Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہم کہاں سے کہاں آگئے ،تحریر : محمد سبحان شوق

نقطہ نظر
subhann

ایک زمانہ تھا جب تفریح محض تفریح ہوا کرتی تھی، اسے گھر کی تہذیب سے الگ کوئی ایسی شے نہیں سمجھا جاتا تھا جس کے لیے اخلاقی حدود کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ فلم دیکھی جاتی تھی، ڈرامے دیکھے جاتے تھے، گیت سنے جاتے تھے، مگر گھر میں ایک خاص طرح کی شائستگی کا لحاظ بھی باقی رہتا تھا۔ کسی فلم میں کوئی ایسا منظر آ جاتا جسے گھر کے بڑے بوڑھوں یا بچوں کے سامنے دیکھنا مناسب نہ سمجھا جاتا تو نگاہیں جھک جاتی تھیں، گفتگو کا رخ بدل جاتا تھا یا بعض اوقات فلم ہی روک دی جاتی تھی۔ گالی کو گالی ہی سمجھا جاتا تھا، اسے مکالمے کی خوب صورتی، حقیقت نگاری یا جدید طرزِ اظہار کا نام نہیں دیا جاتا تھا۔ فلم بنانے والے بھی جانتے تھے کہ ان کی بنائی ہوئی چیز صرف ایک فرد نہیں دیکھے گا بلکہ خاندان دیکھے گا، محلے میں لوگ دیکھیں گے، بچے دیکھیں گے اور وہ معاشرے کے عمومی ذوق کا حصہ بنے گی۔ یہی وجہ تھی کہ فلموں کے بہت سے مناظر اور مکالمے ایسے بھی ہوتے تھے جنہیں سینسر یا خود فلم سازوں کی طرف سے نکال دیا جاتا تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ ماضی کی ہر چیز پاکیزہ اور آج کی ہر چیز خراب تھی، مگر اتنا ضرور تھا کہ نامناسب چیز کو نامناسب کہنے کی جرأت موجود تھی اور معاشرہ اپنی حدود سے پوری طرح بے خبر نہیں ہوا تھا۔

پھر وقت بدلا، اسکرین چھوٹی ہوتی گئی اور دنیا ہماری ہتھیلی میں سمٹتی گئی۔ پہلے فلم دیکھنے کے لیے سینما جانا پڑتا تھا، پھر ویڈیو کیسٹ کا زمانہ آیا، پھر کیبل نے دنیا بھر کے چینل گھر میں پہنچا دیے، پھر انٹرنیٹ آیا اور اب موبائل فون نے وہ تمام فاصلے ختم کر دیے ہیں جنہیں کبھی سماج کی نگاہ، گھر کے بڑوں کی موجودگی اور اجتماعی ماحول قائم رکھا کرتا تھا۔ آج مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اسکرین پر کیا دکھایا جا رہا ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے ہمیں کسی اجازت، کسی جگہ، کسی وقت یا کسی ساتھی کی ضرورت نہیں۔ ایک چھوٹا سا موبائل فون، ہیڈفون کا ایک جوڑا اور گھر کا کوئی گوشہ کافی ہے۔ کبھی گھر میں فلم دیکھتے ہوئے اچانک کوئی متنازع منظر آ جاتا تھا تو خاندان کے کسی فرد کی نظریں جھک جاتی تھیں اور کسی کی انگلی فوراً ریموٹ کی طرف بڑھتی تھی، آج وہی منظر اگر موبائل کی اسکرین پر آ جائے تو اکثر انسان اسے دیکھنے والا بھی ہے اور چھپانے والا بھی۔ فرق صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، فرق ہماری اجتماعی حساسیت کا بھی ہے۔

