Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خوراک برائے شفائے موٹاپا،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

طبی تاریخ کے عظیم مفکر بقراط کا یہ ازلی فرمان آج کے مشینی اور پرآسائش دور میں ایک نایاب نسخہ کیمیا کی حیثیت رکھتا ہے کہ تمہاری خوراک ہی تمہاری دوا ہونی چاہیے اور دوا تمہاری خوراک۔ دورِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص جسم پر چڑھتی ہوئی فالتو چربی کے بوجھ سے نجات پانے کی ٹھان لیتا ہے، تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال فاقہ کشی کا آتا ہے۔ اشتہاری جادوگر اور خود ساختہ ماہرین انسان کو اپنے ہی جسم سے بھوک کی جنگ لڑنے پر اکساتے ہیں، حالانکہ پیٹ پر قفل لگا دینا موٹاپے سے نجات کا سائنسی راستہ نہیں بلکہ خود کشی کے مترادف ہے۔ جب انسان فاقے کا عذاب سہتا ہے تو انسانی خلیات اسے قحط کی کیفیت سمجھ کر توانائی خرچ کرنے کی اندرونی رفتار یعنی بنیادی میٹابولزم کو سست ترین سطح پر لے جاتے ہیں تاکہ جسم میں موجود چربی کو بقا کے نام پر محفوظ رکھا جا سکے۔ اس عارضی بھوک سے جو وزن گرتا دکھائی دیتا ہے، وہ درحقیقت چربی کا زوال نہیں ہوتا بلکہ قیمتی پٹھوں کا انحطاط اور جسم کے قدرتی پانی کا ضیاع ہوتا ہے۔ جونہی فاقے کا یہ کڑا حصار ٹوٹتا ہے تو سست نظام کے سبب وزن پہلے سے زیادہ برق رفتاری سے پلٹ آتا ہے، جسے طب کی دنیا میں پلٹ وار یا اچھلتا وزن کہا جاتا ہے۔

اس فرسودہ سوچ کے برعکس دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ خوراک کو جسم کا دشمن سمجھنے کے بجائے اسے ایک فعال اور قدرتی شفابخش غذا کے طور پر برتا جائے۔ جیسے ایک مستند معالج کسی مرض کے علاج کے لیے دوا کی درست خوراک، نوعیت اور وقت کا تعین کرتا ہے، بالکل اسی طرح دسترخوان پر سجی ہوئی کھانے کی پلیٹ بھی ایک باقاعدہ نسخہ شفا ہے۔ موٹاپے کی اصل جڑ دراصل انسولین کی مزاحمت ہے، جس میں لبلبے سے خارج ہونے والی اضافی انسولین جسم کو صرف چربی ذخیرہ کرنے والی مشین بنا کر رکھ دیتی ہے اور چربی گھلانے کے تمام قدرتی راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ اس خرابی کے علاج کے لیے ہمارے پاس سب سے بڑی دوا قدرتی غذائی ریشہ یعنی فائبر ہے۔ باریک سفید میدے اور سفید چینی کے زہر کو روزمرہ زندگی سے نکال کر جب ہم اپنی غذا میں جو کا دلیہ، چھان ملا دیسی آٹا اور باجرہ شامل کرتے ہیں، تو ان میں موجود قدرتی لیس دار اجزا خون میں شکر کے بہاؤ کو اعتدال بخشتے ہیں اور چربی بننے کے تیز رفتار عمل کو فوری بریک لگاتے ہیں۔ کھانے سے چند لمحے قبل اسپغول کے چھلکے کا پانی کے ساتھ استعمال معدے میں ترپتی کا ایسا فطری احساس دلاتا ہے جو بے وقت کی طلب کو خاموش کر دیتا ہے۔

