ہم سے اسکرول کروایا جا رہا ۔تحریر : محمد سبحان شوق
نقطہ نظر
ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل فون کو میز پر رکھ دیجیے اور خود سے ایک سوال کیجیے کہ آپ آخری مرتبہ موبائل کس کام کے لیے اٹھا کر بیٹھے تھے اور کتنی دیر بعد آپ کو یاد آیا کہ آپ نے موبائل کس مقصد کے لیے اٹھایا تھا ممکن ہے آپ نے صرف وقت دیکھنے کے لیے فون اٹھایا ہو کسی کا پیغام دیکھنے کے لیے اسکرین کھولی ہو یا کسی ضروری کام کے لیے کوئی ایپ کھولی ہو مگر چند ہی لمحوں بعد آپ کے سامنے ایک ریل آئی پھر دوسری پھر تیسری اور پھر اچانک آپ نے محسوس کیا کہ چند منٹ نہیں بلکہ آدھا گھنٹہ گزر چکا ہے عجیب بات یہ ہے کہ اس دوران ہمیں اکثر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہم کیا تلاش کر رہے تھے ہم کسی خاص منزل کی طرف نہیں جا رہے ہوتے ہم صرف اگلی ویڈیو کی طرف جا رہے ہوتے ہیں یہی وہ مقام ہے جہاں اسکرولنگ محض تفریح نہیں رہتی بلکہ انسانی توجہ کے ساتھ ایک ایسا تعلق قائم کر لیتی ہے جس پر آج دنیا بھر کے ماہرین نفسیات اور دماغی علوم کے محققین غور کر رہے ہیں
ریل مختصر ویڈیو یا چند سیکنڈ کی ویڈیو بظاہر ایک معمولی سی تفریح ہے مگر اس کے پیچھے انسانی توجہ کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے کا ایک پورا نظام کام کرتا ہے ویڈیو ختم ہوتی ہے تو ہمیں رکنے سوچنے یا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اگلی ویڈیو خود سامنے آ جاتی ہے یہی لامتناہی اسکرول ہے جس میں اختتام کی کوئی واضح لکیر نہیں ہوتی امریکی نفسیاتی انجمن نے دو ہزار چوبیس میں شائع ہونے والی اپنی تحقیقی رپورٹ میں خاص طور پر لامتناہی اسکرول اور نوٹی فکیشن جیسی خصوصیات کو نوجوانوں کے لیے توجہ برقرار رکھنے اور سوشل میڈیا سے خود کو الگ کرنے کے حوالے سے ایک اہم خطرہ قرار دیا تھا انجمن کے مطابق نوجوانوں میں خود پر قابو رکھنے سے متعلق دماغی نظام ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے اس لیے ایسی خصوصیات ان کے لیے خاص طور پر مشکل پیدا کر سکتی ہیں
یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے ہم اکثر کہتے ہیں کہ ریلز دماغ کو ڈوپامین کا عادی بنا دیتی ہیں حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے ڈوپامین کو صرف خوشی کا کیمیکل کہنا سائنسی طور پر ایک بہت سادہ وضاحت ہے انسانی دماغ انعام توقع سیکھنے اور حوصلہ افزائی کے مختلف نظاموں کے ذریعے یہ سیکھتا ہے کہ کون سا عمل دوبارہ کیا جائے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ہمیں ہنساتی ہے دوسری چونکا دیتی ہے تیسری ہماری پسند کے مطابق نکلتی ہے چوتھی میں کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جسے ہم جانتے ہیں اور پانچویں ہمیں وہ چیز دکھا دیتی ہے جس میں ہماری پہلے سے دلچسپی ہوتی ہے یوں ہر بار اگلی چیز کے بارے میں یقین نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہوگی مگر یہ امکان ضرور رہتا ہے کہ شاید اگلی ویڈیو دلچسپ ہو یہی غیر یقینی دلچسپی انسان کو بس ایک اور کی طرف دھکیل سکتی ہے