ہم نے عجیب دور دیکھا ہے کہ کبھی فلم میں گالی سنائی دیتی تھی تو آدمی چونک جاتا تھا، اب بعض فلموں اور ویب سیریز میں گالی اس طرح گفتگو کا حصہ بن چکی ہے جیسے اس کے بغیر کردار بول ہی نہ سکتا ہو۔ ایک وقت تھا جب مکالمہ لکھنے والا اپنی زبان کے ذریعے کردار کی شخصیت بناتا تھا؛ آج بعض اوقات کردار کی شخصیت بنانے کے لیے چند گالیوں، چند فحش جملوں اور چند اشتعال انگیز مکالموں کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت نگاری کے نام پر بدکلامی، آزادیِ اظہار کے نام پر ابتذال اور جدیدیت کے نام پر فحاشی کو پیش کیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ معاشرے میں گالی نہیں دی جاتی یا برائیاں موجود نہیں، سوال یہ ہے کہ فن کا کام ہر برائی کو بغیر کسی فنی، اخلاقی یا معنوی ضرورت کے اس قدر نمایاں کرنا بھی ہے کہ وہ برائی رفتہ رفتہ معمول محسوس ہونے لگے؟ اگر ایک کردار کی بدزبانی کہانی کا حصہ ہے تو اسے سمجھا جا سکتا ہے، مگر جب بدزبانی ہی کردار سازی کا سب سے آسان ذریعہ بن جائے تو پھر مسئلہ فن کا نہیں، ذوق کا ہے۔

اس تبدیلی کا ایک نہایت دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آج ایک ہی گھر میں کئی لوگ ایک ہی اکاؤنٹ پر فلمیں اور ویب سیریز دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ جو مواد ایک فرد کے لیے بنایا گیا ہے وہ گھر کے ہر فرد کے لیے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ باپ، ماں، بیٹے، بیٹیاں، بھائی، بہنیں، سب ایک ہی اسکرین کے گرد بیٹھے ہیں اور اچانک ایسا منظر آ جاتا ہے جس کے سامنے چند برس پہلے خاندان کا ہر فرد شاید اپنی نظریں چرا لیتا۔ اب بعض اوقات کوئی شخص ریموٹ نہیں اٹھاتا، کوئی چینل تبدیل نہیں کرتا، کوئی یہ نہیں کہتا کہ بچوں کے سامنے یہ مناسب نہیں۔ اس کے برعکس خاموشی سے منظر گزر جاتا ہے، گفتگو دوبارہ شروع ہو جاتی ہے اور چند ہی دنوں میں وہ چیز جس پر کبھی معاشرتی شرمندگی محسوس ہوتی تھی، معمول کا حصہ بن جاتی ہے۔ سب سے خطرناک تبدیلی شاید یہی ہے کہ برائی ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں آتی، کبھی وہ معمول بن کر آتی ہے؛ پہلے انسان اسے دیکھ کر چونکتا ہے، پھر برداشت کرتا ہے، پھر عادی ہو جاتا ہے اور آخرکار اسے برا کہنا بھی غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔

یہاں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ صرف کسی ایک اسٹریمنگ پلیٹ فارم، کسی ایک فلم، کسی ایک ڈرامے یا کسی ایک موبائل ایپ کا نہیں۔ بازار میں اب ایسی بے شمار ایپس اور پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں دنیا بھر کا مواد چند لمحوں میں دستیاب ہے۔ ان میں اچھا بھی ہے، برا بھی ہے، علمی بھی ہے، فحش بھی ہے، سنجیدہ بھی ہے اور محض اشتعال انگیزی کے لیے بنایا گیا مواد بھی۔ پہلے کسی نامناسب چیز تک پہنچنے کے لیے ایک راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا، اب نامناسب چیز خود راستہ تلاش کرتی ہوئی ہماری اسکرین تک آ جاتی ہے۔ ایک تجویز کردہ ویڈیو دوسری ویڈیو تک لے جاتی ہے، ایک سیریز دوسری سیریز تک، ایک کلپ دوسرے کلپ تک اور یوں انسان کو کبھی کبھی احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ تفریح دیکھنے بیٹھا تھا اور کئی گھنٹے بعد اس کی ذہنی دنیا میں ایسے مناظر اور الفاظ جمع ہو چکے ہیں جنہیں شاید وہ اپنی روزمرہ زندگی میں سننا بھی پسند نہ کرے۔ ٹیکنالوجی نے اختیار بڑھایا ہے، مگر اختیار کے ساتھ انتخاب کی ذمہ داری بھی بڑھتی ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم بچوں کی تربیت پر تو بہت گفتگو کرتے ہیں مگر ان کی اسکرین کی تربیت پر کم توجہ دیتے ہیں۔ ہم بچے کو کہتے ہیں کہ بدتمیزی نہ کرو، بڑوں سے اونچی آواز میں بات نہ کرو، گالی نہ دو، کسی کی عزت نہ اچھالو، مگر پھر وہی بچہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر ایسی فلم یا ویب سیریز دیکھ رہا ہوتا ہے جس میں ہر دوسرے جملے میں بدکلامی موجود ہے۔ بچہ صرف نصیحت سے نہیں سیکھتا، وہ ماحول سے سیکھتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ والدین نے اسے گالی دینے سے منع کیا ہے، وہ یہ دیکھتا ہے کہ گھر میں گالی والے منظر پر کسی نے ٹیلی وژن بند نہیں کیا۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ فحش گفتگو بری ہے کیونکہ اس کے سامنے موجود اسکرین اسے بتا رہی ہوتی ہے کہ یہی جدید، بے باک اور مقبول انداز ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بچوں کی زبان کیوں بدل رہی ہے، نوجوانوں کی گفتگو میں شائستگی کیوں کم ہو رہی ہے اور عام محفل میں ایسے الفاظ کیوں سنائی دینے لگے ہیں جنہیں کبھی خاندان کے کسی فرد کے سامنے ادا کرنا بھی باعثِ شرم سمجھا جاتا تھا۔

