Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تحریر: فَری خان

نقطہ نظر

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ انسان چاند پر قدم رکھ چکا ہے مریخ تک پہنچنے کے منصوبے بنا رہا ہے سائنس ایسی ایسی گرہیں کھول رہی ہے جنہیں کبھی انسانی عقل تو تسلیم ہی نہیں کرتی مشینیں سوچنے لگی ہیں دنیا انگلی کے ایک لمس پر سمٹ آئی ہے۔

مگر کبھی اپنے معاشرے کی طرف غور کیا ہے؟

سوچا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟

خاص طور پر ہماری عورت کہاں کھڑی ہے؟

وہ عورت جسے ہم کبھی ماں کہہ کر عظمت دیتے ہیں، کبھی بیٹی کہہ کر محبت، کبھی بہن کہہ کر عزت اور کبھی بیوی کہہ کر رفاقت کا نام دیتے ہیں… مگر جب بات اس کی اپنی زندگی، اس کی اپنی مرضی اور اس کے اپنے فیصلے کی آتی ہے تو اچانک وہی عورت اپنی ذات سے بے دخل کیوں ہو جاتی ہے؟

وہ آج بھی اپنی زندگی کے بہت سے فیصلے خود نہیں کر پاتی۔

بچے کب ہوں گے، کتنے ہوں گے، وقفہ کتنا ہوگا—اکثر فیصلہ اس کی خواہش سے زیادہ دوسروں کی خواہش پر منحصر ہوتا ہے ۔

وہ اپنے گھر میں اپنی پسند کا لباس پہننا چاہے تو فوراً سوال اٹھتا ہے۔

"لوگ کیا کہیں گے؟

وہ اپنی پسند کا کھانا پکانا چاہے تو کہا جاتا ہے گھر میں سب کی پسند دیکھنی ہوتی ہے۔

وہ اپنی رائے دے تو کہا جاتا ہے کہ زبان بہت چلنے لگی ہے۔

اور جب وہ خاموش رہے تو اسے اچھی عورت کہا جاتا ہے۔

آخر یہ کیسا پیمانہ ہے جس پر عورت کی اچھائی اس کی خاموشی سے ناپی جاتی ہے؟

اور سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اس سارے شور میں عورت خود کہاں ہے۰۰۰۰۰۰؟

اس کی پسند کہاں ہے؟

اس کی مرضی کہاں ہے

اس کی آواز کہاں ہے؟

اس کی اپنی ذات کہاں ہے؟

ہم نے عورت کو رشتوں کے اتنے نام دے دیے کہ شاید اس کا اپنا نام ہی کہیں پیچھے رہ گیا۔

ماں، بیٹی، بہن، بیوی، بہو…

مگر عورت؟؟؟

وہ عورت جو ان تمام رشتوں سے پہلے ایک مکمل انسان ہے اپنی خواہشات، اپنی رائے، اپنے احساسات اور اپنے حقوق کے ساتھ۔

اور یہاں ایک تلخ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کے اسلام نے عورت کو حقوق دیے، اس کی عزت، ملکیت، وراثت، نکاح میں رضامندی اور انسانی وقار کو تسلیم کیا لیکن ہمارے معاشرتی رویوں نے انہی حقوق پر رسم و رواج، انا، خوف اور "لوگ کیا کہیں گے" کی تہیں چڑھا دیں۔

ہم نے دین کے نام پر بہت کچھ سنا مگر دین نے عورت کو جو حق دیا ہے وہ اسکی زندگی میں کتنا شامل ہے؟

یہ سوال کسی ایک مرد سے نہیں ہے

یہ سوال پورے معاشرے سے ہے

ہم چاند پر پہنچنے پر فخر کرتے ہیں مگر ہماری سوچ آج بھی عورت کی مرضی کو اس کی جنس کی وجہ سے کمتر سمجھے تو ہمیں اپنی ترقی کے دعووں پر ایک لمحے کے لیے رک کر ضرور سوچنا چاہیے۔

لیکن شاید ابھی دیر نہیں ہوئی ۰۰۰

تبدیلی کسی ایک دن، کسی ایک قانون یا کسی ایک شخص سے نہیں آئے گی۔ یہ تبدیلی اس دن شروع ہوگی جب ایک باپ اپنی بیٹی کی بات صرف اس لیے نہیں کاٹے گا کہ وہ بیٹی ہے، جب ایک شوہر اپنی بیوی کی رائے کو حکم نہیں بلکہ شراکت سمجھے گا، جب ایک ساس بہو کو حریف نہیں بلکہ ایک انسان سمجھے گی، اور جب ایک عورت خود اپنے اندر یہ یقین پیدا کرے گی کہ اس کی آواز بھی اہم ہے۔

ہمیں عورت کو کسی سے مقابلہ نہیں کروانا اسے صرف وہ مقام واپس دینا ہے جو بحیثیت انسان ہونے کے ناطے اس کا حق ہے

اور شاید وہ دن اتنا دور بھی نہیں۔

کیونکہ معاشرے تب بدلتے ہیں جب سوال پوچھنے والے خاموش نہیں رہتے اور آج ہم نے سوال پوچھ لیا ہے ۰۰۰

عورت کہاں ہے؟؟؟

اب اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اسے تلاش کیا جائے—اس کی آواز میں، اس کے خوابوں میں، اس کے فیصلوں میں، اس کی تعلیم میں، اس کے اختیار میں۔

تاکہ آنے والی نسلیں جب ہم سے پوچھیں کہ آپ کے زمانے میں عورت کہاں کھڑی تھی؟

تو ہمیں نظریں نہ جھکانی پڑیں

ہم کہہ سکیں

وہیں، جہاں اسے شروع سے ہونا چاہیے تھا—اپنی زندگی کے فیصلوں میں شریک، اپنے حقوق کے ساتھ باوقار، اور اپنے وجود کے ساتھ مکمل تب شاید ہم صرف یہ نہیں کہیں گے کہ دنیا چاند تک پہنچ گئی ہے ہم یہ بھی کہہ سکیں گے کہ ہماری سوچ بھی آگے بڑھ گئی ہے۔