Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پولی اینڈری اور اسلام ،تحریر : محمد سبحان شوق

نقطہ نظر
subhann

دنیا جس رفتار سے بدل رہی ہے اس میں تبدیلی صرف لباس رہن سہن ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ تک محدود نہیں رہی بلکہ انسان کے خاندانی تصورات بھی بدل رہے ہیں نکاح خاندان مرد اور عورت کے باہمی تعلق اور ازدواجی زندگی کے روایتی تصورات پر دنیا کے مختلف معاشروں میں نئی بحثیں جاری ہیں انہی تصورات میں ایک لفظ آج کل زیادہ سنائی دیتا ہے پولی اینڈری یعنی ایک عورت کا بیک وقت ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ ازدواجی رشتے میں ہونا یہ کوئی ایسا تصور نہیں جو پوری دنیا میں عام ہو گیا ہو بلکہ مختلف معاشروں اور بعض مخصوص ثقافتی حالات میں اس کی مثالیں ملتی رہی ہیں تاہم جدید دور میں جب خاندانی ادارے کی تعریف ہی نئے زاویوں سے کی جا رہی ہے تو یہ سوال بہرحال اہم ہوجاتا ہے کہ کیا ایک عورت کا بیک وقت چار شوہر رکھنا بھی اسی طرح درست سمجھا جاسکتا ہے جیسے ایک مرد کے لیے متعدد بیویوں کا تصور بعض معاشروں میں موجود ہے اور اگر نہیں تو اسلام نے مرد کو چار تک نکاح کی اجازت کیوں دی اور عورت کے لیے بیک وقت متعدد شوہروں کی اجازت کیوں نہیں رکھی

یہاں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام نے مرد کو چار شادیاں کرنے کا کوئی لازمی حکم نہیں دیا قرآن مجید نے سورۂ نساء میں دو تین یا چار عورتوں سے نکاح کی اجازت بیان کرتے ہوئے ساتھ ہی عدل کی شرط عائد کی اور واضح فرمایا کہ اگر عدل کا خوف ہو تو ایک ہی نکاح کیا جائے یعنی یہ محض تعداد کا معاملہ نہیں بلکہ اجازت کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے اسلام نے مرد سے یہ نہیں کہا کہ تمہارے لیے چار شادیاں ایک معمول یا لازمی حق ہیں بلکہ ایک ایسی گنجائش رکھی جس کے ساتھ مالی استطاعت حقوق کی ادائیگی اور عدل کا سوال بھی لازم کردیا یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو صرف مرد کو آزادی ہے کے ایک جملے میں سمیٹ دینا اسلامی تعلیمات کی روح کو بہت محدود کردینا ہے

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورت کو ایک وقت میں چار شوہر رکھنے کی اجازت کیوں نہیں اس سوال کا جواب کسی عورت کی قدر و منزلت کم کرنے میں نہیں بلکہ اسلام کے پورے خاندانی قانونی نظام کو سمجھنے میں ہے اسلام میں نکاح محض جسمانی تعلق یا باہمی پسند کا نام نہیں نکاح کے ساتھ نسب اولاد نفقہ رہائش وراثت ذمہ داری حقوق اور خاندان کی شناخت جیسے متعدد مسائل وابستہ ہیں اگر ایک عورت بیک وقت چار مردوں کے نکاح میں ہو تو اولاد کے نسب والد کی قانونی ذمہ داری وراثت اور خاندانی حقوق کے حوالے سے ایک پیچیدہ صورت پیدا ہوتی ہے اسلامی نظام نے نکاح کو اس انداز میں منظم کیا ہے کہ خاندان کے حقوق اور ذمہ داریاں واضح رہیں اور اسی واضح نظام میں عورت کے لیے بیک وقت متعدد شوہروں کی گنجائش نہیں رکھی گئی

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلام نے مرد کو متعدد نکاح کی اجازت دے کر اسے بے لگام اختیار نہیں دیا قرآن نے اسی مقام پر عدل کو بنیادی شرط بنایا ہے اگر مرد کو اندیشہ ہو کہ وہ انصاف نہیں کرسکے گا تو ایک ہی عورت سے نکاح کرے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مرد کے پاس ایک گھر کی ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت مالی استطاعت وقت اخلاقی قوت اور انصاف کا جذبہ نہیں اس کے لیے محض خواہش کی بنیاد پر دوسری شادی کوئی معمولی معاملہ نہیں نکاح جتنا بڑھتا ہے ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھتی ہے