زبان دراصل صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، زبان تہذیب کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ کسی معاشرے کی گفتگو سے اس معاشرے کے مزاج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کی گفتگو میں اختلاف بھی ہوتا تھا مگر الفاظ میں ایک خاص وضع داری رہتی تھی۔ طنز ہوتا تھا مگر تہذیب کے دائرے میں، غصہ ہوتا تھا مگر زبان کی حرمت کے ساتھ، محبت ہوتی تھی تو اس میں بھی حیا کا پردہ موجود رہتا تھا۔ آج ہم نے بے تکلفی اور بدتہذیبی کے درمیان فرق مٹانا شروع کر دیا ہے۔ کسی کو گالی دے دینا بے تکلفی سمجھا جاتا ہے، فحش مذاق کو مزاح کہا جاتا ہے، دوسروں کی نجی زندگی کو موضوع بنانا آزادی سمجھا جاتا ہے اور کسی کی عزت پر حملہ کرنے کو بے باکی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ معاشرہ بدل رہا ہے؛ معاشرے ہمیشہ بدلتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ تبدیلی ہمیں کس طرف لے جا رہی ہے اور ہم اس تبدیلی کے سامنے اپنی تہذیبی شناخت کی کون سی چیزیں محفوظ رکھ رہے ہیں۔

یہاں ماضی کو فرشتہ بنا دینا بھی درست نہیں۔ پہلے بھی برائیاں تھیں، فحش گفتگو بھی تھی، نامناسب فلمیں بھی بنتی تھیں اور لوگ انہیں دیکھتے بھی تھے۔ فرق شاید اتنا تھا کہ معاشرتی ضمیر ابھی مکمل طور پر خاموش نہیں ہوا تھا۔ غلط کو غلط کہنے کی ایک اجتماعی قوت باقی تھی۔ گھر میں کوئی بزرگ موجود ہوتا تو نوجوان اپنے الفاظ سنبھال لیتے تھے، بچوں کے سامنے گفتگو کا انداز بدل جاتا تھا، عورتوں اور مردوں کے باہمی احترام کی کچھ روایتی حدود تھیں اور تفریح کے نام پر ہر چیز کو قبول کر لینا ابھی عام رویہ نہیں بنا تھا۔ آج ہمارے پاس زیادہ سہولت ہے، زیادہ آزادی ہے، زیادہ مواد ہے، مگر اسی کے ساتھ ہماری ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہر چیز ہمارے ہاتھ میں ہے تو پھر یہ فیصلہ بھی ہمارے ہاتھ میں ہونا چاہیے کہ ہم اپنے ہاتھ میں موجود اس دنیا میں سے کیا اپنے گھر کے اندر آنے دیں گے۔

اصل مسئلہ شاید فلم نہیں، انتخاب کا زوال ہے۔ اگر ایک شخص جانتا ہے کہ کوئی مواد اس کے گھر کے بچوں کے لیے مناسب نہیں تو اسے روکنے کا اختیار آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ والدین کے پاس مواد کی درجہ بندی دیکھنے کا اختیار ہے، مختلف پروفائل بنانے کی سہولت ہے، بچوں کے لیے الگ نگرانی کے نظام موجود ہیں، مگر سہولت اس وقت فائدہ دیتی ہے جب انسان اسے استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو۔ ہر چیز کو اس لیے دیکھنا ضروری نہیں کہ وہ دستیاب ہے۔ ہر مشہور چیز دیکھنے کے قابل نہیں ہوتی، ہر مقبول مکالمہ دہرانے کے قابل نہیں ہوتا اور ہر بے باکی حقیقت پسندی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار یہ ہوتا ہے کہ انسان کے پاس دیکھنے کی آزادی ہو اور وہ پھر بھی یہ فیصلہ کرے کہ یہ چیز میرے لیے، میرے گھر کے لیے یا میرے بچوں کے لیے مناسب نہیں۔

ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ فن صرف آئینہ نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ آئینہ بنانے والا بھی ہوتا ہے۔ اگر معاشرہ خراب ہے تو فن اسے دکھائے، مگر اگر فن مسلسل اسی خرابی کو دل کش انداز میں پیش کرتا رہے تو وہ صرف عکاسی نہیں کر رہا ہوتا بلکہ ذوق کی تشکیل بھی کر رہا ہوتا ہے۔ ایک نوجوان بار بار جس زبان کو سنتا ہے، ممکن ہے وہی زبان اسے معمول محسوس ہونے لگے۔ جس طرح لباس، موسیقی، فیشن اور گفتگو کے انداز بار بار دیکھنے سے ہمارے ذوق میں داخل ہوتے ہیں، اسی طرح اسکرین پر دکھائی جانے والی زبان اور رویے بھی ہمارے ذہنی ذخیرے کا حصہ بنتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کافی نہیں کہ "یہ تو صرف فلم ہے"۔ فلم صرف فلم نہیں رہتی جب اس کے کردار ہماری زبان میں بولنے لگیں، جب ان کے جملے ہماری محفلوں میں دہرائے جانے لگیں اور جب ان کے رویے ہماری نئی نسل کے لیے قابلِ قبول نمونہ بننے لگیں۔

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم ہر نئی ٹیکنالوجی کو برا کہیں یا ہر جدید فلم اور ہر ویب سیریز کو فحاشی کا نمائندہ قرار دے دیں۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم دوبارہ حیا، انتخاب اور ذوق کے ان تین لفظوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ بچوں کو صرف موبائل دینے کے بجائے یہ بھی سکھائیں کہ موبائل پر کیا دیکھنا ہے۔ گھر میں صرف انٹرنیٹ لگانے کے بجائے یہ بھی طے کریں کہ اس کا استعمال کس طرح ہوگا۔ تفریح کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں، مگر تفریح کے نام پر ہر چیز قبول کرنے کی بھی کوئی مجبوری نہیں۔ ہماری تہذیب کا حسن اسی میں ہے کہ ہم دنیا کو دیکھیں مگر دنیا کی ہر چیز کو اپنے گھر کا حصہ نہ بنائیں۔ اگر ایک وقت میں ہم فلم کے کسی نامناسب منظر پر پردہ ڈالنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے تو آج ہمیں اپنی آنکھوں اور اپنے گھروں کے لیے وہی اختیار دوبارہ پیدا کرنا ہوگا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ریموٹ ہمارے ہاتھ میں ہوتا تھا اور اب پوری دنیا ہماری ہتھیلی میں ہے۔ شاید مسئلہ یہ نہیں کہ زمانہ بدل گیا ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے زمانے کے بدلنے کو اپنے معیار کے بدلنے کے مترادف سمجھ لیا ہے۔ زمانہ ہمیں نئی سہولتیں دے سکتا ہے، نئی زبانیں دے سکتا ہے، نئی تفریح دے سکتا ہے، مگر اسے یہ اختیار نہیں ملنا چاہیے کہ وہ ہمارے گھر کی تہذیب، ہماری زبان کی شائستگی اور ہماری اولاد کی تربیت کا معیار بھی خود مقرر کرے۔ جو چیز کبھی دروازے کے باہر رہتی تھی، آج وہ موبائل کی اسکرین سے گزر کر ہماری جیب میں آ بیٹھی ہے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس دروازے کو کھلا چھوڑتے ہیں یا اپنے گھر کی حرمت کے لیے اس پر ایک باوقار سا پردہ ڈال دیتے ہیں۔ کیونکہ اسکرین پر آنے والی ہر چیز کو دیکھ لینا ترقی نہیں، بلکہ یہ جان لینا کہ کیا دیکھنا ہے، کیا چھوڑ دینا ہے اور کس چیز کو اپنے بچوں کی آنکھوں تک نہیں پہنچنے دینا، اصل شعور شاید یہی ہے۔