دل، سب کے بارے میں بازپرس ہوگی۔" (بنی اسرائیل: 36)
حیا کا تعلق زبان سے بھی ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں گفتگو میں پاکیزگی اور مناسب انداز اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر کسی کی تضحیک، کردار کشی، تمسخر اور نامناسب گفتگو عام ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔" (الحجرات: 11) اسی سورت میں غیبت اور بدگمانی سے بھی منع کیا گیا ہے۔ (الحجرات: 12)
اگر ہم ان تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہمارے معاشرے کی بہت سی اخلاقی بیماریاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے حیا کی اہمیت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا: "حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "حیا خیر ہی لاتی ہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) گویا حیا کمزوری نہیں بلکہ ایمان کی علامت اور خیر کا ذریعہ ہے۔
آج ہم حیا کو اکثر صرف لباس کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں، حالانکہ ایک شخص مناسب لباس پہن کر بھی بدزبان، بدنگاہ اور بدکردار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حیا کا دائرہ صرف خواتین تک محدود کرنا بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مرد کی نگاہ، زبان، لباس اور کردار بھی حیا کے تقاضوں کے پابند ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو پاکیزگی اور شرم و حیا کی تعلیم دی۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) اس فرمان سے اندازہ ہوتا ہے کہ حیا محض معاشرتی رسم نہیں بلکہ ایمان سے جڑی ہوئی قدر ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حیا ترقی کی دشمن نہیں ہے۔ اسلام نے علم، تعلیم، تجارت، پیشہ ورانہ کامیابی اور معاشرتی کردار سے منع نہیں کیا؛ بلکہ پاکیزگی اور حدود کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دی ہے۔ اصل مسئلہ جدید ہونا نہیں، بلکہ جدیدیت کے نام پر اخلاقی حدود کو فراموش کر دینا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے کردار کا جائزہ لیں۔ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں، اپنی زبان کو پاک رکھیں، سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط کریں اور اپنے گھروں میں حیا، ادب اور احترام کا ماحول پیدا کریں۔ والدین اگر خود عملی نمونہ بنیں تو اولاد کو حیا کا درس محض الفاظ سے نہیں دینا پڑے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ حیا کہیں گئی نہیں؛ ہم نے اسے اپنے دلوں اور اپنے معاشرے سے دور کر دیا ہے۔ قرآن و سنت ہمیں آج بھی وہی راستہ دکھا رہے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان تعلیمات کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں بھی اتاریں۔ کیونکہ حیا صرف انسان کے لباس کو نہیں، اس کے کردار کو خوب صورت بناتی ہے؛ اور جس معاشرے میں حیا زندہ ہو، وہاں ایمان، عزت اور انسانیت بھی زندہ رہتی ہے۔
مزید پڑھیں





