Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حاضر جناب ،تحریر از کلثوم افتخار

نقطہ نظر

زمین کی تخلیق کو ہزاروں سال گزر چکے ہیں اور اس دوران لامحدود انسان اس دنیا میں پیدا ہو ئے اور گزر گئے پہلے دور میں انسانوں کی اوسط عمر اچھی ہوتی تھی جیسے کہ انبیاء کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہزار برس اور 900 یا 800 یا 700 برس بھی عمر رہی ہے ۔ پھر انکی زندگی کو طور طریقہ بھی موجودگی دور سے مختلف تھا ۔ زندگی کی مشکلات کو چندہ پیشانی سے قبول کرتے تھے ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور تک پہنچتے پہنچتے اب اوسط عمر 55 سے 60 سال کے درمیان ہو گئی ہے کیا کبھی سوچا ہے کہ اتنے لوگ اس کرہ ارض سے چلے گئے اور معلوم نہیں کہ قیامت تک تب تک انسانوں کی امد کا سلسلہ جاری رہے گا اور اسی طرح ان کی روانگی کا سلسلہ بھی جاری رہے گا کیونکہ موت تو برحق ہے لیکن ہم اپنے عزیز رشتہ دار پر دادا پر نانا ۔ پردادا۔ پر دادی ۔ پرنانی میں سے کتنوں کے مکمل نام ہمیں پتہ ہے یا ان کو کھانے میں کیا پسند تھا؟ وہ کیسے کپڑے پہنتے تھے ؟ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اج سے 10 ۔ 20۔ 30 یا 40 سال کے بعد ہم بھی اسی طرح صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اور ہمارا بھی نام و نشان باقی نہیں رہے گا قبر کے نشان بھی ختم ہو جاتے ہیں اج جو شخص دفتر میں اکڑ کر اپنی کرسی پر بیٹھا ہے۔ اج جو خاتون خانہ یہ سوچتی ہے کہ اس کے بغیر گھر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اج جو باپ اپنی اولاد کے لیے تگ و دو کر رہا ہے اج جو ساس سسر اپنے پوتے پوتی نواسے نواسی کو اپنے گلے کا ہار بنانے پر بے چین ہیں کیا کچھ عرصے کے بعد زندگی موجود رہے گی ؟کیا کچھ عرصے کے بعد لوگ ان کو اسی طریقے سے یاد رکھیں گے؟ یہ ہے المیہ ہمارا، ہم انسانوں کا ، وہ دفتر جس میں اپ روزانہ جاتے ہیں باس کی جھڑک کھاتے ہیں۔ وقت پر پہنچتے ہیں پانچ بجے کے بعد اگر چھٹی بھی ہو جائے تو واٹس ایپ تو کھلا ہے ۔ رات 12 بجے تک اپ کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کاروباری یا دفتری سرگرمی میں مصروف رہتے ہیں اور اتنی احساس ذمہ داری میں گھرے ہوئے ہونے کے باوجود اپنی بیماری کو پس پشت ڈالتے ہوئے باس کی ایک اواز پر لبیک کہہ کر دفتر میں دوڑے چلے جانا اور پھر اگر شام کو پانچ بجے اپ اپنی چھٹی کی درخواستیں اور اپ کو یہ کہہ کر انکار کر دیا جائے کہ اتنی اہم میٹنگ ہے اپ کا ہونا بہت ضروری ہے یہ جملہ بظاہر تو بڑا ہی اہم ہے اور اپ کو ساتھ میں اسمان تک پہنچا دیتا ہے اپ کو دماغ بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے یہ جملہ اپ سن کر اپ پھولے نہیں سماتے کہ کیا میں اتنا اہم ہوں جناب تو ذرا رکیے سوچیے ٹھہر جائیے یہ جملہ اپ کے ہی دفتر میں کام کرنے والے ان بیسیوں افراد کے لئے بولا گیا ہوگا جو اپ کی ہی سیٹ پر اپ کے انے سے پہلے کام کرتے رہے ہوں گے ہاں اس دور میں واٹس ایپ نہیں تھا تو چلو پانچ بجے کے بعد چھٹی ہو جاتی تھی لیکن کیا کریں نوکری اور حاضر جناب بھی کا مطالبہ اتنا شدید تھا کہ فائلز گھر تک لے جاتے تھے اور رات گئے فائلوں پر کام کرتے رہتے تھے کہ صاحب دفتر تو اپنی جگہ لیکن گھر کے اندر بھی تو ایک چھوٹا سا دفتر ہونا ضروری ہے جس میں ضروری امور طے کیے جا سکیں۔ ہاں سر ۔ جناب ۔ حاضر جناب کہتے کہتے ہی زبان تھک جاتی ہے جی جناب میں حاضر ایک انکھ کے اشارے پر حاضر ایک آواز پر حاضر ۔ چلیں رزق حلال تو کما لیا۔ ایک دن اپ اپنے دفتر سے غیر حاضر ہو کر دیکھیں اسی طرح ایک دن وہ تمام لوگ جو ملازمت کرتے ہیں اپنے اس کام سے غیر حاضر ہو کے دیکھیں یقین مانے اپ ایسے بھلا دیے جائیں گے جیسے کبھی اپ کا وجود اس دنیا پر تھا ہی نہیں تو قدر تو پھر حاضر جناب کی ہوئی اپ کی نہ ہوئی اس سارے پس منظر میں اپ کہاں کھڑے ہیں؟ میں کہاں کھڑی ہوں ؟ ہم سب کہاں کھڑے ہیں؟ ہم سب تو اس پس منظر میں کہیں موجود ہی نہیں ہے صرف حاضر جناب۔ یس میم۔ اوکے باس۔ یس سر یہ کچھ الفاظ کانوں میں گونجتے نظر اتے ہیں اگر اپ صا حب یا صاحبہ ہیں تو پھر تو یہ حاضر جناب یس میڈم جیسے الفاظ سن کر کانوں کو بہت اچھا لگنے لگ جاتا ہے اور عادت سی پڑ جاتی ہے کہ میں کہیں بھی جاؤں لوگ حاضر جناب ضرور کہیں گیں۔ نہ سننے کی تو بالکل عادت ہی نہیں رہتی نہ کا لفظ بھی ڈکشنری میں ہوتا ہے یہ تو ریٹائرمنٹ کے بعد پتہ چلتا ہے جب حاضر جناب کہنے والے بیسیوں افراد ارد گرد موجود نہیں ہوتے اور نہ کہنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے تو کیوں نہ وہ تکلیف جو اپنے ذہن اور اپنے جذبات کو نہ سننے کی ریٹائرمنٹ کے بعد عادت ڈالنی ہے اور اس تکلیف سے گزرنا ہے کیوں نہ اپنی موجودہ زندگی میں ہی اس عادت کو اپنی زندگی میں شامل کر لیا جائے اور دوسروں کی زندگی میں بھی شامل کر دیا جائے تاکہ اپنی اور حاضر جناب کہنے والوں کی عادتیں بھی تھوڑی اسان کر دی جائیں اور اگر عادتیں اسان ہو جائیں تو زندگی خود بخود اسان ہو جاتی ہے۔ یقین مانیں کچھ ایسے کام بھی ہیں جو اگر اپ اج نہیں بھی کریں گے اور کسی بات پر یس باس یا حاضر جناب کا نعرہ نہیں بھی لگائیں گے تو کام پھر بھی ہو جائے گا الفاظ کا چناؤ اور تکلم کا انداز بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ سوچنے کا انداز بھی بدل دیا جائے۔ کیونکہ زبان وہی لفظ ادا کرتی ہے جو ہماری سوچ کا بارہا مرتبہ حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔ اپ نے کبھی اپنے سکول کی زندگی کو یاد کیا ہو تو ذہن میں اتا ہے خاص کر خواتین کی کلاسوں میں بچیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر ٹیچر کو ایک ہی جملہ بولتی ہیں ٹیچر آج تو بہت اچھی لگ رہی ہیں یہ تو ان کا معصومانہ انداز ہوتا ہے لیکن کچھ کا انداز مکھن ملائی لگانے والا بھی ہوتا ہے یعنی

خوشا مدی انداز ۔ تعریف اچھی چیز ہے لیکن ہر وقت کی تعریف کبھی کبھار شوگر جیسی خطرناک بیماری بھی پیدا کر سکتی ہے اور اسی طرح ہر وقت کی تنقید کبھی کبھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بھی بن سکتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم اپنے رویوں میں تھوڑا حاضر جناب ۔جی جناب کا عنصر کم رکھیں۔ رکھیں ضرور لیکن اتنا ہی رکھیں کہ جتنی اٹے گوندھتے ہوئے نمک کی تعداد ہوتی ہے۔