Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ راولپنڈی میں پہلا کڈنی ٹرانسپلانٹ کامیابی سے مکمل


راولپنڈی: پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (پی کے ایل آئی) راولپنڈی میں پہلا کڈنی ٹرانسپلانٹ کامیابی سے کر دیا گیا۔ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر نے کہا ہے کہ کسی بھی ادارے کے لیے پہلا ٹرانسپلانٹ ایک بہت بڑا لینڈ مارک ہوتا ہے، پی کے ایل آئی راولپنڈی میں ٹرانسپلانٹ کی سہولت کا آغاز ایک اہم پیش رفت ہے۔ راولپنڈی میں ڈاکٹرز کی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر نے بتایا کہ پی کے ایل آئی راولپنڈی سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ یہاں اب تک دو لیور ٹرانسپلانٹ اور ایک کڈنی ٹرانسپلانٹ کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے پی کے ایل آئی میں پہلا کڈنی ٹرانسپلانٹ 2018 میں کیا گیا تھا، جبکہ راولپنڈی سینٹر میں بھی ٹرانسپلانٹ کی سہولت فعال کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے میں مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ مالی معاونت کا بھی خصوصی انتظام موجود ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق پی کے ایل آئی میں 80 فیصد لوگوں کو 90 فیصد تک مالی رعایت دی جاتی ہے، جبکہ ضرورت مند مریضوں کا ابتدائی طور پر 50 ہزار روپے تک کا علاج مفت کیا جاتا ہے، تاکہ مالی مشکلات کے باعث کسی ضرورت مند مریض کو علاج سے محروم نہ ہونا پڑے۔ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کہا کہ پی کے ایل آئی میں عالمی معیار کے ماہرین پر مشتمل بہترین ٹیم موجود ہے، جو مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں علاج کے معیار اور مریضوں کی سہولت کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر نے مزید بتایا کہ پی کے ایل آئی ایک ایسی ایپلی کیشن بھی لانچ کررہا ہے جس کے ذریعے مریض گھر بیٹھے اپنا ڈیٹا فراہم کرسکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد مریضوں کے لیے معلومات اور طبی ڈیٹا فراہم کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے، تاکہ انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پریس کانفرنس کے دوران پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے کا بھی ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی کے ایل آئی میں فائر سیفٹی سسٹم کا مکمل میکنزم موجود ہے جو فعال ہے اور اس کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی راولپنڈی میں طبی سہولیات کے ساتھ مریضوں کی حفاظت کے لیے فائر سیفٹی کے نظام کو بھی فعال رکھا گیا ہے اور اس کی باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے۔