غذا کے ذریعے موٹاپے کا علاج اس وقت مزید تیز ہو جاتا ہے جب ہم اپنی روزمرہ خوراک میں حرارت بخش اور چربی پگھلانے والے اجزا کو بطور دوا شامل کرتے ہیں۔ یہ وہ قدرتی نعمتیں ہیں جو جسم کے اندرونی حرارتی نظام کو بیدار کر کے کیلوریز جلانے کی صلاحیت کو تیز کرتی ہیں۔ ادرک میں موجود حرارت پیدا کرنے والے عناصر اور لہسن کے قدرتی حیاتین نہ صرف جگر پر جمی چربی کو زائل کرتے ہیں بلکہ خون کی نالیوں کی سوزش کو بھی دھو ڈالتے ہیں۔ دار چینی خون میں انسولین کے جذب کرنے والے خلیات کو دوا کی طرح متحرک کرتی ہے، جبکہ سیب کا قدرتی سرکہ معدے کی تیزابیت درست کر کے چکنائی کے انجماد کو توڑتا ہے۔ اسی طرح دیسی انڈوں، دالوں، لوبیا اور مچھلی میں موجود معیاری لحمیات یعنی پروٹین خوراک کا وہ اہم ترین جزو ہے جو غذا کو ہضم کرنے کے دوران جسم کی حرارتی توانائی کے خرچ کو بڑھاتا ہے۔ پروٹین کے یہ قدرتی ذرائع ایک طرف تو بھوک بڑھانے والے ہارمون کے منہ پر تالا لگاتے ہیں اور دوسری طرف پٹھوں کی ساخت کو محفوظ رکھ کر آرام کی حالت میں بھی چربی پگھلانے کی رفتار برقرار رکھتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں، کچی سلاد، کھیرا، بند گوبھی اور مولی درحقیقت جسم کے باقاعدہ قدرتی صفائی کار ہیں۔ ان میں موجود قدرتی سبز مادہ، حیاتین اور وافر معدنیات آنتوں کے دوست اور مفید جراثیم کو طاقتور بناتے ہیں، جس سے سوجن پیدا کرنے والے نقصان دہ کیمیکلز کا اخراج ممکن ہوتا ہے اور جسم میں رکا ہوا فالتو پانی باہر نکل جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خوف بھی ذہن سے کھرچ دینا چاہیے کہ تمام چکنائیاں بری ہوتی ہیں۔ شریانوں کو بند کرنے والے بازاری بناسپتی گھی کے مقابلے میں زیتون کا خالص تیل، سرسوں کا تیل، السی کے بیج اور اخروٹ مفید چکنائیوں کا خزانہ ہیں جو خلیات کی اندرونی سوزش کا خاتمہ کرتے ہیں اور پیٹ کے گرد جمی خطرناک اندرونی چربی کو تحلیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس پورے علاجی عمل کو بارآور بنانے کے لیے دن بھر کا ایک فطری اور متوازن نظام الاوقات ناگزیر ہے۔ صبح کا آغاز نیم گرم پانی، لیموں کے چند قطرے اور ایک چٹکی دار چینی کے سفوف سے کیا جائے تاکہ میٹابولزم کا بند انجن اسٹارٹ ہو سکے، جس کے بعد جو کے دلیے یا جو کی روٹی اور ابلے ہوئے انڈے پر مشتمل غذائیت سے بھرپور ناشتہ لیا جائے۔ دوپہر کے کھانے کو سلاد کے تازہ پتوں، کھیرے اور دال یا ابلے چنوں سے مزین کیا جائے، جبکہ شام کی سستی بھگانے کے لیے بغیر دودھ کی چائے، سبز چائے اور مٹھی بھر بادام یا بھنے چنے کا سہارا لیا جائے۔ رات کا کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے قبل انتہائی ہلکا اور زود ہضم رکھا جائے، جس میں موسمی سبزیوں کا گرم شوربہ شامل ہو۔ دن بھر ڈھائی سے تین لیٹر پانی پینا اور رات کو سونے سے قبل سونف یا زیرے کا جوشاندہ معدے اور آنتوں کی صفائی کا حتمی نسخہ ہے۔ جب ہم فاقہ کشی کے اذیت ناک راستے کو ترک کر کے دانشمندانہ غذائی تدبر، مناسب نیند، ذہنی سکون اور چہل قدمی کو اپنی حیات کا جزو بنا لیں گے، تو خوراک خود بخود ایک کامل دوا بن کر جسم کو نئی چستی، ہلکا پن اور دائمی شفا عطا کر دے گی۔