خیمہ نشینوں کی بے بسی،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
آدھی رات کا پچھلا پہر تھا جب اچانک بادلوں کی خوفناک گرج نے مجھے نیند سے بیدار کر دیا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو آندھی، طوفان اور موسلا دھار بارش کا ایک سیلاب تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ کمرے کی پکی چھت پر گرتی بارش کی آواز دل کو سکون دینے کے بجائے ایک عجیب سا خوف پیدا کر رہی تھی۔ بجلی کے ہر کڑکتے جھٹکے کے ساتھ جب میرا اپنا دل دہل جاتا تو دفعتاً میرے ذہن کے پردے پر ان مظلوموں کا خیال ابھرا جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں وہ لوگ جو کھلے میدانوں میں نصب کچے خیموں کے اندر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ سوچ ہی روح کو تڑپا گئی کہ اس بھیانک رات میں ان خیمہ نشینوں پر کیا گزر رہی ہوگی؟تصور کیجیے کہ کپڑے کی ایک معمولی دیوار اور پلاسٹک کی ایک پتلی سی چھت جو نہ تو تیز ہوا کے تھپیڑوں کو روک سکتی ہے اور نہ ہی موسلا دھار برستی بوندوں کے سامنے کوئی ڈھال بن سکتی ہے۔ چند ہی منٹوں میں طوفانی پانی خیموں کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ بستر گیلے ہو جاتے ہیں، بچوں کے تن کے کپڑے بھیگ جاتے ہیں، اور چند دنوں کا جمع کیا ہوا خشک راشن مٹی کے ڈھیر میں بدل جاتا ہے۔ ایک بے بس باپ اندھیرے میں اپنی اولاد کو چھپانے کی جگہ ڈھونڈتا ہےایک سہمے ہوئی ماں اپنے بچوں کو سینے سے لپٹائے خیمے کے کسی ایسے کونے کی تلاش میں تڑپتی ہے جہاں شاید ایک بالشت زمین بھی خشک بچی ہو۔ ان کے پاس رونے کے لیے آنسو تو ہوتے ہیں، لیکن سر چھپانے کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہوتی۔ پانی کی یہ روش تو ایک طرف جب اس اندھیری رات میں آسمانی بجلی کی چمک اور کڑک شامل ہوتی ہےتو یہ بے بسی ایک ہولناک قیامت میں بدل جاتی ہے۔ سائنسی اور ظاہری اعتبار سے کھلے میدانوں میں لگے یہ خیمے جو اکثر لوہے کے کھمبوں کے سہارے کھڑے ہوتے ہیں آسمانی بجلی کے لیے سب سے آسان نشانہ ہیں۔ بجلی کا ہر ایک کڑکتا ہوا جھٹکا ان خیمہ نشینوں کو موت کا پیغام معلوم ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے اور قضا کے درمیان صرف ایک باریک سا کپڑا ہے، جو نہ پانی کا راستہ بدل سکتا ہے اور نہ ہی آسمانی بجلی کے جان لیوا کرنٹ کو روک سکتا ہے۔ معصوم بچے خوف سے چیخ اٹھتے ہیں اور بزرگ اللہ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے امان مانگتے ہیں۔
قرآن مجید کی سورہ الرعد میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وہی ہے جو تمہیں خوف اور امید دلانے کے لیے بجلی کی چمک دکھاتا ہے اور بھاری بادلوں کو پیدا کرتا ہے۔" ہمارے لیے یہ بادل امید کی علامت ہوتے ہیں کہ یہ زمین کو زندگی بخشیں گے۔ خیمہ نشینوں کے لیے یہی بادل سراسر خوف کی ایک بھیانک رات بن جاتے ہیں۔ یہاں یہ سوال دل کو جھنجھوڑتا ہے کہ کیا یہ کڑی آزمائش صرف ان خیموں میں سسکتی ہوئی انسانیت کی ہے؟ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل امتحان ان کا نہیں بلکہ ہمارا ہے جو پکی چھتوں، گرم بستروں اور محفوظ دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر اس طوفان کا نظارہ کر رہے ہیں۔ دینِ اسلام صرف مسجد کے کونے میں تسبیح گھمانے کا نام نہیں بلکہ یہ حقوق العباد کی پاسداری اور اپنے بھائی کے درد کو اپنے سینے میں محسوس کرنے کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا تھاکہ
"مومنین کی مثال ان کی محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہے۔ جب جسم کا کوئی ایک حصہ تکلیف میں ہوتا ہےتو پورا جسم جاگ کر اور بخار میں مبتلا ہو کر اس کا ساتھ دیتا ہے۔" آج اگر ہمارے بھائی، بہنیں اور معصوم بچے کھلے آسمان تلے سسک رہے ہوں تو ہمیں اپنے ایمان کی حقیقت پر غور کرنا ہوگا۔ہمیں زبانی ہمدردی کی لفاظی اور سوشل میڈیا کے کھوکھلے پیغامات سے باہر نکلنا ہوگا۔ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنے اندر نعمتوں کا حقیقی شکرانہ پیدا کریں۔ جب بھی بارش ہو، اپنی پکی چھت پر رب کا شکر ادا کریں اور اپنے مال میں سے ان کا حصہ نکالیں جن کے پاس یہ نعمت موجود نہیں۔ ہمیں اپنے صدقات اور زکوٰۃ کو ان فلاحی اداروں تک پہنچانا ہوگا جو ان مظلوموں کے لیے واٹر پروف خیمے اور پکے مکانات کی تعمیر کا انتظام کر رہے ہیں۔یہ طوفانی رات یہ کڑکتی بجلی اور خیموں میں سسکتی ہوئی انسانیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ خیموں میں رہنے والے اگر صبر کریں گے تو ان کا اجر رب کے ہاں عظیم ہے اگر ہم نے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود اپنی آنکھیں بند رکھیں تو کل قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں ہمارا محاسبہ بہت سخت ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان خیمہ نشینوں کا سہارا بنیں اگر ہم کچھ دینے کے قابل نہیں ہے تو ان کے لیے جیسے ممکن ہو آواز بنیں اور ان کی تاریک، خوفناک راتوں میں امید کا ایک دیا روشن کریں۔
مزید پڑھیں





