خاموشی سے تباہ ہوتی نسل،تحریر: شازیہ یاسین
نقطہ نظر
جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں۔ موبائل فون، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات نے تعلیم، رابطے اور معلومات تک رسائی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ مگر ہر سہولت اگر حد سے تجاوز کر جائے تو فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔ آج کے دور میں سب سے تشویشناک صورتحال بچوں میں موبائل فون اور ٹیبلٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف عادت یا تفریح تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں کی جسمانی صحت، ذہنی نشوونما، تعلیمی صلاحیت اور سماجی رویوں کو خاموشی سے متاثر کر رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ والدین، تعلیمی ادارے اور معاشرہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اکثر اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
آج چھوٹے چھوٹے بچے، جو ابھی صحیح طرح بولنا بھی نہیں سیکھتے، ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھما دیا جاتا ہے۔ روتے ہوئے بچے کو خاموش کروانے کے لیے موبائل دے دیا جاتا ہے، کھانا کھلانے کے لیے کارٹون چلا دیے جاتے ہیں اور والدین اپنی مصروفیات سے بچنے کے لیے بچوں کو اسکرین کے حوالے کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک آسان حل محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہی عادت بچوں کے مستقبل کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
طبی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی آنکھوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ موبائل اور ٹیبلٹ سے خارج ہونے والی تیز روشنی بچوں کی بینائی کو متاثر کرتی ہے۔ کم عمری میں نظر کی کمزوری، آنکھوں میں خشکی، درد اور دھندلا پن جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ پہلے زمانے میں عینک زیادہ تر بڑی عمر کے افراد استعمال کرتے تھے مگر اب چھوٹے چھوٹے بچے بھی کمزور بینائی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف جسمانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک آنے والے صحت کے بحران کی نشاندہی ہے۔
موبائل فون اور ٹیبلٹ کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی اور دماغی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ بچپن انسان کی ذہنی تشکیل کا سب سے اہم دور ہوتا ہے۔ اسی عمر میں بچے سیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں۔ مگر مسلسل اسکرین کے سامنے بیٹھنے سے بچوں کی توجہ کمزور ہو رہی ہے۔ وہ جلد اکتا جاتے ہیں، کسی کام پر دیر تک توجہ نہیں دے پاتے اور ان کی یادداشت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔
سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بچوں کی قدرتی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتیں آہستہ آہستہ محدود ہوتی جا رہی ہیں۔ پہلے بچے کھلونوں، کتابوں، کھیلوں اور مشاہدے کے ذریعے اپنی سوچ کو وسعت دیتے تھے، مگر اب ان کی دنیا صرف اسکرین تک محدود ہو چکی ہے۔ کارٹون، مختصر ویڈیوز اور مسلسل بدلتی تصاویر بچوں کے دماغ کو فوری تفریح کا عادی بنا رہی ہیں۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بچے گہری سوچ، مطالعہ اور تخلیقی سرگرمیوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کے رویوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ایسے بچے زیادہ چڑچڑے، ضدی اور غصے والے ہو جاتے ہیں۔ اگر ان سے موبائل لے لیا جائے تو وہ بے چینی اور غصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کئی بچے سماجی طور پر بھی کمزور ہو رہے ہیں۔ وہ گھر والوں سے بات چیت کم کرتے ہیں، دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے تنہائی پسند کرنے لگتے ہیں اور حقیقی زندگی کے تعلقات کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
جسمانی صحت بھی اس عادت سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ گھنٹوں بیٹھ کر موبائل استعمال کرنے سے بچوں میں جسمانی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔ دوڑنا، کھیلنا، سائیکل چلانا اور باہر کی سرگرمیوں میں حصہ لینا اب کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ موٹاپے، کمزور جسمانی ساخت، نیند کی خرابی اور کمزور مدافعتی نظام کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ کئی بچے رات گئے تک موبائل استعمال کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے اور اگلے دن ان کی توجہ، مزاج اور تعلیمی کارکردگی پر برا اثر پڑتا ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ والدین کی ایک بڑی تعداد خود بھی موبائل فون کے حد سے زیادہ استعمال کا شکار ہے۔ جب بچے اپنے والدین کو ہر وقت اسکرین میں مصروف دیکھتے ہیں تو وہ بھی اسی طرزِ زندگی کو اپنانے لگتے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف بچوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے طرزِ زندگی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
اس خطرناک صورتحال کا حل صرف تنقید یا شکایت میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔ سب سے پہلے والدین کو خود اپنی عادات میں تبدیلی لانا ہوگی۔ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم محدود کرنا ضروری ہے۔ چھوٹے بچوں کو غیر ضروری طور پر موبائل فون دینے سے گریز کیا جائے اور ان کے لیے روزانہ اسکرین استعمال کا ایک مقررہ وقت طے کیا جائے۔
بچوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہیں کھیلوں، مطالعے، ڈرائنگ، کہانی سننے، باغبانی اور تخلیقی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ والدین بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات کریں اور انہیں حقیقی دنیا سے جوڑنے کی کوشش کریں۔ اگر بچہ محبت، توجہ اور دلچسپ سرگرمیوں میں مصروف ہوگا تو اس کی موبائل پر انحصار خود بخود کم ہو جائے گا۔
تعلیمی اداروں کو بھی اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ اسکولوں میں بچوں کو اسکرین کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ ماہرینِ صحت اور نفسیات کو بھی اس حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے لیے نقصان دہ آن لائن مواد پر مؤثر نگرانی کریں اور والدین کے لیے آگاہی مہمات چلائیں۔ صرف ٹیکنالوجی کو برا کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔
موبائل فون اور ٹیبلٹ کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی آنکھوں، ذہنی نشوونما، جسمانی صحت اور سماجی رویوں کو خاموشی سے تباہ کر رہا ہے۔ اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والی نسل جسمانی طور پر کمزور، ذہنی طور پر منتشر اور سماجی طور پر تنہا ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ، حکومت اور معاشرہ مل کر بچوں کو ایک متوازن، صحت مند اور حقیقی زندگی کی طرف واپس لائیں تاکہ ان کی ذہانت، صحت اور شخصیت محفوظ رہ سکے۔
مزید پڑھیں





