ہم پاگل ہیں یا ذہنی مریض ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
آئینہ جھوٹ بولتا ہے، یا شاید میری آنکھیں ہی مٹی ہو چکی ہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے میں کسی بڑے، کھلے پاگل خانے کی سڑک پر اکیلا کھڑا ہوں اور تالیاں بجا رہا ہوں۔ نہیں، اکیلا کہاں ہوں، یہاں تو پورا میلہ لگا ہے۔ سب بھاگ رہے ہیں، چیخ رہے ہیں، گریبان کھینچ رہے ہیں۔ اور میں؟ میں دیوار کے ساتھ لگ کر خود سے سرگوشیاں کر رہا ہوں کہ سنو میاں! کیا واقعی تم پاگل ہو، یا یہ پورا ہجوم ہی کسی لاعلاج مرض کا شکار ہو چکا ہے اور پاگل پن کا تمغہ صرف تمہارے سینے پر لٹکا دیا گیا ہے؟
لوگ کہتے ہیں پاگل وہ ہوتا ہے جس کی عقل چھن جائے، جو ننگے پاؤں انگاروں پر ناچے، جو راہ چلتے پتھروں سے باتیں کرے۔ مگر ذرا ٹھہرو، کان ادھر لاؤ، میں تمہیں ایک سچی بات بتاؤں؟ اس شہر کے چوراہے پر جو بندہ لال بتی کو روندتے ہوئے زناٹے سے گاڑی نکال لے گیا اور پھر شیشے سے گردن باہر نکال کر فخریہ مسکرایا، کیا اس کے دماغ کی کوئی رگ سلامت ہے؟ وہ سمجھتا ہے اس نے وقت جیت لیا، وہ سمجھتا ہے وہ قانون کو چکمہ دے کر معرکہ سر کر آیا ہے۔ ہاہا! کیسی عجیب فتح ہے۔ کسی کا راستہ کاٹ کر، کسی کی جان کو خطرے میں ڈال کر سینہ چوڑا کر لینا، کیا یہ کسی صحت مند دماغ کی علامت ہے؟ پاگل تو میں ہوں جو اس کی دھول پھانکتا ہوا فٹ پاتھ پر ہنسے جا رہا ہوں۔
اور وہ صاحب، ہاں وہی جو کل سفید اجلا کرتا پہن کر محفل میں تقریر جھاڑ رہے تھے، اخلاقیات پر، حقوق پر، خدا خوفی پر۔ رات کی تاریکی میں انہوں نے اپنے سگے بھائی کا حصہ دبا لیا، کسی بیوہ کی زمین کی فائل پر قلم پھیر دیا، اور صبح دفتر آ کر سب سے پہلے مٹھائی بانٹی کہ دیکھو اللہ نے مجھ پر کیسا کرم کیا ہے، کاروبار میں کیسا منافع ہوا ہے۔ حق مار کر شکرانے کے نفل پڑھنا! کتنا شاندار مرض ہے۔ کیا دنیا کے کسی پاگل خانے میں ایسا کوئی جنونی دیکھا ہے جو زہر کھا کر کہے کہ یہ شربت ہے؟ ہم سب دوسرے کے حق کو اپنا نوالہ بنا کر ڈکار بھی نہیں لیتے۔ اپنی چوری کو ہوشیاری، اپنی بددیانتی کو ذہانت، اور دوسرے کی سادگی کو حماقت کا نام دے کر تالیاں بجاتے ہیں۔
ارے چھوڑو، ذرا سامنے والے گھر میں تو دیکھو۔ وہ بوڑھا باپ، جس کی کمر کمان بن چکی ہے، دروازے کی دہلیز پر بیٹھا کھانستے ہوئے پانی مانگ رہا ہے اور اندر نوجوان بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ قہقہے لگا کر کہہ رہا ہے کہ بڈھے کا دماغ کھسک گیا ہے، ہر وقت بولتا رہتا ہے۔ بڑوں کا احترام؟ وہ تو شاید کسی پرانی کتاب کے صفحے پر لکھا تھا جسے دیمک چاٹ گئی۔ اب تو باپ کو آنکھیں دکھانا بہادری ہے اور استاد کو بیوقوف سمجھنا جدید دور کی آزادی۔ جو جتنا بدتمیز ہے، وہ اتنا ہی بااعتماد کہلاتا ہے۔ میں اپنے بالوں کو نوچتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اگر بڑوں کو بے توقیر کر کے خود کو بڑا سمجھنا عقل مندی ہے، تو پھر واقعی مجھے پاگل ہی رہنے دو۔ مجھے اس ہوشیار بستی کا معزز شہری بننے کا کوئی شوق نہیں۔
عجیب تماشا ہے، صبح سے شام تک ہر شخص دوسرے کے عیب گنوا رہا ہے۔ وہ بے ایمان ہے، وہ جھوٹا ہے، وہ منافق ہے، وہ ملک کا دشمن ہے۔ ارے بھائی، ذرا اپنی بغل میں تو جھانکو، وہاں کون سی امانت داری کی پوٹلی چھپی ہے؟ ہم صبح اٹھ کر آئینے کے سامنے بال سنوارتے ہیں، داڑھی بناتے ہیں، مگر چہرے کے پیچھے جو تعفن سڑ رہا ہے، اسے دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی غلاظت کو پرفیوم چھڑک کر معطر بتانے کے چکر میں ہیں۔ قطار توڑنا ہمارا حق ہے، رشوت دینا ہمارا شارٹ کٹ ہے، جھوٹ بولنا ہماری مجبوری ہے، اور دوسروں کو دھوکہ دینا ہماری اسمارٹ نیس ہے۔ اور ان ساری بیماریوں، ان تمام معاشرتی ناسوروں کو ہم اپنی ’فکر‘، اپنا ’لائف اسٹائل‘ اور اپنی ’کامیابی‘ کہتے ہیں۔ کیا کمال کی منطق ہے! کیا لاجواب علاج دریافت کیا ہے ہم نے اپنے ضمیر کی بے چینی کا!
میری ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ دیکھو، وہ سب میری طرف دیکھ کر انگلی اٹھا رہے ہیں کہ دیکھو دیکھو، یہ خود کلامی کر رہا ہے، یہ دیواروں کو کوس رہا ہے، یہ خبطی ہو گیا ہے۔ ہاں، شاید میں واقعی ہو گیا ہوں۔ کیونکہ میں دیکھ سکتا ہوں کہ بادشاہ ننگا ہے، میں دیکھ سکتا ہوں کہ جس ہجوم کو خود پر ناز ہے، وہ دراصل ایمبولینس کی راہ تکتا ہوا وہ مریض ہے جو اپنے زخموں پر فخر کر رہا ہے۔ جب بیمار کو یہ یقین ہو جائے کہ وہی دنیا کا سب سے تندرست انسان ہے، تو پھر کسی دوا کی گنجائش نہیں رہتی۔ ہم سب نے اپنے گناہوں، اپنی منافقتوں اور اپنے جرائم کو روشن خیالی اور کامیابی کا لباس پہنا دیا ہے۔
چلو، اب تم بھی ہنسو اور میں بھی ہنستا ہوں۔ سڑکیں بھری پڑی ہیں، بازار سجے ہیں، عدالتیں، دفتر، چوراہے سب رواں دواں ہیں، مگر سچ پوچھو تو اندر سے پوری بستی ایک سنسان وارڈ ہے جہاں ہر شخص خود فریبی کے انجکشن لگوائے بے سدھ پڑا ہے۔ اگر کسی کا حق چھین کر خود کو فاتح سمجھنا، قانون کو توڑ کر خود کو چیتے کی طرح تیز گمان کرنا، اور بزرگوں کی تذلیل کر کے خود کو عقلِ کل گرداننا ہی نارمل انسان ہونا ہے، تو پھر آسمان کی طرف منہ کر کے سچ سچ بتاؤ، کیا ہم سب ذہنی مریض نہیں ہیں؟ اور اگر تم سب ہوش مند ہو، تو پھر میرا یہ پاگل پن ہی اس بستی کا سب سے سچا سچ ہے۔
مزید پڑھیں





