Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فرق تو پڑتا ہے،تحریر: شازیہ یاسین


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا ہے اور اسے عقل، شعور، احساس اور جذبات جیسی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے جو تنہا زندگی گزارنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ تعلقات استوار کر کے اپنی زندگی کو بامقصد بناتا ہے۔ معاشرے میں رہتے ہوئے ہر فرد کسی نہ کسی انداز میں دوسرے افراد سے متاثر ہوتا ہے اور ان پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے الفاظ، رویے، اندازِ گفتگو اور طرزِ عمل دوسروں کی زندگیوں پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔ بعض اوقات ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری ایک معمولی بات یا مختصر سا رویہ کسی پر اثر نہیں ڈالے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرق تو پڑتا ہے۔


روزمرہ زندگی میں ہم کئی ایسے مواقع سے گزرتے ہیں جہاں ہماری گفتگو کسی کے دل کو خوشی، حوصلہ اور اعتماد دے سکتی ہے یا پھر اسے مایوسی، دکھ اور پریشانی میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ایک نرم لہجہ، ایک حوصلہ افزا جملہ اور ایک مثبت رویہ کسی شخص کے دن کو بہتر بنا سکتا ہے، جبکہ ایک تلخ جملہ، بے جا تنقید یا تحقیر آمیز انداز اس کے دل و دماغ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بھی حسنِ اخلاق، نرم گفتاری اور دوسروں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تلقین کی ہے۔


اکثر لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں کسی کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان کے دل میں احساسات موجود ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کے رویوں سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔ کسی کے محبت بھرے الفاظ سکون کا باعث بنتے ہیں تو کسی کی سخت بات دل میں چبھن پیدا کر دیتی ہے۔ بسا اوقات ایک منفی جملہ انسان کے ذہن میں مدتوں گردش کرتا رہتا ہے اور اس کی خود اعتمادی کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ کسی کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، حقیقت سے دور بات ہے۔ فرق تو پڑتا ہے، اور بہت زیادہ پڑتا ہے۔


جب کسی شخص کو اس کے قصور کے بغیر الزام دیا جاتا ہے یا اسے ایسی سزا دی جاتی ہے جس کا وہ مستحق نہیں ہوتا تو اس کے دل میں ناانصافی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساس اسے ذہنی طور پر پریشان کرتا ہے اور وہ اپنے روزمرہ معاملات بھی متاثر انداز میں انجام دیتا ہے۔ بعض اوقات ایک غلط الزام یا بے بنیاد تنقید انسان کی شخصیت پر ایسے اثرات چھوڑ جاتی ہے جن سے نکلنے میں اسے طویل وقت لگ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقائق کو جانچیں اور انصاف کے تقاضے پورے کریں۔


ہمارے معاشرے میں ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ دوسروں کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کر کے صرف خامیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص نیک نیتی سے کوئی کام کرتا ہے تو بعض افراد اس کے مقصد کو غلط رنگ دے کر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے رویے نہ صرف اس شخص کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں بداعتمادی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کی نیت اور کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھنا سیکھ لیں تو ہمارے سماجی تعلقات زیادہ مضبوط اور خوشگوار ہو سکتے ہیں۔


فرق صرف بات کرنے والے کے الفاظ سے ہی نہیں پڑتا بلکہ بات سننے والے اور اس پر عمل کرنے والے کو بھی فرق پڑتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کی بات سنتا ہے تو وہ اس کے اثرات کو اپنے ذہن اور دل میں محسوس کرتا ہے۔ اگر اسے حوصلہ افزائی ملے تو اس کا اعتماد بڑھ جاتا ہے اور وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اسے مسلسل تنقید، طعنے یا منفی تبصرے سننے کو ملیں تو اس کے اندر مایوسی اور بے یقینی جنم لینے لگتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ دوسروں کی باتوں پر عمل کرتے ہیں، ان کی زندگیوں پر بھی ان باتوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک اچھی نصیحت کسی کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے جبکہ ایک غلط مشورہ اسے مشکلات میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اس لیے بات کہنے والے، سننے والے اور اس پر عمل کرنے والے، تینوں پر فرق پڑتا ہے۔


گھریلو زندگی میں بھی ہمارے رویے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ والدین کے الفاظ بچوں کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، ان کی خوبیوں کو سراہا جائے اور محبت سے رہنمائی کی جائے تو وہ خود اعتماد اور مثبت سوچ رکھنے والے افراد بنتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ، موازنوں اور تنقید کا سامنا کرنا پڑے تو ان کے اندر احساسِ کمتری پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی اصول میاں بیوی، بہن بھائیوں اور دیگر رشتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔


تعلیمی اداروں اور دفاتر میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رویہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک استاد کے حوصلہ افزا الفاظ طالب علم کو کامیابی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں، جبکہ ایک منفی رویہ اس کی صلاحیتوں کو دبا سکتا ہے۔ اسی طرح دفاتر میں افسران اور ساتھیوں کا مثبت رویہ کام کرنے والوں کی کارکردگی بہتر بناتا ہے اور ادارے کی ترقی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔


سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی ہمیں اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیے۔ آج ایک تبصرہ سیکڑوں اور ہزاروں افراد تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر ہم بغیر سوچے سمجھے کسی پر تنقید کریں یا دل آزاری کا باعث بننے والے الفاظ استعمال کریں تو اس کے منفی اثرات بہت دور تک جا سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تحریر اور گفتگو میں شائستگی، برداشت اور مثبت سوچ کو فروغ دیں۔


حقیقت یہ ہے کہ انسان جذبات کا مجموعہ ہے اور اس کے دل پر دوسروں کے رویوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ محبت، عزت، حوصلہ افزائی اور خلوص انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ نفرت، تحقیر اور سخت رویہ اسے اندر سے توڑ سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے الفاظ اور اعمال دوسروں کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔


اگر ہم ایک بہتر، خوشحال اور مثبت معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں میں نرمی، برداشت اور احترام پیدا کرنا ہوگا۔ کسی کی دلجوئی، حوصلہ افزائی اور اچھے الفاظ بظاہر معمولی عمل محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کسی کی دل آزاری، بے جا تنقید اور سخت رویہ بھی دیرپا منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ اس لیے ہر بات کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ہمارے الفاظ کسی کے دل پر کیا اثر ڈالیں گے، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ فرق تو پڑتا ہے۔