اسلامی معاشرہ، ہماری ذمہ داری اور کردار کا آئینہ ،تحریر: طاہر محمود
نقطہ نظر
معاشرے عمارتوں، بازاروں، سڑکوں اور اداروں سے نہیں بنتے، معاشرے انسانوں کے کردار سے بنتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی اصل پہچان اس کے بلند و بالا دعوے نہیں بلکہ اس کے افراد کا اخلاق، معاملات، رویے اور ایک دوسرے کے حقوق کے ساتھ برتاؤ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک ایسی عملی زندگی کا نام ہے جس میں ایمان انسان کے کردار میں، عبادت انسان کے معاملات میں اور تقویٰ انسان کے رویوں میں دکھائی دے۔
اسلام نے انسان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم نہیں دیا بلکہ اسے ایک ذمہ دار معاشرتی وجود بنایا ہے۔ قرآنِ کریم عدل، احسان، صلہ رحمی، امانت، سچائی اور حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اس تعلیم کی عملی تصویر ہے۔ آپ ﷺ نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں انسان کی عزت، جان، مال اور آبرو کو حرمت حاصل تھی؛ جہاں کمزور کو طاقتور کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاتا تھا اور جہاں پڑوسی، مسافر، یتیم، مسکین اور ضرورت مند کے حقوق کو معاشرتی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔
آج ہم اسلامی معاشرے کی بات تو بہت کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی اس کی تعمیر کا آغاز اپنے آپ سے کرنے کے بجائے دوسروں سے توقع رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں جھوٹ ختم ہو، مگر اپنی مصلحت کے لیے سچ چھپانے کو برا نہیں سمجھتے۔ ہم انصاف کے خواہاں ہیں، مگر جب معاملہ اپنے مفاد کا ہو تو معیار بدل جاتا ہے۔ ہم عزت چاہتے ہیں، لیکن اختلافِ رائے کے وقت دوسروں کی عزت کا خیال نہیں رکھتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری بات سنیں، مگر دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا نہیں کرتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی معاشرے کی اصل روح ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔
اسلامی معاشرے کی تعمیر کسی بڑے منصوبے سے پہلے ایک چھوٹے سے انسانی رویے سے شروع ہوتی ہے۔ گھر میں والدین سے حسنِ سلوک، بچوں کے ساتھ محبت، رشتہ داروں کے ساتھ تعلق، پڑوسی کے ساتھ خیرخواہی، ملازم کے ساتھ انصاف، کاروبار میں دیانت، گفتگو میں شائستگی اور اختلاف میں برداشت—یہ سب اسلامی معاشرت کے بنیادی ستون ہیں۔
اگر ایک دکاندار ناپ تول میں کمی نہیں کرتا، ایک تاجر ملاوٹ سے بچتا ہے، ایک استاد اپنے منصب کو امانت سمجھتا ہے، ایک افسر اختیار کو خدمت بناتا ہے، ایک نوجوان اپنی صلاحیت کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے، ایک قلم کار سچائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور ایک عام شہری دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے تو یہ سب مل کر اسلامی معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔
اسلامی معاشرہ صرف مسجد کے دروازے سے شروع ہو کر مسجد ہی پر ختم نہیں ہوتا۔ اس کا تعلق ہمارے بازار سے بھی ہے، ہمارے دفتر سے بھی، ہمارے تعلیمی ادارے سے بھی، ہماری گفتگو سے بھی اور ہمارے گھروں سے بھی۔ ہماری عبادت اگر ہمارے معاملات میں دیانت پیدا نہیں کرتی، ہمارے دل میں رحم پیدا نہیں کرتی، ہماری زبان میں نرمی نہیں لاتی اور ہمیں دوسروں کے حقوق کا احساس نہیں دلاتی تو ہمیں اپنے عمل اور مقصد کے درمیان فاصلے پر غور کرنا چاہیے۔