قرآن یہاں تک متنبہ کرتا ہے کہ انسان اپنی بیویوں کے درمیان دل کی کیفیت میں مکمل مساوات قائم نہیں کرسکتا مگر اسے یہ اجازت بھی نہیں کہ ایک کی طرف مکمل جھک جائے اور دوسری کو ایسی حالت میں چھوڑ دے کہ نہ وہ پوری بیوی رہے اور نہ آزاد ہو گویا اسلام نے انسانی جذبات کی حقیقت کو بھی تسلیم کیا اور عملی حقوق میں ناانصافی کی راہ بھی بند کردی یہی وہ باریک فرق ہے جسے اکثر لوگ نظرانداز کردیتے ہیں محض اجازت موجود ہونا اور اجازت کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا دو الگ چیزیں ہیں

اب اگر ہم پولی اینڈری کی طرف دیکھیں تو بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ ایک عورت کے چار شوہر کیوں نہیں ہوسکتے بلکہ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں نکاح کے وہ بنیادی حقوق کس ترتیب سے متعین ہوں گے جو اسلامی نظام میں واضح ہیں بچے کی کفالت کس شوہر پر ہوگی وراثت کے معاملات کیسے طے ہوں گے نسب کی قانونی نسبت کیسے متعین ہوگی شوہروں کے باہمی حقوق کیا ہوں گے ایک ہی عورت کے نکاح میں موجود چار مردوں کے درمیان ازدواجی ذمہ داریوں کی تقسیم کس اصول پر ہوگی اگر ایک مرد اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے نفقے کا ذمہ دار ہے تو بیک وقت متعدد شوہروں والی عورت کے خاندان میں یہی ذمہ داری کس طرح متعین ہوگی یہ محض اخلاقی یا جذباتی سوالات نہیں بلکہ ایک پورے قانونی اور معاشرتی نظام کے سوالات ہیں

اسلام نے اسی لیے نکاح کو خواہشات کے بے ترتیب مجموعے کے بجائے ایک منظم عہد بنایا قرآن نکاح کو ایک مضبوط عہد قرار دیتا ہے اور عورت کو مہر دینے اس کے حقوق ادا کرنے اور ازدواجی زندگی میں معروف طریقے سے رہنے کی تعلیم دیتا ہے اس نظام میں مرد پر مالی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور بیوی و اولاد کے حقوق محض جذباتی وابستگی پر نہیں چھوڑے جاتے اس لیے مرد کے لیے متعدد نکاح کی اجازت کو عورت کے لیے متعدد شوہروں کی اجازت کا آئینہ سمجھنا درست نہیں دونوں صورتوں کے قانونی اور معاشرتی نتائج ایک جیسے نہیں ہیں

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے اسلام نے تعدد ازواج کی اجازت جس آیت میں بیان کی اس کا سیاق یتیم لڑکیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ انصاف سے بھی متعلق ہے یعنی قرآن کے بیان میں معاشرتی کمزور طبقے کے حقوق اور انصاف کا مسئلہ ابتدا ہی سے موجود ہے اس سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلامی قانون میں تعدد ازواج کو صرف مرد کی جنسی خواہش کا مسئلہ بنا کر پیش کرنا قرآن کے سیاق کو نظرانداز کرنا ہے اسلام کے ہاں ہر جائز چیز بھی اخلاقی ذمہ داری سے خالی نہیں ہوتی

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مرد چار شادیوں کی اجازت کا ذکر تو بڑے فخر سے کرتے ہیں لیکن اسی آیت میں موجود عدل کی شرط کو بھول جاتے ہیں انہیں تعداد یاد رہتی ہے ذمہ داری نہیں اجازت یاد رہتی ہے تقویٰ نہیں بیویوں کی تعداد یاد رہتی ہے ان کے حقوق یاد نہیں رہتے قرآن کا مزاج اس کے برعکس ہے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت کے ساتھ عدل کی شرط اتنی نمایاں ہے کہ اگر آدمی کو خوف ہو کہ وہ انصاف نہیں کرسکے گا تو اسے ایک ہی نکاح تک محدود رہنے کا کہا گیا ہے

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک مسلمان کو اپنے دین کی قدر محسوس ہوتی ہے ہم ایک ایسے دین کے ماننے والے ہیں جس نے زندگی کے بڑے سے بڑے مسئلے کو انسان کی خواہش پر نہیں چھوڑا پیدائش سے موت تک عبادت سے معاملات تک تجارت سے نکاح تک والدین کے حقوق سے اولاد کی تربیت تک وراثت سے معاشرتی انصاف تک اسلام نے انسان کو اصول دیے ہیں یہ اصول ہر زمانے کی ہر جزوی صورت کا ناموں سمیت ذکر نہیں کرتے بلکہ ایسے بنیادی اصول فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے زندگی کے معاملات کو سمجھا جاسکتا ہے

