Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گفتار کے غازی اور کردار کے جنازے،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

آج کے دور میں اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ایک عجیب اور مایوس کن منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر دوسرا شخص دانش ور نظر آتا ہے، ہر زبان سے نصیحتوں کے موتی رولے جا رہے ہیں اور برقی ذرائع ابلاغ پراخلاقیات کے بلند و بانگ دعووں کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم اس خیالی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی کی تلخ زمین پر قدم رکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں گفتار کے غازیوں کی تو بھرمار ہے مگر کردار کے غازی نایاب ہو چکے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں قول و فعل کا تضاد اب کوئی عیب نہیں، بلکہ ایک عام سی بات بن چکا ہے۔ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اصلاح کا آغاز ہمیشہ دوسروں سے کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کا نظام راتوں رات بدل جائے، سیاست دان دیانت دار ہو جائیں، تاجر ملاوٹ چھوڑ دیں، اور سڑک پر چلنے والا ہر شخص قانون کی پاسداری کرے۔ لیکن جب باری ہماری اپنی ذات کی آتی ہے، تو ہم قطار توڑنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں، سرخ اشارے پر گاڑی بھگانا فخر جانتے ہیں، اور اپنے فائدے کے لیے چھوٹا موٹا جھوٹ بولنے کو "مجبوری" کا نام دے دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کے گناہوں پر تو منصف بن کر فیصلہ سناتے ہیں، لیکن اپنے جرائم پر بہترین وکیل بن کر صفائیاں پیش کرنے لگتے ہیں۔قرآنِ پاک کی سورۃ الصف میں اللہ تعالیٰ کا بڑا واضح اور جھنجھوڑ دینے والا ارشاد ہے:

"اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟"


یہ ایک آیت ہی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ جب تک ہمارے اپنے عمل میں سچائی اور عدل پاکیزگی نہیں ہوگی، ہماری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ دوسروں کے دلوں پر اثر نہیں کر سکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی بڑے انقلاب آئے، وہ تقریروں سے نہیں بلکہ بلند کردار سے آئے۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے مکہ کے لوگوں کو دعوتِ اسلام دینے سے پہلے چالیس سال ان کے درمیان گزارے، جہاں آپؐ کی سچائی اور امانت داری کی وجہ سے کٹر دشمن بھی آپؐ کو "صادق اور امین" کہنے پر مجبور تھے۔ یہ کردار کی طاقت تھی جس نے دلوں کو مسخر کیا۔آج اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کی زوال پذیری کو روکنا چاہتے ہیں، تو ہمیں "تنقید برائے تنقید" کا چشمہ اتارنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ گلیوں کا گند، دفاتر کی رشوت ستانی، اور رشتوں کی تلخی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا احتساب نہ کرے۔ اصلاحِ معاشرہ کوئی ایسی مہم نہیں جو حکومت کے ایک حکم نامے سے شروع ہو بلکہ یہ وہ چراغ ہے جو ہر انسان کو اپنے گھر اور اپنی ذات کے اندر روشن کرنا پڑتا ہے۔آئیے، آج سے ایک عہد کریں کہ ہم دوسروں کو بدلنے کی فکر چھوڑ کر خود کو بدلیں گے۔ فضول بحث مباحثوں اور انٹرنیٹ کی لفظی جنگوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے عمل کو خوبصورت بنائیں گے۔ یاد رکھیں، آپ کا خاموش لیکن مضبوط کردار، آپ کی ہزار طویل تقریروں سے زیادہ موثر اور دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم گفتار کے غازی بننے کے بجائے کردار کے غازی بنیں، کیونکہ معاشرے لفظوں سے نہیں، عمل سے سدھرتے ہیں۔