آج کے جدید دور میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ نے ہر شخص کو اظہار کی طاقت دے دی ہے۔ اب ایک جملہ، ایک تصویر یا ایک غیر مصدقہ خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں اسلامی کردار کا تقاضا ہے کہ ہم بولنے سے پہلے سوچیں، لکھنے سے پہلے تحقیق کریں اور کسی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ کسی کی عزت کو چند لمحوں کی توجہ کے لیے مجروح کرنا آزادیِ اظہار نہیں، بلکہ اخلاقی ذمہ داری سے انحراف ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اصلاحِ معاشرہ صرف تقریروں، تحریروں اور نعروں سے نہیں آتی۔ اصلاح اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دوسروں کے کردار کا حساب لینے سے پہلے اپنے کردار کا احتساب کرتا ہے۔ اگر ہمیں معاشرے میں امن چاہیے تو اپنے لہجے میں امن پیدا کرنا ہوگا۔ اگر انصاف چاہیے تو اپنے فیصلوں میں انصاف لانا ہوگا۔ اگر سچائی چاہیے تو اپنی زبان کو سچ کا عادی بنانا ہوگا۔ اگر عزت چاہیے تو دوسروں کی عزت کرنا ہوگی۔
ایک اسلامی معاشرہ وہ ہے جہاں طاقتور اپنے اختیار کو کمزور کے خلاف استعمال نہ کرے، صاحبِ ثروت ضرورت مند کو حقیر نہ سمجھے، صاحبِ علم جاہل کو تحقیر کی نگاہ سے نہ دیکھے، اختلاف رکھنے والا دشمن نہ سمجھا جائے اور انسان کی قدر اس کے لباس، عہدے، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے کی جائے۔
ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں دین صرف ہماری زبان پر نہ ہو بلکہ ہمارے رویوں میں بھی نظر آئے؛ جہاں قرآن صرف طاقوں کی زینت نہ ہو بلکہ ہمارے فیصلوں کی رہنمائی کرے؛ جہاں سیرتِ رسول ﷺ صرف محفلوں کا موضوع نہ ہو بلکہ ہمارے اخلاق کا حصہ بنے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ معاشرہ کوئی الگ مخلوق نہیں۔ ہم ہی معاشرہ ہیں۔ ہماری سوچ، ہماری زبان، ہمارے معاملات، ہماری ترجیحات اور ہمارے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلے مل کر معاشرے کی تصویر بناتے ہیں۔ اگر ہم اس تصویر کو خوبصورت دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوں گے۔
شاید اسلامی معاشرے کی تعمیر کا سب سے خوبصورت راستہ یہی ہے کہ ہم دنیا کو بدلنے کی خواہش سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ایک صالح کردار ایک گھر کو بدل سکتا ہے، ایک اچھا گھر ایک محلے کو، ایک باشعور محلہ ایک شہر کو اور باکردار انسانوں کی ایک نسل پوری قوم کی سمت متعین کر سکتی ہے۔
اس لیے آج ضرورت کسی اور سے یہ پوچھنے کی نہیں کہ معاشرہ کب بدلے گا؟
ضرورت صرف یہ سوال اپنے دل سے کرنے کی ہے:
"میں معاشرے کو بدلنے کے لیے خود میں کیا تبدیلی لا رہا ہوں؟"
کیونکہ اسلامی معاشرے کی بنیاد کسی ایک فرد کے ہاتھ میں نہیں، ہم سب کے کردار میں رکھی گئی ہے۔ جب انسان اپنے اندر ایمان کی روشنی، کردار کی پاکیزگی اور دوسروں کے حقوق کا احساس پیدا کر لیتا ہے تو معاشرہ خود بخود ایک بہتر سمت میں سفر شروع کر دیتا ہے۔
معاشرے کی اصلاح کا پہلا قدم سڑکوں پر نہیں، انسان کے اپنے اندر اٹھتا ہے۔ اور جب انسان بدلتا ہے تو تاریخ بدلنے کی بنیاد پڑتی ہے۔





