بچوں سے جنسی زیادتی ، ہماری اجتماعی بے حسی،تحریر: سائرہ علی
نقطہ نظر
پاکستان میں ایک ناسور جس پر اب مزید خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ زینب، 2018 قصور۔ ایک سات سالہ پھول جسے زیادتی کے بعد کچرے میں پھینک دیا گیا۔ اس ایک واقعے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر کیا اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا؟ ہرگز نہیں۔ آج بھی روزانہ اخبار کی کسی کونے میں، سوشل میڈیا کی کسی پوسٹ میں ایک اور زینب، ایک اور معصوم بچہ اس درندگی کا شکار بن رہا ہے۔ یہ وہ قیامت ہے جو روز ہمارے گلی محلوں میں برپا ہو رہی ہے، لیکن ہم آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ یہ محض ایک جرم نہیں، یہ انسانیت کے خلاف جنگ ہے۔ قرآن و سنت کی نظر میں اس جرم کی سنگینی اسلام نے بچوں کو امانت اور رحمت قرار دیا ہے اور ان کے ساتھ ظلم کو بدترین فساد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ترجمہ: اور بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔[القرآن 6:151] بچوں کے ساتھ زیادتی فحاشی کی بدترین شکل ہے۔ یہ زمین میں فساد ہے۔ اور فساد پھیلانے والوں کے لیے اللہ کا سخت حکم ہے:إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا سولی دی جائے۔ [القرآن 5:33]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ ترجمہ: اللہ اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ [صحیح بخاری: 7376 و صحیح مسلم: 2319]
اور بچوں پر شفقت کے بارے میں فرمایا: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔ [سنن ترمذی: 1919] جس دین میں بچے کو دیکھ کر مسکرانا بھی ثواب ہو، اس میں اس معصوم کے جسم و روح کو روندنا بدترین گناہ اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے والا عمل ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال - اعداد و شمار سے زیادہ سنگین ساحل تنظیم (SAHIL) جو پاکستان میں بچوں کے تحفظ پر کام کرتی ہے، اس کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر روز 10 سے زائد بچے جنسی استحصال کا شکار بنتے ہیں اور یہ صرف وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوتے ہیں۔ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ 80 فیصد کیسز میں مجرم کوئی اجنبی نہیں بلکہ قریبی رشتہ دار، ہمسایہ، دکاندار، استاد یا جاننے والا ہوتا ہے اور خاندان بدنامی کے ڈر سے خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ قصور، چونیاں، کراچی یا کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں، یہ ہر گلی، ہر محلے، ہر اسکول اور ہر مدرسے کا ممکنہ خطرہ ہے۔
اسباب یہ درندے کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟
1. انصاف میں تاخیر اور سزا کا نہ ہونا: جب مجرم کو سزا نہیں ملتی تو اس کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ زینب کیس میں مجرم کو
پھانسی تو ہوئی مگر ہزاروں کیسز سالوں سے عدالتوں میں پڑے ہیں۔
2. حیا کا خاتمہ اور فحش مواد تک آسان رسائی: موبائل پر ایک کلک پر دستیاب فحش فلمیں اور مواد نے ذہنوں میں حیوانیت بھر دی ہے۔ ایک نشہ کرنے والا اور فحش مواد دیکھنے والا ذہنی مریض معصوم بچے میں بھی اپنی ہوس کا سامان ڈھونڈتا ہے۔
3. بچوں میں شعور کی کمی: ہم نے اپنے بچوں کو "گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ" Good Touch Bad Touch کے بارے میں بتانا بھی بے شرمی سمجھ لیا ہے۔ بچہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور وہ کس کو بتائے۔
4. والدین کی غفلت: آج دونوں والدین کی مصروفیت، بچوں کو اکیلے باہر بھیجنا، ہر کسی پر اعتبار کر کے بچہ اس کے ساتھ چھوڑ دینا۔
حل کیا ہے؟ ایک جامع لائحہ عمل
1. والدین کی ذمہ داری:
اپنے بچے کو اعتماد دیں۔ اسے سکھائیں کہ اس کا جسم اس کی امانت ہے۔ اسے بتائیں کہ اگر کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اسے غیر مناسب طریقے سے چھوئے تو وہ فوراً آپ کو بتائے اور اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں۔ اسے ڈرائیں نہیں، دوست بنیں۔
2. قانونی عمل میں تیزی زینب الرٹ بل:
حکومت نے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 بنایا ہے جس کے تحت بچے کے اغوا پر فوراً 1099 یا 1121 پر اطلاع دینی ہے اور پولیس کو فوراً کارروائی کرنی ہے۔ ہمیں بطور شہری اس قانون کو استعمال کرنا ہے اور ہر کیس کو رپورٹ کرنا ہے۔
3. معاشرے کی ذمہ داری:
خاموش تماشائی نہ بنیں۔ اگر آپ کو کسی بچے کے ساتھ کچھ غلط ہوتا نظر آئے تو فوراً چائلڈ پروٹیکشن بیورو یا 1121 پر اطلاع دیں۔ مسجد، اسکول اور مدرسے کے اساتذہ کی کردار سازی اور نگرانی لازمی کی جائے۔
4. سزا کا خوف:
اسلام میں ایسے مجرم کے لیے سخت ترین سزا ہے تاکہ معاشرے میں عبرت ہو۔ جب تک سرعام اور فوری انصاف نہیں ہوگا، یہ ناسور ختم نہیں ہوگا۔
آخری بات یاد رکھیں، جو بچہ آج زیادتی کا شکار بنتا ہے، وہ ساری زندگی اس صدمے سے نہیں نکل پاتا۔ وہ نفسیاتی مریض بن جاتا ہے، اس کا اللہ اور انسانوں سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔کل قیامت کے دن اللہ ہم سے پوچھے گا کہ تمہارے محلے میں ایک پھول مسلا جا رہا تھا اور تم خاموش تھے؟ ہمیں شرم و حیا کے کلچر کو واپس لانا ہوگا، اپنے بچوں کو تنہا نہیں چھوڑنا، ان کی بات سننی ہوگی اور ہر درندے کو بے نقاب کرنا ہوگا، چاہے وہ کتنا ہی مقدس لبادے میں کیوں نہ چھپا ہو۔ یہ وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں، ہمیں اپنی نسلوں کو بچانا ہے یا اپنی جھوٹی عزت کے نام پر خاموش رہ کر اگلی زینب کا انتظار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں