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام آدمی کے لیے ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے آپ صرف ویڈیوز نہیں دیکھ رہے آپ کا رویہ بھی سیکھا جا رہا ہے آپ کس ویڈیو پر کتنی دیر رکے کس کو مکمل دیکھا کس کو فوراً آگے کیا کس موضوع کی ویڈیو دوبارہ دیکھی کس چیز پر تبصرے پڑھے اور کس مواد کے ساتھ بار بار مشغول ہوئے یہ تمام اشارے سفارشاتی نظام کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ آپ کی توجہ کس طرف زیادہ کھنچتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت کے ساتھ آپ کے سامنے آنے والی ویڈیوز زیادہ ذاتی محسوس ہونے لگتی ہیں یوں ایک چکر بن سکتا ہے آپ کچھ دیکھتے ہیں نظام آپ کے رویے سے سیکھتا ہے پھر آپ کی دلچسپی کے مطابق مواد دکھاتا ہے آپ زیادہ دیر دیکھتے ہیں اور پھر وہی نظام مزید بہتر انداز میں آپ کی توجہ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے امریکی نفسیاتی انجمن بھی واضح کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر ہماری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا تجارتی اور دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
یہاں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اسکرول کر رہے ہیں یا ہمیں اسکرول کروایا جا رہا ہے بظاہر انگلی ہماری ہے موبائل ہمارا ہے انٹرنیٹ ہمارا ہے فیصلہ بھی ہمارا ہے لیکن جس ماحول میں یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے وہ مکمل طور پر غیر جانب دار نہیں لامتناہی اسکرول خودکار اگلی ویڈیو نوٹی فکیشن ذاتی نوعیت کی سفارشات اور انتہائی مختصر مواد ایک ایسا ماحول بنا سکتے ہیں جہاں رکنے کے بجائے جاری رہنا آسان ہو جاتا ہے امریکی نفسیاتی انجمن نے بھی دو ہزار چوبیس کی اپنی رپورٹ میں انہی ڈیزائن خصوصیات کو نوجوانوں کے لیے استعمال روکنے اور توجہ برقرار رکھنے کے حوالے سے اہم چیلنج قرار دیا تھا
سائنسی تحقیق اب اس معاملے کو محض ایک سماجی شکایت کے طور پر نہیں دیکھ رہی دو ہزار پچیس میں گریفتھ یونیورسٹی کے محققین نے مختصر ویڈیوز کے استعمال پر ایک جامع تحقیقی جائزہ اور میٹا اینالیسس شائع کیا جو جرنل سائیکولوجیکل بلیٹن میں شائع ہوا اس تحقیق میں اکہتر مطالعات اور اٹھانوے ہزار دو سو ننانوے افراد کے اعداد و شمار شامل کیے گئے محققین نے زیادہ مختصر ویڈیو استعمال کو کمزور ادراکی کارکردگی کے ساتھ منسلک پایا اور توجہ اور فوری ردعمل کو روکنے کی صلاحیت کے ساتھ تعلق نسبتاً زیادہ مضبوط تھا اس تحقیق میں ذہنی صحت کے کچھ پیمانوں خصوصاً ذہنی دباؤ اور بے چینی کے ساتھ بھی تعلق سامنے آیا تاہم یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس قسم کی تحقیق تعلق دکھاتی ہے لازماً یہ ثابت نہیں کرتی کہ ریلز دیکھنا ہی ان تمام مسائل کی واحد وجہ ہے
اس سے بھی زیادہ تازہ تحقیق دو ہزار چھبیس میں سامنے آئی جب محققین نے نوجوانوں کے حوالے سے پندرہ سال کے دوران شائع ہونے والی تحقیق کا جامع جائزہ لیا چار بڑے تحقیقی ذرائع سے حاصل ہونے والے چودہ سو اٹھانوے ریکارڈز میں سے بیالیس مطالعات منتخب کیے گئے جن میں چھیالیس ہزار نو سو بارہ نوجوان شامل تھے اس جائزے میں مختصر ویڈیوز کے بہت زیادہ اور بے ترتیب استعمال کو توجہ میں کمی بے ساختہ ردعمل کام کرنے والی یادداشت اور خود نظم و ضبط میں کمزوری کے ساتھ منسلک پایا گیا اسی جائزے میں مختصر ویڈیوز کے مسئلہ نما استعمال اور لت جیسی علامات کے درمیان بھی تعلق سامنے آیا لیکن محققین نے واضح کیا کہ اٹھاسی فیصد مطالعات ایک ہی وقت کے مشاہدے پر مبنی تھے اس لیے وجہ اور نتیجے کو قطعی طور پر ثابت کرنے کے لیے مزید طویل مدتی اور تجرباتی تحقیق ضروری ہے
یہ آخری نکتہ بہت اہم ہے کیونکہ ممکن ہے مسئلہ صرف یہ نہ ہو کہ ریلز ہماری توجہ کم کر رہی ہیں ممکن ہے پہلے سے بے چین تنہا پریشان یا بور انسان ریلز میں فرار کا راستہ تلاش کرتا ہو پھر وہ زیادہ ریلز دیکھتا ہے مزید مختصر اور تیز محرکات کا عادی ہوتا ہے اور عام زندگی کی نسبتاً سست رفتار سرگرمیاں اسے زیادہ پھیکی محسوس ہونے لگتی ہیں یعنی تعلق دونوں طرف سے ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ سائنسی تحقیق میں ہمیں احتیاط کرنی چاہیے اور ہر شخص کے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ریلز دیکھنے کی وجہ سے اپنی توجہ کھو چکا ہے
ذرا اپنے روزمرہ کا جائزہ لیجیے پہلے انسان بس میں بیٹھتا تھا تو کھڑکی سے باہر دیکھتا تھا کسی کے آنے کا انتظار کرتا تھا تو آس پاس کے لوگوں کو دیکھتا تھا رات کو نیند نہیں آتی تھی تو چھت کو گھورتا کتاب پڑھتا یا اپنے خیالات کے ساتھ کچھ دیر تنہا رہتا تھا اب انتظار کے چند سیکنڈ بھی ہمیں طویل محسوس ہوتے ہیں لفٹ آنے تک فون کھانا آنے تک فون دوست کے واش روم جانے تک فون سگنل سرخ ہونے تک فون کھانے کی میز پر فون کسی سے بات کرتے ہوئے فون حتیٰ کہ بعض اوقات انسان اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی بات سننے کے بجائے اسکرین پر چلتی ہوئی کسی ریل میں مصروف ہوتا ہے امریکی نفسیاتی انجمن نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال حقیقی زندگی کے باہمی تعلقات نیند اور جسمانی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے
اصل خسارہ شاید یہاں شروع ہوتا ہے انسان کی شخصیت صرف معلومات سے نہیں بنتی خاموشی سے بھی بنتی ہے تخیل کو بھی وقفہ چاہیے غور و فکر کو بھی کتاب کو بھی محبت کو بھی اور غم کو بھی ایک شاعر شعر اسی وقت نہیں لکھتا جب اس کے سامنے کوئی خوب صورت منظر ہو کبھی شعر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ خاموش کمرے میں اپنے اندر کی آواز سنتا ہے ایک افسانہ نگار کو ہر لمحہ نیا مواد نہیں چاہیے کبھی اسے کچھ نہ دیکھنے کا موقع بھی چاہیے تاکہ اس کے اندر کوئی نئی دنیا تشکیل پا سکے اگر ہر خاموش لمحہ ہم ریل سے بھر دیں گے تو ممکن ہے ہمارے پاس معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہوں مگر اپنے خیالات کے لیے جگہ پہلے سے کم
اور پھر بچوں اور نوجوانوں کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے امریکی نفسیاتی انجمن کے مطابق نوجوانی میں دماغ کے وہ حصے جو توجہ فوری ردعمل اور خود پر قابو رکھنے سے متعلق ہیں ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں اسی لیے لامتناہی اسکرول اور مسلسل نوٹی فکیشن جیسی خصوصیات نوجوانوں کے لیے خاص طور پر مشکل بن سکتی ہیں انجمن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا بذات خود ہر نوجوان کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس کے اثرات مواد پلیٹ فارم کی خصوصیات اور خود نوجوان کی نفسیاتی اور سماجی صورتحال کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں
تو کیا ریلز نشہ ہیں شاید اس سوال کا سب سے ذمہ دار جواب یہ ہے کہ کچھ لوگوں میں نشہ نما یا بے قابو رویہ پیدا ہو سکتا ہے مگر اسے ہر شخص کے لیے طبی نشہ کہنا درست نہیں امریکی نفسیاتی انجمن مسئلہ نما سوشل میڈیا استعمال کی علامات میں یہ چیزیں شامل کرتی ہے کہ انسان رکنا چاہے مگر رک نہ سکے ضرورت سے زیادہ وقت گزارے اپنی سرگرمیوں میں مداخلت کے باوجود استعمال جاری رکھے یا سوشل میڈیا نہ ملنے پر شدید خواہش محسوس کرے اس لیے اصل مسئلہ لفظ نشہ نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ کیا انسان اپنے استعمال پر اختیار رکھتا ہے یا نہیں
اصل سوال اس لیے موبائل چھوڑ دیں یا نہیں نہیں ہونا چاہیے موبائل نے انسان کو علم رابطے تعلیم کاروبار علاج اور دنیا بھر کی معلومات تک ایسی رسائی دی ہے جس کا تصور چند دہائیاں پہلے مشکل تھا مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں مسئلہ انسان کی توجہ پر اختیار ہے اگر ہم موبائل کو ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہیں تو یہ آلہ ہے اگر ہر خالی لمحے میں موبائل ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے تو یہ عادت ہے اور اگر ہم جانتے ہوئے بھی رک نہیں پاتے اپنے کام نیند تعلقات یا ذہنی سکون کو متاثر ہونے کے باوجود بار بار اسی طرف جاتے ہیں تو ہمیں اپنی عادت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے
آج کا سب سے بڑا خسارہ شاید یہ نہیں کہ انسان کے پاس وقت کم رہ گیا ہے بلکہ یہ ہے کہ وقت ہوتے ہوئے بھی اس کے پاس اپنی توجہ نہیں رہی کھانے کی میز پر کھانا سامنے رکھا ہے مگر ہاتھ میں فون ہے کسی سے بات ہو رہی ہے مگر نظریں اسکرین پر ہیں دوست سامنے بیٹھا ہے مگر توجہ نوٹی فکیشن کی آواز پر ہے کتاب کھولی ہے مگر چند صفحات کے بعد انگلی بے اختیار فون کی طرف بڑھ جاتی ہے بچہ سامنے بیٹھا ہے مگر والدین کی نظریں اسکرین پر چلتی ہوئی کسی ریل میں الجھی ہوئی ہیں تنہائی کے چند لمحے ملتے ہیں تو انسان اپنے اندر اترنے کے بجائے کسی اجنبی کی زندگی دیکھنے لگتا ہے ہم جسمانی طور پر ایک جگہ موجود ہوتے ہیں مگر ہماری توجہ ہر چند سیکنڈ بعد کسی دوسرے منظر کسی دوسری آواز کسی دوسرے شخص اور کسی دوسرے خیال کی طرف منتقل ہو جاتی ہے دو ہزار پچیس میں گریفتھ یونیورسٹی کے محققین کی جامع تحقیق جو جرنل سائیکولوجیکل بلیٹن میں شائع ہوئی اکہتر مطالعات اور اٹھانوے ہزار دو سو ننانوے افراد کے اعداد و شمار پر مبنی تھی اور اس میں مختصر ویڈیوز کے زیادہ استعمال کا تعلق خاص طور پر توجہ اور فوری ردعمل کو روکنے کی صلاحیت میں کمزور نتائج کے ساتھ پایا گیا
اور شاید اسی لیے اس عنوان کا اصل مطلب یہی ہے کہ ہم اسکرول نہیں کر رہے ہمیں اسکرول کروایا جا رہا ہے انگلی ہماری ہے مگر ہماری توجہ کو روکنے اور دوبارہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے بنائے گئے اس نظام کی ساخت ہمارے اختیار میں نہیں لامتناہی اسکرول خودکار اگلی ویڈیو نوٹی فکیشن اور ہماری پسند کے مطابق سامنے آنے والا مواد ہمیں مسلسل اگلے منظر کی طرف لے جاتا ہے وقت ہمارا ہے مگر اس وقت پر قبضہ کرنے کے لیے توجہ ایک قیمتی شے بن چکی ہے اور یہ صرف ایک خیال نہیں۔ شاید ہمیں ٹیکنالوجی سے لڑنے کی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اپنے تعلق کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں موبائل کیوں ہے مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم موبائل ہاتھ میں لیتے ہیں تو کیا ہم اپنی مرضی سے اسے استعمال کرتے ہیں یا چند لمحوں بعد وہی موبائل ہماری توجہ اپنی مرضی سے ایک ویڈیو سے دوسری ویڈیو تک لے جاتا ہے ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری انگلی صرف اسکرین پر چل رہی ہے یا ہماری زندگی بھی اسی اسکرول کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کیونکہ وقت گزرنے کے بعد واپس آ سکتا ہے نہ توجہ واپس آتی ہے اور نہ وہ لمحہ جس میں ہمارے سامنے بیٹھا کوئی انسان ہم سے بات کرنا چاہتا تھا اور ہم اس وقت کسی اجنبی کی ریل دیکھ رہے تھے
مزید پڑھیں





