Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورت کی خودمختاری اور خاندانی ذمہ داریاں،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

عورت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک ایسی ہستی ہے، جو زندگی کے کئی رشتوں کو ایک ساتھ سنبھالتی ہے۔ وہ بیٹی بھی ہے، بہن بھی، بیوی بھی اور ماں بھی ہے۔ اس کی زندگی میں محبت، قربانی، ذمہ داری اور احساس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی خودمختاری کی بات تو بہت کی جاتی ہے مگر اکثر خودمختاری کا مطلب صرف یہ لیا جاتا ہے: کہ عورت معاشی طور پر آزاد ہو، اپنی مرضی سے فیصلے کرے اور کسی کی پابند نہ ہو۔ حالانکہ خودمختاری کا اصل مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔

خودمختار عورت وہ نہیں جو اپنے خاندان سے دور ہو جائے یا ہر رشتے کو اپنی آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگے۔ خودمختار عورت وہ ہے جو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں دونوں کو سمجھتی ہو۔ اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر کر سکے، اور اپنی شخصیت کو دوسروں کی مرضی میں مکمل طور پر گم نہ ہونے دے۔

عورت کی خودمختاری کا آغاز تعلیم اور شعور سے ہوتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت صرف کتابوں کے الفاظ نہیں پڑھتی بلکہ حالات کو سمجھنے، صحیح اور غلط میں فرق کرنے اور اپنے حقوق پہچاننے کی صلاحیت بھی حاصل کرتی ہے۔ تعلیم اسے یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں آنے والے مسائل کا سامنا کس طرح کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ ہر تعلیم یافتہ عورت ملازمت کرے، لیکن یہ ضرور ضروری ہے کہ اسے اتنا شعور حاصل ہو کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر فیصلے کر سکے۔

ہمارے معاشرے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات لڑکی کی تعلیم کو صرف اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ اسے مستقبل میں نوکری مل سکے۔ حالانکہ عورت کی تعلیم کا فائدہ صرف اس کی ملازمت تک محدود نہیں ہے۔ ایک باشعور ماں اپنی اولاد کی تربیت بہتر انداز میں کر سکتی ہے۔ ایک سمجھ دار بیوی اپنے شوہر کے ساتھ زندگی کے مسائل میں بہتر مشورہ دے سکتی ہے۔ اور ایک باخبر بیٹی اپنے والدین کے لیے سہارا بن سکتی ہے۔

اسی طرح معاشی خودمختاری بھی عورت کے لیے اہم ہے، لیکن اسے خاندان کے مقابل کھڑا کرنا درست نہیں ہے۔ اگر عورت اپنی صلاحیت کے مطابق حلال طریقے سے کما رہی ہے، تو یہ اس کی محنت اور صلاحیت کا اظہار ہے۔ لیکن اگر کوئی عورت گھر سنبھال رہی ہے تو اس کی محنت کو کم تر سمجھنا بھی ناانصافی ہے۔ گھر کی دیکھ بھال، بچوں کی تربیت، بزرگوں کی خدمت اور روزمرہ کے بے شمار کام بھی وقت، محنت اور ذمہ داری چاہتے ہیں۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ عورت کے ہر کردار کو عزت دی جائے۔

خاندانی ذمہ داریوں کا مطلب یہ نہیں کہ عورت اپنی ہر خواہش قربان کر دے۔ اسی طرح خودمختاری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان اپنی ہر ذمہ داری سے آزاد ہو جائے۔ زندگی میں توازن ضروری ہے۔ عورت کو اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کے درمیان ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے، جہاں وہ دوسروں کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے وجود کو بھی نظرانداز نہ کرے۔

کئی عورتیں خاندان کے لیے اتنی مصروف ہو جاتی ہیں: کہ اپنی صحت، تعلیم، صلاحیت اور ذہنی سکون تک کو بھول جاتی ہیں۔ برسوں بعد انہیں احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے سب کے لیے وقت نکالا مگر اپنے لیے نہیں نکال سکیں۔ قربانی یقیناً محبت کا خوبصورت اظہار ہے مگر ہر وقت خود کو ختم کر دینا قربانی نہیں ہے۔ بعض اوقات اپنی ذات سے ناانصافی بھی بن جاتا ہے۔

