جس تھالی میں کھایا ، اسی میں چھید کیا ،تحریر: نعیم خان
نقطہ نظر
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ سے منسوب ایک نصيحت ملتی ہے کہ خون بہانے سے بچو ، کیونکہ خون کبھی نہیں سوتا۔ اس ایک جملے میں طاقت کا پورا فلسفہ چھپا ہے۔ طاقت کا مقصد جنگ برپا کرنا نہیں بلکہ اپنے وطن کو جنگ اور تباہی سے محفوظ رکھنا ہے۔ آج پاکستان بھی تاریخ کے اسی باریک موڑ پر کھڑا ہے جہاں محض امن کی خواہش کافی نہیں بلکہ ایک بااصول ، سخت اور مضبوط ریاستی آہنی ہاتھ کی ضرورت ہے۔
افغانستان کی سرحد پر اس وقت محض زبانی کشیدگی نہیں بلکہ جنگی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔ سرحدی خلاف ورزیوں ، باقاعدہ فائرنگ کے تبادلوں اور پاک افغان بارڈر پر ہونے والی شدید جھڑپوں نے یہ سچائی واضح کر دی ہے کہ سرحد کے دوسری طرف سے اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کا تسلسل اب ایک کھلی جنگی حالت کا روپ دھار رہا ہے۔ بھارت کی پشت پناہی اور خطے کے بدلتے حالات نے پاکستان کے لیے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب اپنی سلامتی کے معاملے میں کسی ابہام ، رعایت یا لچک کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔ ہماری اصل طاقت عوام اور وہ بہادر افواج ہیں جن کے ہزاروں جوانوں نے اپنے خون سے اس مٹی کی حفاظت کی ہے۔ لیکن عسکری قوت کی ہیبت اور سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب کی بصیرت اس وقت تک کامل نتائج نہیں دے سکتی جب تک اس کے پیچھے ایک واضح اور بے لچک قومی پالیسی کھڑی نہ ہو۔
افغانستان سے جڑا مسئلہ اب محض سرحد کا جھگڑا نہیں رہا یہ پاکستان کی سلامتی ، معیشت اور معاشرت کے لیے ایک براہِ راست وجودی خطرہ بن چکا ہے۔ دہائیوں سے چلی آ رہی افغان مہمان نوازی کی قیمت اس ملک نے ہیروئن ، غیر قانونی اسلحہ ، دہشت گردی اور لہو کے نذرانوں کی صورت میں ادا کی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دردناک پہلو وہ پاکستان دشمنی ہے جو افغان باشندوں اور وہاں کے حکمرانوں کی طرف سے بارہا دیکھنے کو ملی۔ تاریخ اور موجودہ واقعات شاہد ہیں کہ جس ملک نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغانوں کو چھت ، روزگار اور تحفط دیا ، آج اسی ملک کے جھنڈے کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور ہماری سرحدوں پر گولے برسائے جاتے ہیں ، خودکش بمبار بھیجے جاتے ہیں۔ یہ رویہ اس تلخ حقیقت کو سچ ثابت کرتا ہے کہ احسان فراموشی اور نمک حرامی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مگر یہاں جس تھالی میں کھایا گیا اسی میں چھید کیا گیا۔
آج پاکستان کے بڑے شہروں اور مارکیٹوں کی صورتِ حال کا جائزہ لیں۔ اسلحہ اور منشیات کی فروخت سے حاصل شدہ غیر قانونی سرمائے ، ہنڈی ، حوالہ اور بلیک منی کے بل بوتے پر ایک ایسی خطرناک متوازی معیشت کھڑی کر دی گئی ہے جس نے ملک کے قانونی اور معاشی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان سے ڈالرز کی بے دردی سے سمگلنگ اور غیر قانونی منتقلی کے ذریعے ہماری معیشت کو اندر سے کھوکھلا کیا جا رہا ہے اور اس کے بدلے میں یہاں صرف منشیات ، غیر قانونی اسلحہ ، بارود اور دہشت گردی منتقل کی جاتی ہے۔ معاشی میدان میں افغان سمگلروں اور غیر قانونی عناصر کے اس ناجائز تسلط نے مقامی پاکستانی تاجروں اور عام شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس سے پاکستان کے اپنے تاجر اپنے ہی بازاروں میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی پالیسی میں دوٹوک اور سخت موقف اختیار کرے۔ یہ مہمان نوازی کا نہیں اپنے گھر کی حفاظت کا وقت ہے۔ پاکستان میں مقیم تمام افغان باشندوں خواہ وہ دستاویزات کے ساتھ ہوں یا کسی حیلے بہانے سے یا غیر قانونی مقیم ہوں ان کی واپسی کا عمل اب غیر معینہ مدت کے لیے نہیں لٹکایا جا سکتا۔ اب واضح خطِ تنسیخ کھینچ کر ان کا مکمل دیس نکالا اور حتمی ملک بدری یقینی بنانا ہوگی۔ پاکستان کے شہریوں کا حق ان کا روزگار اور ان کی سلامتی ہر غیر ملکی سے مقدم ہے۔
پاکستان کو کسی نسل یا قومیت سے بلاوجہ کی نفرت نہیں لیکن اپنے خلاف ہونے والی دہشت گردی ، معاشی لوٹ مار اور نمک حرامی سے نفرت بالکل حق بجانب ہے۔ ریاست کا رحم دلی دکھانا اس کی کمزوری سمجھا گیا۔ اب اس خام خیالی کو ختم ہونا ہوگا۔ اندرونِ ملک تمام غیر قانونی کاروبار ، کالے دھن کے نیٹ ورک اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں پر بلاامتیاز سخت کاری ضرب لگانی ہوگی۔
شمشیر کی اصل فتح یہ ہے کہ اس کے سائے میں پاکستان کا بچہ بے خوف ہو کر اسکول جائے اور تاجر اپنے بازار میں محفوظ رہے۔ ہماری طاقت کا مقصد جنگ نہیں مگر اپنے امن اور عوام کے دفاع کے لیے اٹھایا جانے والا سخت ترین قدم ہی اب پاکستان کا واحد اور حتمی راستہ ہے