آج جب دنیا میں خاندان کی تعریفیں بدل رہی ہیں جب بعض معاشروں میں نکاح کے روایتی تصور پر سوال اٹھ رہے ہیں جب ازدواجی تعلق کو بعض لوگ صرف انفرادی آزادی کا معاملہ سمجھنے لگے ہیں ایسے وقت میں ہمیں اپنے دین کو محض چند عبادات کا مجموعہ سمجھنے کے بجائے اس کے مکمل نظام حیات کے طور پر دیکھنا چاہیے اسلام ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ نماز کیسے پڑھنی ہے یہ بھی بتاتا ہے کہ بیوی کے ساتھ کیسے رہنا ہے اولاد کے حقوق کیا ہیں وراثت کیسے تقسیم ہوگی یتیم کا حق کیا ہے مال کیسے کمانا ہے اور معاشرے میں انصاف کیسے قائم کرنا ہے

اسی لیے اگر کوئی مسلمان یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ دنیا میں رشتوں کی نئی نئی صورتیں سامنے آرہی ہیں تو اسے سب سے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اسے ایک ایسے دین کی نسبت حاصل ہے جس نے انسانی زندگی کو محض خواہش تجربے اور وقتی رجحانات کے حوالے نہیں کیا الحمدللہ کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی دولت عطا کی ایسا دین جو انسان کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا اصول بھی دیتا ہے

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسلمان معاشرے میں ہر چیز درست ہے ہمارے اپنے معاشروں میں بھی ظلم ناانصافی جبری نکاح عورت کے حقوق کی پامالی طلاق کے غلط استعمال اور خاندانی ذمہ داریوں سے فرار جیسی خرابیاں موجود ہیں کسی مسلمان کا غلط عمل اسلام کی تعلیم نہیں بن جاتا اگر ایک شخص تعدد ازواج کی اجازت کو اپنی خواہش کا جواز بنا کر کسی عورت کے حقوق پامال کرے تو اسے اسلام کی حکمت نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سے فرار سمجھنا چاہیے اسلام نے اجازت کے ساتھ تقویٰ عدل اور حقوق کی حفاظت بھی لازم کی ہے

اصل حسن یہی ہے کہ اسلام نے نہ مرد کو بے لگام آزادی دی اور نہ عورت کو بے مقصد پابندیوں میں جکڑا بلکہ دونوں کے لیے ایک مکمل خاندانی نظام قائم کیا جس میں نکاح ایک ذمہ دارانہ عہد ہے مرد کو بعض حالات میں ایک سے زیادہ نکاح کی گنجائش دی گئی مگر اس کے ساتھ عدل اور حقوق کا بوجھ بھی رکھا گیا عورت کے لیے ایک وقت میں متعدد شوہروں کا نظام نہیں رکھا گیا کیونکہ اسلامی نکاح نسب وراثت کفالت اور خاندانی ذمہ داریوں کا پورا ڈھانچہ ایک مخصوص ترتیب پر قائم ہے

ہمیں شاید آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اپنے دین کا دفاع کرنے سے پہلے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے جب ہم قرآن کی ایک آیت کا صرف ایک حصہ پڑھ کر نتیجہ نکالتے ہیں تو اسلام ہمیں محدود دکھائی دیتا ہے لیکن جب پوری آیت اس کا سیاق عدل کی شرط حقوق زوجین نسب وراثت اور معاشرتی ذمہ داریوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے انسانی زندگی کو کتنی گہری حکمت کے ساتھ منظم کیا ہے

دنیا اپنے تجربات کرتی رہے معاشرے اپنے خاندانی تصورات پر بحث کرتے رہیں نئے نئے نام اور نئی نئی صورتیں سامنے آتی رہیں ایک مسلمان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی دی ہوئی ہدایت کو کتنا سمجھتا اور اس پر کتنا عمل کرتا ہے اسلام صرف مسجد تک محدود دین نہیں یہ گھر کے اندر بھی رہنمائی دیتا ہے اور معاشرے کے درمیان بھی اور شاید اسی احساس کے ساتھ انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے

الحمدللہ ہم مسلمان ہیں الحمدللہ کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی دولت عطا کی ایک ایسا دین جس میں عبادت بھی ہے اخلاق بھی حقوق بھی ذمہ داری بھی خاندان بھی اور زندگی گزارنے کا مکمل اصول بھی