راشدہ ایک نہایت خوبصورت اور سادہ مزاج لڑکی تھی مگر جتنی وہ خوبصورت تھی اُس کی تقدیر اماوس کی سیاہ کالی رات جیسی تھی ـ رات آدھی سے زیادہ بیت چُکی تھی مگر اُس کی سوچوں کی پرواز گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ اُسے ماضی میں لے گئی جہاں دُکھوں کے سوا اُس کے پاس کچھ نہیں تھا ـ وہ اُس وقت کے انتظار میں تھی جب سب کچھ بدل جائے گا اور وقت اُس کی مُٹھی میں ہو گا مگر وہ نادان یہ بُھول گئی تھی کہ اُس کی تو زندگی کا ایک ایک لمحہ " لوح محفوظ" میں لکھا جا چکا ہے جسے وہ نہیں بدل سکتی ـ شاید کچھ لوگوں کی زندگی آزمائش کی ڈور سے بندھی رہتی ہےـ
ماں باپ کے بعد کا کٹھن وقت گزارنے کے بعد ریحان کے ساتھ نے گویا اُس میں ایک طاقت سی بھر دی مگر وہ بے وفا اُس کا سب کچھ لے کر اُسے وقت کی بے رحم موجوں کے حوالے کر گیا ـ قدرت نے گود بھی خالی ہی رکھی ـ اپنوں نے ایسے منہ موڑا گویا کوئی رِشتہ ہی نہیں ـ آج وہ اپنے چھوٹے سے اندھیرے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کاش وہ وقت واپس آ جائے جب ماں کی گود میں سر رکھ کر ہر دُکھ درد کو بُھول جاتی تھی، باپ کے گلے لگ کر اپنے لاڈ اٹھواتی تھی اوروہ بھائی جو ایک پل اُس سے جدا نہیں ہوتا تھاـ مگر کیا کبھی گیا وقت لوٹ کر آیا ہے ؟ گھڑی کی سوئی جیسے ہی بارہ کے ہندسے پر پہنچی اُسے ایک جھٹکا لگا اور پل بھر میں وہ وقت کی قید سے آزاد ہو گئی ـ کُچھ دنوں بعد اہل محلہ کو اِس چھوٹے سے گھر سے اُٹھتے تعفن نے چونکا دیا تو انہیں خیال آیا کہ راشدہ خالہ کافی دِنوں سے نظر نہیں آئی تو سب نے مل کر دروازہ توڑنے کی کوشش کی اور بالآخر وہ اِس کوشش میں کامیاب ہو گئے ـ جونہی سب اندر داخل ہوئے تو سامنے اُنہیں اپنے دُکھوں کی صلیب پر لٹکی راشدہ نظر آئی سب کی نظریں شرمندگی کے مارے جُھک گئیں مگر اب کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ وقت کسی کے لئے نہیں رکتا وہ گزر چُکا تھا اور اپنے پیچھے ایک دکھ بھری داستان چھوڑ گیا تھاـ
مزید پڑھیں






