Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے، خواجہ آصف

Pahalgam-Khawaja-Asif-2025-04-62beb667c4f12d8931bf3f964fe591ce-16×9

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کر رہے ہیں۔

عرب نیوزکے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کسی بھی تنازع میں سعودی عرب کی مدد اور دفاع کے لیے موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا پابند ہے، ہمارے پاس جو بھی وسائل دستیاب ہیں وہ سعودی عرب کو بھی دستیاب ہوں گے، جہاں تک حوثیوں کا تعلق ہے، وہ سعودی عرب کے دشمن ہیں۔


وزیر دفاع نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون کو دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کسی بھی تنازع میں سعودی عرب کی مدد اور دفاع کے لیے موجود ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون طویل عرصے سے جاری ہے اور سعودی عرب کے دفاع سے متعلق پاکستان کی ذمہ داریاں واضح ہیں۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں سے متعلق سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ ایرانی حوثیوں کو اپنی پراکسی تسلیم نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات پراکسیز بے قابو ہوجاتی ہیں اور ان کے پاس اس حوالے سے متعدد مثالیں موجود ہیں۔ خواجہ آصف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک ایک پراکسی شروع کرتا ہے، لیکن بعد میں اس پراکسی کے پھیلاؤ کا اپنا طریقہ ہوتا ہے، بعض پراکسیز ایسی صورتحال اختیار کرلیتی ہیں جہاں انہیں قابو کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ خطے میں ہونے والی پیش رفت کو پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پاس دفاعی شعبے میں جو وسائل اور صلاحیتیں دستیاب ہیں، انہیں سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب سمجھا جائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات دونوں ممالک کے باہمی معاہدوں اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، جبکہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے اہم ہے۔

وزیر دفاع نے اپنے انٹرویو میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں، پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے اور خطے میں پراکسیز کے کردار سمیت مختلف امور پر پاکستان کا مؤقف بیان کیا۔