ڈریپ کو مزید خودمختار اور بااختیار ریگولیٹری اتھارٹی بنایا جائے، احد چیمہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت ڈرگ پرائسنگ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں ادارے کے مجموعی انتظامی و ریگولیٹری ڈھانچے، ادویات کی قیمتوں کے تعین اور زیرِ التوا کیسز سمیت مختلف اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے ڈریپ کو مزید خودمختار، بااختیار اور مؤثر ریگولیٹری و پرائسنگ اتھارٹی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈریپ کے مجموعی ادارہ جاتی ڈھانچے، مینڈیٹ، گورننس اور فیصلہ سازی کے نظام کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے جبکہ ادارے کو زیادہ ادارہ جاتی اور انتظامی خودمختاری فراہم کی جانی چاہیے۔ احد چیمہ نے کہا کہ ڈریپ کے ریگولیٹری اور پرائسنگ فیصلوں میں غیر ضروری وزارتی عمل دخل کم کیا جائے اور نیپرا اور اوگرا جیسے خودمختار ریگولیٹری اداروں کے متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لے کر ڈریپ کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ وفاقی وزیر نے ڈریپ کے پالیسی بورڈ کو بھی مزید مضبوط اور بااختیار بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی بورڈ کو ایک واضح فریم ورک کے تحت بروقت، شفاف اور شواہد پر مبنی فیصلے کرنے کے قابل بنایا جانا چاہیے تاکہ ادویات سے متعلق اہم معاملات مؤثر انداز میں نمٹائے جاسکیں۔ اجلاس میں درآمدی ادویات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ فارمولے پر بھی غور کیا گیا۔ احد چیمہ نے کہا کہ درآمدی ادویات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور ادویات کی قیمتوں کا نظام شفاف، شواہد پر مبنی اور مارکیٹ کی حقیقی صورتحال سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ٹئیر ون ریفرنس ممالک میں کسی دوا کی دستیابی نہ ہونے کی صورت میں موجودہ پرائسنگ طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ وفاقی وزیر نے درآمدی ادویات کے لیے زیادہ معقول، شفاف اور قابلِ عمل تقابلی پرائسنگ میکنزم وضع کرنے کی ہدایت بھی کی۔ احد چیمہ نے کہا کہ ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانا حکومت کی اہم ترجیح ہے، جبکہ صارفین کو ادویات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے سے تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کے نظام میں ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ایک طرف ضروری ادویات کی دستیابی برقرار رہے اور دوسری جانب صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق زیرِ التوا اور ہارڈشپ کیسز کا بھی انفرادی بنیادوں پر جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر زیرِ التوا کیس میں دوا کی نوعیت، درجہ بندی، دستیابی اور مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے تاکہ مختلف ادویات کے معاملات کو یکساں انداز میں دیکھنے کے بجائے ان کی حقیقی صورتحال کے مطابق جائزہ لیا جاسکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک اور سیکریٹری قومی صحت ڈاکٹر فخرِ عالم عرفان نے بھی ڈریپ کے پالیسی اور ادارہ جاتی فریم ورک میں اصلاحات کی ضرورت سے اتفاق کیا۔ اجلاس میں سی ای او ڈریپ، ڈائریکٹر پرائسنگ ڈریپ اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈریپ کے ادارہ جاتی ڈھانچے، ریگولیٹری امور، پرائسنگ پالیسی اور ادویات کی قیمتوں سے متعلق مختلف معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔





