ایمان کی دولت اور ہماری غریب سوچ،تحریر: مریم خان
نقطہ نظر
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی غربت کا رونا روتے ہیں۔ کسی کے پاس دولت نہیں، کوئی وسائل کی کمی کا شکوہ کرتا ہے اور کوئی دوسروں کی آسائشیں دیکھ کر اپنی محرومیوں کا حساب لگاتا رہتا ہے۔ مگر کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اصل غربت جیب میں ہے یا سوچ میں؟ کیا واقعی انسان کی قدر اس کے بینک بیلنس، بڑے گھر، مہنگے لباس اور بلند مرتبے سے طے ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر وہ لوگ کہاں کھڑے ہوں گے جن کے پاس دنیا کی ہر آسائش موجود ہے مگر دل سکون سے خالی اور ضمیر بے چین ہے؟
ایمان انسان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو مشکل وقت میں امید کا چراغ روشن کرتا ہے، محرومی میں صبر سکھاتا ہے اور آسودگی میں شکر کی توفیق دیتا ہے۔ ایمان کا تعلق محض زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ یا چند ظاہری اعمال تک محدود نہیں۔ اس کی اصل خوب صورتی انسان کے کردار، معاملات، رویوں اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں نظر آتی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے ایمان کو اکثر اپنی شناخت کا حصہ تو بنا لیا ہے، اپنی سوچ اور عمل کا حصہ بنانے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔
ہم عبادت گاہوں میں سکون تلاش کرتے ہیں مگر اپنے گھروں میں دوسروں کا سکون چھین لیتے ہیں۔ زبان پر نیکی کی باتیں ہوتی ہیں مگر کسی ضرورت مند کی مدد کا موقع آئے تو ہماری جیب پر پہرے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم رزق میں برکت کی دعائیں مانگتے ہیں مگر اپنے کاروبار میں دیانت داری کو نقصان کا سودا سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم اولاد کے روشن مستقبل کے لیے فکرمند رہتے ہیں مگر انہیں سچائی، برداشت، حیا اور انسان دوستی کا سبق دینے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایمان ہماری زندگی کے فیصلوں کو بہتر نہیں بنا رہا تو کیا ہم نے کبھی اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا ہے؟
ہماری سوچ کی غربت اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ہم کسی کی خوش حالی دیکھ کر اس کے لیے دعا کرنے کے بجائے حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کسی کی کامیابی ہمیں اپنی محنت بڑھانے کی ترغیب دینے کے بجائے اس کی خامیاں تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ کسی کو عزت ملے تو ہم اس کے کردار پر انگلی اٹھانے لگتے ہیں، کسی کی تحریر مقبول ہو تو اس کی صلاحیت کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کے پیچھے سازشیں تلاش کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کی روشنی سے اپنے اندھیرے دور کرنے کے بجائے اس روشنی کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں غربت محض معاشی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اخلاقی اور فکری بحران بن جاتی ہے۔
مالی غربت کسی انسان کا جرم نہیں۔ حالات، مواقع کی کمی، بے روزگاری اور معاشرتی ناہمواری کسی بھی شخص کو مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے۔ لیکن تنگ دستی کے باوجود کشادہ دل رہنا، کم وسائل کے باوجود کسی کا حق نہ مارنا اور محرومی کے باوجود دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا انسان کی حقیقی عظمت ہے۔ اس کے برعکس مال و دولت کی فراوانی کے باوجود دوسروں کو حقیر سمجھنا، کمزور کا استحصال کرنا اور ہر تعلق کو فائدے کے ترازو میں تولنا ایسی محرومی ہے جسے دولت بھی دور نہیں کر سکتی۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم دین کو دوسروں کے احتساب کا پیمانہ تو بنا لیتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کم ہی کرتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی غلطیاں جلد دکھائی دیتی ہیں، اپنی کوتاہیاں نظر نہیں آتیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، ہماری عزت کریں، ہماری مجبوری سمجھیں اور ہماری غلطی معاف کر دیں، مگر جب یہی رویہ دوسروں کے لیے اپنانے کی باری آتی ہے تو ہماری انا راستہ روک لیتی ہے۔ ہم اپنے لیے رعایت اور دوسروں کے لیے سختی چاہتے ہیں۔ کیا یہی وہ انصاف ہے جس کی تعلیم ہمیں دی گئی ہے؟
قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ اس اصول میں دولت، خاندانی مرتبے، شہرت اور ظاہری نمود و نمائش کو فضیلت کا معیار نہیں بنایا گیا بلکہ تقویٰ کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں انسان کو اس کی گاڑی، لباس، عہدے اور تعلقات سے پہچاننے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ غریب آدمی کی بات اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے جبکہ صاحبِ حیثیت شخص کی معمولی بات بھی توجہ حاصل کر لیتی ہے۔ ہم نے شاید انسان کی قدر کرنے کے بجائے اس کی حیثیت کی قدر کرنا سیکھ لیا ہے۔
ایمان کی دولت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کمزور کے لیے سہارا بنیں، یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھیں، کسی کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں، اپنے وعدوں کی پاس داری کریں اور اپنے اختیار کو دوسروں کی تذلیل کا ذریعہ نہ بنائیں۔ نیکی صرف بڑے عطیات دینے یا نمایاں فلاحی کام کرنے کا نام نہیں۔ کسی پریشان شخص کی بات تحمل سے سن لینا، کسی کی عزت بچا لینا، کسی کی غلطی پر پردہ ڈال دینا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا اور کسی مایوس انسان کو امید دے دینا بھی انسانی بھلائی کے اہم مظاہر ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ایمان کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ دعا کے ساتھ کوشش، توکل کے ساتھ تدبیر، صبر کے ساتھ جدوجہد اور شکر کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ اگر معاشرے میں بھوک ہے تو صرف بھوکے کو صبر کی تلقین کافی نہیں، اس کی مدد اور محرومی کے اسباب دور کرنے کی کوشش بھی ہونی چاہیے۔ اگر نوجوان بے روزگار ہیں تو انہیں محض نصیحتیں دینے کے بجائے مواقع پیدا کرنے کی فکر بھی ضروری ہے۔ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو خاموشی کو ہمیشہ حکمت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ایمان انسان کو بے حس نہیں بلکہ زیادہ ذمہ دار بناتا ہے۔
ہم دوسروں کی اصلاح کے خواہش مند ہیں، مگر تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں دیانت داری عام ہو، مگر اپنے فائدے کے لیے اصول توڑنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ سچ بولیں، مگر اپنی عزت بچانے کے لیے حقیقت چھپا لیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں معاف کریں، مگر دوسروں کو معاف کرنے میں اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔ یہ تضاد ہماری سوچ کی وہ غربت ہے جسے پہچاننا ضروری ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو محض دعوے سے نکال کر کردار کی زبان دیں۔ اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہ سکھائیں بلکہ اچھا انسان بننا بھی سکھائیں۔ کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا سیکھیں، کسی کی ناکامی پر اسے رسوا کرنے کے بجائے سہارا دیں اور اختلاف کے باوجود دوسرے کی عزت برقرار رکھیں۔ اپنے معاملات میں دیانت داری، اپنے رویوں میں نرمی اور اپنے فیصلوں میں انصاف پیدا کریں۔
یاد رکھیے، دنیا کی دولت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، حالات بدل سکتے ہیں اور عہدے و شہرت وقت کے ساتھ ختم ہو سکتے ہیں، مگر اچھا کردار انسان کے وجود کو دوسروں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔ ایمان کی دولت کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ وہ انسان کو انسان کے قریب کرتی ہے، اس کے دل سے تکبر کم کرتی ہے اور اسے اپنی ذات سے آگے دیکھنا سکھاتی ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا مال ہے، کتنی شہرت ہے یا کتنے لوگ ہمیں جانتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے وجود سے کتنے لوگوں کو آسانی ملتی ہے، ہمارے رویے سے کتنے دل محفوظ رہتے ہیں اور ہماری موجودگی سے معاشرے میں کتنی بھلائی بڑھتی ہے۔
اگر ہمارے پاس ایمان کا دعویٰ ہے مگر دل میں حسد، زبان میں تلخی، معاملات میں بے ایمانی اور رویوں میں تکبر ہے تو ہمیں اپنی سوچ کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصل محرومی مال کی کمی نہیں بلکہ احساس، کردار اور اخلاق کی کمی ہے۔
ایمان کی دولت رکھنے والے ہاتھ خالی بھی ہوں تو وہ کسی کے لیے دعا، محبت اور سہارا بن سکتے ہیں، لیکن سوچ کی غربت میں مبتلا دل دولت کے انبار پر بیٹھ کر بھی فقیر رہتا ہے۔
مزید پڑھیں





