Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنسی استحصال ، خاموشی بھی جرم ہے،تحریر: شمسہ رانی

shamsa rani

کچھ زخم جسم پر نہیں لگتے، وہ معاشرے کے ضمیر پر اترتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جسمانی زخم شاید مندمل ہو جائیں، مگر وہ خوف جو کسی معصوم ذہن میں اتار دیا جائے، وہ برسوں انسان کے ساتھ چلتا ہے۔ جنسی استحصال بھی ایسا ہی ایک زخم ہے؛ ایک ایسا المیہ جس کے خلاف آواز اٹھانا صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی فرض ہے۔


ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عزت کا ذکر تو بہت ہوتا ہے، مگر عزت کے تحفظ کا شعور ابھی ادھورا ہے۔ کسی بچی کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو چند دن تک غم و غصہ سوشل میڈیا کی دیواروں پر دکھائی دیتا ہے، مذمتوں کے الفاظ لکھے جاتے ہیں، انصاف کے مطالبے کیے جاتے ہیں، مگر پھر خبر پرانی ہو جاتی ہے۔ صرف ایک چیز پرانی نہیں ہوتی—متاثرہ خاندان کا دکھ۔


سب سے زیادہ حساس معاملہ بچوں کا ہے۔ ایک بچہ دنیا کو اعتماد کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا رویہ محفوظ ہے اور کون سا خطرے کی علامت۔ اسی لیے بچوں کی حفاظت صرف والدین کی نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ گھر، اسکول، رشتہ داری، کھیل کا میدان اور ڈیجیٹل دنیا—ہر جگہ بالغ افراد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بچوں کی حدود اور سلامتی کا احترام کریں۔


والدین کو بھی بچوں کے ساتھ ایسا اعتماد قائم کرنا ہوگا کہ وہ خوف کے بغیر اپنی بات کہہ سکیں۔ بچوں کو عمر کے مطابق ذاتی حدود، نامناسب رویے کی پہچان اور کسی قابلِ اعتماد بڑے سے مدد لینے کی تعلیم دینا ضروری ہے۔ آگاہی بچے کو خوفزدہ نہیں کرتی، اسے محفوظ بناتی ہے۔


جنسی استحصال کا ایک اور تلخ پہلو ان خواتین کی زندگیوں سے جڑا ہے جو تعلیم، روزگار اور اپنے مستقبل کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ دفتر ہو یا فیکٹری، تعلیمی ادارہ ہو یا کاروباری جگہ—ایک عورت اپنی محنت اور صلاحیت لے کر جاتی ہے۔ اسے وہاں کسی کی بدنگاہی، غیر ضروری قربت یا اختیار کے غلط استعمال کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔


کسی عہدے، اختیار یا معاشی طاقت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے انسان کی عزت اور حدود کو پامال کرے۔ کام کی جگہ محفوظ ہو تو عورت بہتر انداز میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتی ہے؛ خوف کی فضا نہ صرف فرد کو توڑتی ہے بلکہ ادارے کی اخلاقی بنیاد بھی کمزور کرتی ہے۔


افسوس ناک بات یہ ہے کہ جب کوئی عورت اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی یا نامناسب رویے کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو بعض اوقات معاشرہ مجرم سے پہلے اس کے کردار کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔


وہ وہاں گئی کیوں تھی؟

اس نے اعتماد کیوں کیا؟

اس نے پہلے شکایت کیوں نہیں کی؟


ہمیں اپنے سوال بدلنے ہوں گے۔


سوال یہ نہیں کہ مظلوم نے کیا کیا؛ سوال یہ ہے کہ ظالم نے ایسا کرنے کی جرأت کیوں کی؟


اور یہ جرأت صرف ایک فرد کی نہیں ہوتی۔ کبھی خاموش ماحول اسے طاقت دیتا ہے ،کبھی ادارے کی کمزور پالیسی، کبھی سماجی بدنامی کا خوف اور کبھی ہماری اجتماعی بے حسی۔

یہاں ہما را کیا ؛ کا رویہ سب سے خطرناک بن جاتا ہے۔ ہم کسی بچے کے خوف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کسی خاتون کی شکایت کو ذاتی معاملہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ کسی نا مناسب رویے کو مذاق سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔ مگر ظلم ہمیشہ بڑے واقعات سے شروع نہیں ہوتا ۔بعض اوقات وہ ایک ایسے رویے سے جنم لیتا ہے جسے ہم ابتدا میں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل صرف مذمت نہیں۔ ہمیں گھر سے تربیت ،سکول سے اگاہی، اداروں میں واضح ضابطہ، اخلاق، محفوظ شکایتی نظام اور قانون کی موثر عمل داری کی ضرورت ہے ۔شکایت کرنے والوں کو بدنامی نہیں ،تحفظ ملنا چاہیے۔ تحقیقات شفاف ہوں اور کسی باا ثر شخص کو اس لیے رعایت نہ ملے کہ اس کے پاس اختیار ہے۔

ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ متاثرہ فرد کی تصویر ،شناخت یا ذاتی معلومات پھیلانا انصاف نہیں۔ کسی کے زخم کو تماشا بنا دینا ایک دوسری نا انصافی ہے ۔ ہمیں اواز اٹھانی ہے مگر ذمہ داری اور رازداری کے ساتھ ۔

ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں کبھی جر م نہ ہوا ہو مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں جرم کو چھپانے کی کوشش نہ کی جائے،مظلوم کو الزام نہ دیا جائے ۔طاقتور کو قانون سے بالا ترنہ سمجھا جائے اور خاموشی کو مصلحت کا نام دے کر ظلم کا ساتھ نہ دیا جائے ۔

اج ہمیں اپنے گھروں ،اداروں اور اپنے رویوں میں ایک نئی روشنی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ دنیا سے بچ کر رہنا ہے ۔ہمیں اپنے بیٹوں کو بھی یہ سکھانا ہے کہ دوسروں کی حدود، عزت اور رضامندی کا احترام کیا ہوتا ہے۔

کیونکہ معاشرہ صرف قوانین سے محفوظ نہیں ہوتا، انسانوں کے کردار سے محفوظ ہوتا ہے۔

اور جب کسی مظلوم کی اواز خوف سے دبنے لگے تو ہمیں اس سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ خاموش رہو ،بات پھیل جائے گی ۔

ہمیں کہنا چاہیے تمہاری اواز تمہارا حق ہے ،اور تمھیں سننا ہمارا فرض۔

جنسی اسحتصال کے خلاف ہماری سب سے پہلی فتح شاید کسی بڑے نعرے میں نہیں، بلکہ اس دن ہوگی جب ایک بچی خوف کے بجائے اعتماد سے اپنی بات کہہ سکے، ایک عورت کام کی جگہ پر خود کو محفوظ محسوس کرے، اور معاشرہ مظلوم سے سوال کرنے کے بجائے ظالم سے جواب طلب کرے۔

کیونکہ جرم کرنے والا مجرم ہے، مگر جرم کو دیکھ کر خاموش رہنے والا معاشرہ بھی اپنے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے۔