پریشانیوں کے زخموں پر وقت کا مرہم،تحریر : ظفر اقبال ظفر
نقطہ نظر
پریشانی نے میری زندگی کے کئی برس نگل لیے،جو قیمتی اور باآوربرس ہوتے ہیں،اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی وجہ سے نہیں بلکہ میری اپنی حماقت سے ضائع ہوئے۔
ہر چیز کے متعلق پریشان رہنے والا،اپنے کام، صحت،خاندان،اور اپنے احساس کمتری کے متعلق اس قدر خوفزدہ رہا ہوں کہ جان پہچان کے لوگوں سے پہلوبچاتا اور سامنے آنے والوں کو نہ دیکھنے کا بہانہ بنا کر رستہ کاٹ جاتا،کیونکہ میں بے رُخی کے برتاؤ کے اظہار سے ڈرتا تھا،اجنیوں سے ملتے وقت گھبراتا تھا،لوگوں میں انفرادی و اجتماعی طور پر جگہ نہیں بنا پاتا تھا،اپنے خیال کے مطابق نہیں کر پاتا تھااور پھر قوت خوداعتمادی پر غالب اس کیفیت سے آزاد ی نئی زندگی کی شروعات بنی اور زندگی کاٹنا زندگی جینے میں بدل گیا۔
ایک ایساشخص ملا جو مجھ سے زیادہ مشکلات و مصائب میں گرفتار تھالیکن اس کی پیشانی پر زرا بھی بل نہیں تھا،میں نے اس جیسے مسرور،خوش باش، انسان کم ہی دیکھے ہوں گئے،اس نے خوب پیسا کمایا تھا جو ضائع ہو گیااک مدت کے بعد اس کی قسمت کا ستارہ پھر چمکا اور اس کے وارے نیارے ہو گئے لیکن وہ پھر برے دنوں میں مبتلا ہو گیا،دیوالیہ نکلنے کے بعد اس کے دشمن،قرض خواہ ہر وقت کتوں کی طرح اس کے پیچھے پھرنے لگے۔اتنی مشکلات کسی کمزور دل انسان کو پیش آتیں تو وہ ہمت ہار دیتا اور گھبرا کر خودکشی پر آمادہ ہو جاتامگر اس شخص پر مشکلات ایسے گزر رہی تھیں جیسے بطخ کے سر سے پانی۔
اس کو دیکھ میں خدا سے دُعا مانگ رہا تھا کہ اے خدایا تو مجھے بھی ایسا ہی بنا دے۔ہماری گفتگو کے دوران اس نے ایک خط میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا اسے پڑھیے۔یہ خط غصے اور تلخی سے بھرا ہوا تھااس میں بے شمار پیچیدہ اور اُلجھے ہوئے سوال اُٹھائے گئے تھے جو مجھے ملتا تو میں ضرور چکر میں پڑ جاتا کہ کیا کروں کیا نہ کروں۔میں نے اس سے پوچھا آپ اس کا کیا جواب دیں گے؟اس نے کہا اچھا سنو،تمہیں ایک چھوٹے سے راز کی خبر دیتا ہوں،اگلی دفعہ جب تمہیں کوئی بات پیش آئے جو فی الواقع پریشان کن ہو،ایک پنسل اور کاغذ کا پرزہ لے کر بیٹھ جاؤ اور پوری تفصیل لکھوکہ تم پریشان کیوں ہو۔پھر اس کاغذ کے پرزے کو اپنی میز کی داہنی دراز میں رکھ دو۔دو ہفتوں بعد اس کاغذ کے پرزے کو نکال کر دیکھنا یہ بالکل محفوظ ہوگا اس کا کچھ نہیں بگڑے گا،لیکن اس عرصے کے دوران میں جو مسئلہ تمہیں پریشان کر رہا ہے اس کے ساتھ بہت کچھ گزر سکتی ہے میں نے اکثر یہی دیکھا ہے کہ اگر زرا بھی صبر و تحمل سے کام لوں تو جس پریشانی سے میں عاجز آ رہا ہوں،وہ کاغذی غبارے کی طرح خود بخود منہدم ہو جاتی ہے۔
ایک کاغذ کے پرزے پر آپ اپنی پریشانیاں لکھ دیں بلکہ جتنی بھی بڑی چھوٹی پریشانیاں لکھ سکتے ہیں لکھ لیں اور اسے کچھ ہفتوں کے لیے کہیں رکھ دیں جب نکال کر دیکھیں گے تو اس کاغذ کا کچھ بھی بگڑا نہیں ہوگا،اور ہم تقدیر میں لکھے کچھ مسائل میں مبتلا ہوتے ہیں تو پورا بندہ اس کے حوالے کرکے زندگی کی توہین کرتے ہیں،ہم جی رہے ہیں تو کئی ہمارے ہماری وجہ سے بھی جی رہے ہیں ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی وجہ بھی تم ہو آنسو پونچھنے والا رومال بھی تمہارا ہی ہاتھ ہے۔مجھے مسائل و پریشانی سے تحریر کاغذ کے ایک پرزے نے سمجھایا کہ اگر تم اسے ریز نہیں کر سکتے تو ثابت قدم رہو یہ وقت کی دھول تلے آ کر اپنی پہچان سے محروم ہو جائیں گئے،پھر یہ کبھی یاد کرنے پہ یاد تو آئیں گے مگر ہر وقت تلخ یاد بن کر دماغ پر مسلط نہیں رہیں گے۔میں اس چھوٹی سی متاثر کن نصیحت کو آپ کی عدالت شعور میں پیش کر رہا ہوں کیا پتا آپ کو سوچ کاسلیقہ مل جائے جو پریشانیوں کے اثرات کم یا ختم کرکے حل پر حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد کرئے اور آپ ناخوشگوارحالات پر قابو پا لیں۔وقت اُن بے شمار مسئلوں کا حل ہے جن کے متعلق آپ آج پریشان ہیں۔
مزید پڑھیں

کیا مرد ظالم ہے؟ تحریر: سید آزاد گیلانی

کاہنہ میں مبینہ پولیس مقابلہ، 2 ملزمان ہلاک