اسی طرح خاندان کے افراد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت کو صرف کام کرنے والی ہستی نہ سمجھیں۔ اگر ایک عورت گھر سنبھال رہی ہے تو گھر کے دوسرے افراد کو بھی اس کی محنت کا احساس ہونا چاہیے۔ شوہر اگر بیوی کی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے، بچے ماں کی تھکن محسوس کرتے ہیں اور گھر والے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں، تو خاندان زیادہ مضبوط بنتا ہے۔

عورت کی خودمختاری میں اپنی رائے رکھنے کا حق بھی شامل ہے۔ گھر کے اہم معاملات میں عورت سے مشورہ کیا جانا اسے خاندان سے الگ کرنا نہیں بلکہ خاندان کا حصہ تسلیم کرنا ہے۔ ایک گھر میں فیصلے باہمی احترام اور مشاورت سے ہوں تو اختلاف بھی دشمنی نہیں بنتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر عورت کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ کسی کے لیے ملازمت کرنا آسان ہے، کسی کے لیے گھر سے کام کرنا بہتر ہے، اور کسی کے لیے گھر اور بچوں کی ذمہ داری ہی اس کی ترجیح ہوتی ہے۔ اس لیے خودمختاری کا ایک ہی معیار مقرر کرنا مناسب نہیں ہے۔ ہر عورت کی صلاحیت، حالات، ترجیحات اور خاندانی ضرورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ عورت کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے مگر اپنے فرائض سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ اسے اپنے لیے آواز اٹھانا آنا چاہیے مگر دوسروں کی عزت کرنا بھی ہے۔ اسے اپنے فیصلے کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے مگر مشورے کی اہمیت بھی سمجھنی چاہیے۔ اسے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہیے مگر خاندان کو اپنی کامیابی کی راہ میں غیر ضروری بوجھ نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہاں مرد کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ ایک مضبوط خاندان وہ نہیں جہاں صرف مرد فیصلے کرے، بلکہ وہ ہے جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھیں، ایک دوسرے کی صلاحیتوں کا احترام کریں اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوں۔ اگر عورت گھر سے باہر کام کرتی ہے تو گھر کی ذمہ داریاں صرف اسی کے حصے میں ڈال دینا انصاف نہیں ہے۔ اسی طرح اگر مرد معاشی ذمہ داریاں اٹھا رہا ہے تو اس کی محنت اور پریشانیوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔

ہمیں اپنی بیٹیوں کی تربیت اس انداز میں کرنی چاہیے کہ وہ نہ تو اپنے آپ کو کم تر سمجھیں اور نہ ہی آزادی کے نام پر ذمہ داریوں سے فرار کو کامیابی سمجھیں۔ انہیں تعلیم دیں، اعتماد دیں، فیصلے کرنے کی تربیت دیں اور ساتھ یہ بھی سکھائیں کہ رشتے زندگی کی خوبصورتی ہیں۔ اپنی عزت کے ساتھ دوسروں کی عزت کرنا بھی شخصیت کی مضبوطی ہے۔

عورت اگر باشعور، باصلاحیت اور ذمہ دار ہو تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی بلکہ پورے خاندان کی سمت بدل سکتی ہے۔ ایک عورت کی شخصیت کا اثر اس کے بچوں، گھر اور آنے والی نسلوں تک پہنچتا ہے۔ اس لیے عورت کو مضبوط بنانا دراصل خاندان کو مضبوط بنانا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ عورت کو آزادی اور ذمہ داری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اسے ایسا ماحول دیا جائے جہاں وہ اپنے حقوق کو سمجھتے ہوئے، اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کر سکے۔ اسے اپنے خواب دیکھنے کی اجازت ہو مگر وہ خواب خاندان کی خوشیوں کے ساتھ چل سکیں۔ اسے اپنی شناخت بنانے کا حق ہو مگر رشتوں کی عزت بھی برقرار رہے۔

خودمختاری کا مطلب تنہائی نہیں، بلکہ اپنے وجود، اپنے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں کی پہچان ہے۔ جب عورت خود کو پہچان لے، خاندان اسے سمجھے اور معاشرہ اسے عزت دے، تب خود مختاری محض ایک نعرہ نہیں رہتی بلکہ ایک متوازن اور باوقار زندگی کی بنیاد بن جاتی ہے۔