تعلیم انسان کی زندگی میں صرف کتابیں پڑھ لینے، امتحان پاس کر لینے یا کسی تعلیمی ادارے سے ڈگری حاصل کر لینے کا نام نہیں۔ تعلیم دراصل انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، درست اور غلط میں فرق کرنے اور اپنے علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لانے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اگر تعلیم انسان کے رویے، کردار اور سوچ میں بہتری پیدا نہ کرے تو پھر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ہم تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا صرف ڈگریاں جمع کر رہے ہیں؟ آج ہمارے معاشرے میں یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیوں کہ تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے مگر کیا اسی تناسب سے شعور، برداشت، اخلاق اور ذمہ داری بھی بڑھی ہے؟
ہم نے تعلیم کو کامیابی کا ایک ایسا پیمانہ بنا دیا ہے جس میں ڈگری سب سے نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ والدین بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر وسائل خرچ کرتے ہیں بچے برسوں کتابوں اور امتحانات کے مراحل سے گزرتے ہیں اور آخرکار ہاتھ میں ایک سند آ جاتی ہے۔ یہ سند بلاشبہ اہم ہے کیوں کہ کسی شعبے میں مہارت اور پیشہ ورانہ اہلیت کے لیے باقاعدہ تعلیم ضروری ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ڈگری کو علم کا آخری درجہ سمجھ لیا جائے۔ ایک شخص کئی ڈگریاں رکھنے کے باوجود اگر دوسروں کی عزت نہ کر سکے، اختلاف برداشت نہ کر سکے، جھوٹ اور دھوکے کو معمول سمجھتا ہو اور اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرے تو اس کی تعلیم پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
حقیقی تعلیم انسان کے اندر شعور پیدا کرتی ہے۔ شعور صرف یہ جاننے کا نام نہیں کہ کتاب میں کیا لکھا ہے بل کہ یہ سمجھنے کا نام ہے کہ اس علم کا زندگی سے کیا تعلق ہے؟ ایک باشعور انسان اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کو بھی سمجھتا ہے۔ وہ آزادی کو ذمہ داری سے الگ نہیں کرتا، اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا اور تنقید کو اپنی توہین تصور نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ معاشرہ صرف حکومت، اداروں یا قوانین سے نہیں بنتا بل کہ ہر فرد کے کردار سے تشکیل پاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم ڈگری سے آگے بڑھ کر شخصیت سازی کا ذریعہ بنتی ہے۔
آج کے دور میں معلومات حاصل کرنا پہلے کی نسبت بہت آسان ہو گیا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا بھر کے واقعات، تحقیقات، نظریات اور معلومات ہماری اسکرین پر موجود ہوتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے بھی معلومات تک رسائی کے امکانات کو مزید وسیع کر دیا ہے لیکن معلومات کی فراوانی لازماً شعور کی ضمانت نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم جو کچھ پڑھ رہے ہیں، اسے کس طرح سمجھتے ہیں؟ کیا ہم ہر خبر کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیتے ہیں؟ کیا ہم جدید ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والی ہر بات آگے بڑھا دیتے ہیں؟ کیا ہم اختلافی رائے سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں اپنی تعلیمی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو سوال کرنا سکھاتی ہے۔ سوال علم کے دروازے کھولتے ہیں، جب کہ اندھی تقلید ذہن کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو صرف یاد کرنے، لکھنے اور نمبر حاصل کرنے پر زور دے، وہ شاید امتحان میں کامیابی دلا دے، مگر زندگی کے بڑے امتحانات کے لیے انسان کو مکمل طور پر تیار نہیں کر سکتا۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ کتاب میں موجود معلومات اہم ہیں مگر ان معلومات کو سمجھنا، ان پر غور کرنا اور انہیں درست تناظر میں استعمال کرنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہم بچوں کی کامیابی کو اکثر صرف ان کے پیشے اور آمدنی سے ناپتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، افسر یا کسی بڑے ادارے کا ملازم ہونا کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن ایک اچھا انسان ہونا بھی کامیابی کا اہم ترین حصہ ہے۔ اگر تعلیم یافتہ افراد اپنے گھروں میں بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، خواتین کا احترام، کم زوروں کے ساتھ ہمدردی اور معاشرتی ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں تو پھر ہماری تعلیمی ترقی ادھوری رہ جاتی ہے۔ قومیں صرف بڑے عہدوں پر بیٹھے افراد سے نہیں بنتیں، بل کہ ان عام شہریوں سے بنتی ہیں جو اپنے حصے کی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ کا کردار بھی اسی حوالے سے نہایت اہم ہے۔ استاد صرف نصاب مکمل کرنے والا شخص نہیں، بل کہ نسلوں کی فکری تربیت کرنے والا رہنما ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد طالب علم کو صرف جواب نہیں دیتا، بل کہ اسے سوال کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ وہ طالب علم کے ذہن میں تجسس، تحقیق، برداشت اور دلیل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ اسی طرح والدین کی ذمہ داری بھی صرف بچوں کو اسکول بھیجنے تک محدود نہیں۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ ہے جہاں وہ کتاب سے پہلے اپنے بڑوں کے رویے سے سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں جھوٹ، بدتمیزی، عدم برداشت اور ناانصافی معمول ہو تو محض نصابی تعلیم بچے کی شخصیت کو مکمل نہیں بنا سکتی۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ شعور کسی ایک امتحان، ایک ڈگری یا ایک عمر کا محتاج نہیں۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے۔ انسان جتنا پڑھتا، دیکھتا، سنتا اور تجربہ کرتا ہے اتنا ہی اس کے سامنے اپنی کم علمی کا احساس بھی واضح ہوتا جاتا ہے۔ حقیقی علم انسان کو متکبر نہیں بل کہ متواضع بناتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بہت وسیع ہے اور اس کے علم کی حدود بہت محدود۔ یہی احساس انسان کو مزید سیکھنے، دوسروں سے استفادہ کرنے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری تعلیمی ترجیح کیا ہے: صرف ڈگری یا شعور؟ یقیناً ڈگری کی اپنی اہمیت ہے اور جدید زندگی میں پیشہ ورانہ تعلیم ناگزیر ہے، لیکن ڈگری کو تعلیم کا مکمل متبادل سمجھنا درست نہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد ایک ایسا انسان تشکیل دینا ہے جو علم رکھتا ہو، شعور رکھتا ہو، کردار رکھتا ہو اور اپنے علم کو انسان اور معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو۔
سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنی ڈگریاں ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ان ڈگریوں نے ہمیں کتنا انسان بنایا ہے؟ اگر ہماری تعلیم ہمارے الفاظ میں شائستگی، ہمارے رویے میں برداشت، ہمارے فیصلوں میں دیانت اور ہماری زندگی میں ذمہ داری پیدا کر رہی ہے تو ہم واقعی تعلیم یافتہ ہیں۔ لیکن اگر علم صرف فائلوں میں محفوظ اسناد اور دیواروں پر لگی ڈگریوں تک محدود ہے تو ہمیں رک کر سوچنا ہو گا کیوں کہ معاشرے کو صرف ڈگری یافتہ افراد نہیں، باشعور، باکردار اور ذمہ دار انسان درکار ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں






